ہانڈی والی مسجدمیں علماء کی میٹنگ ۔ نتیش کمار ،چندرا بابونائیڈو اوردیگر لیڈران کوان کی ذمہ داری یاد دلائی ، کہا : ورنہ مسلمان انہیں سبق سکھائیں گے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 10:00 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ہانڈی والی مسجدمیں علماء کی میٹنگ ۔ نتیش کمار ،چندرا بابونائیڈو اوردیگر لیڈران کوان کی ذمہ داری یاد دلائی ، کہا : ورنہ مسلمان انہیں سبق سکھائیں گے۔
’سیکولر جماعتیں وقف بل ۲۰۲۴ء رکوائیں،اوقات کی املاک ہڑپنے کے مقصد سے لائے جانے والے اس بل کو کسی صورت پاس نہ ہونے دیں ورنہ مسلمان انہیںسبق سکھائیں گے۔‘‘ وقف ترمیمی بل کے خلاف ہانڈی والی مسجد میں منگل کو علماء کی میٹنگ ہوئی جس میں علماء نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابونائیڈو اوردیگر سیاسی لیڈران کوان کی ذمہ داری یاد دلائی اورسخت انتباہ بھی دیا۔واضح رہے کہ آج یہ متنازع بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
میٹنگ میں رضا اکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’ یہ وقف بل اصلاح کیلئے نہیں بلکہ وقف املاک پر قبضہ کرنے اور اس کو ہڑپ کرنےکے مقصد سے لایا جارہا ہے۔یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یہ خطرناک بل آئین کی روح کے خلاف اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میںکھلی دخل اندازی ہے۔دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ حالات ان کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں۔اس لئے خاص طورپرنتیش کمار ،چندرا بابو نائیڈ اورچراغ پاسوان اور دیگر سیکولر سیاسی لیڈران اپنی ذمہ داری محسوس کریں اورکھل کرمخالفت کرتے ہوئے اسے پاس نہ ہونے دیں ورنہ مسلمان انہیں معاف نہیںکرے گا اوروقت آنے پران لیڈران کو سبق بھی سکھائے گا۔‘‘
ہانڈی والی مسجد کے خطیب و امام مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ’’ وقف اراضی ہمارے آباء و اجداد کی ملکیت ہے اوریہ خدا کی امانت ہے، اس کا تحفظ ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔اس کیلئے ہم ہرطرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ مودی حکومت نے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کیلئے ایک طرف تو عید پر’ سوغاتِ مودی‘ کے نام راشن کٹ دی اور دوسری جانب وقف املاک پر جبراً قبضہ کرنے کیلئے قانون بھی تھوپ رہی ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مودی حکومت انگریزوں کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔‘‘ ’تحریک درود و سلام‘ کے سربراہ مولانا محمد عباس رضوی نے کہا کہ’’سیکولر پارٹیوں کے لیڈران آج آئین کو بچانے کیلئے مودی حکومت کے خلاف متحد ہو جائیں ورنہ نہ توتاریخ انہیںمعاف کرے گی اورنہ ہی ملک کا مسلمان کبھی ان کےدوغلے کردار کوفراموش کرسکےگا، وقت آنے پر وہ اپنا فیصلہ ضرور سنائے گا۔‘‘ مفتی سلطان رضانے کہاکہ ’’آج ان سیکولرجماعتوں کا امتحان ہے جو خود کو مسلمانوں کے ووٹوں کا ٹھیکیدار سمجھتی ہیں، وقف بل پر ان کے موقف سے آج یہ صاف ہوجائے گا کہ ان کااصل چہرہ کیا ہے ۔‘‘ مولانا طاہر القادری نے کہاکہ ’’ سیکولر جماعتیں منافقت کے بجائے عملاً یہ ثابت کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں سیکولر ہیں، ورنہ مسلمان بھی ان کواسی اندازمیںیاد رکھے گا ۔‘‘ مولانا نظام الدین نے کہاکہ’’ آج سیکولر جماعتوں کا امتحان ہے ، دیکھناہوگا کہ ان کا حقیقی چہرہ کیا ہے ۔‘‘مولانا اعجاز القمرنے کہاکہ ’’ وقف کی ملکیت مسلمانوں کی اپنی ملکیت ہے اور اس کاحقیقی مالک خالق ارض وسماء ہے۔ مودی حکومت کے بل لانے کا مقصد واضح ہے اسی لئے اس کی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے۔ مسلمان اس بل کے خلاف اپنی جد وجہد جاری رکھیںگے۔‘‘ اس میٹنگ میں بڑی تعداد میں علماء اورائمہ مساجد موجود تھےاورسبھی نے اس بل کی شدت سے مخالفت کی اورمودی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اس سے باز رہے۔