بےروزگاری کے آثار، ایچ پی بھی ۶؍ ہزار ملازمین کو نکالنے کے درپے

Updated: November 24, 2022, 11:06 AM IST | Agency | Washington

ٹویٹر، فیس بک اور ایمیزون کے بعد لیپ ٹاپ بنانے والی مشہور کمپنی کا بھی اپنے اسٹاف میں تخفیف کا اعلان ، سال در سال آمدنی میں ہونے والی کمی اور عالمی سطح پر ممکنہ مندی کے پیش نظر اقدام

Picture.Picture:INN
کورونا ختم ہونے کے بعد لیپ ٹاپ کی فروخت میں کمی آئی ہےجس کا اثر کمپنی کی آمدنی پر پڑا ہے۔ تصویر :آئی این این

 ایک بار پھر عالمی سطح پر مندی اور بے روزگاری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ دنیا کی مشہور کمپنیاں اپنے ملازمین کی تعداد میں مسلسل تخفیف کا اعلان کر رہی ہیں۔ ٹویٹر، میٹا( فیس بک) اور گوگل پہلے ہی بڑے پیمانے پر اپنے ملازمین کو نکالنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب اس میں لیپ ٹاپ بنانے والی مشہور کمپنی ایچ پی کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ ایچ پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے یہاں سے ۶؍ ہزار ملازمین کی چھٹی کرنے جا رہی ہے۔ فی الحال کمپنی میں ۵۰؍ ہزار لوگ کام کر رہے ہیں نکالے جانے والوں کی تعداد ۱۲؍ فیصد کے آس پاس ہے۔   واضح رہے کہ ایچ پی نے مالی سال ۲۰۲۲ء  میں اپنی فل ایئر رپورٹ  میں یہ اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ کورونا کے دوران تمام کاروبار بند تھے لیکن لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی فروخت میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ اس دوران ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کا چلن متعارف ہوا تھا۔ لیکن اس بیماری کے چلے جانے کے بعد دوبارہ  ان آلات کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ اسی بنا پر ایچ پی نے اپنے ملازمین کی تعداد میں تخفیف کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مختلف کمپنیوں میں ملازمین کی تخفیف کے فیصلوں کا سبب عالمی بازار میں مندی کا خدشہ بھی ہے۔  
  آمدنی میں سال در سال کمی
 کمپنی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ۲۰۲۲ء کی تیسری سہ ماہی میں اس کی آمدنی میں۰ء۸؍ فیصد کم ہوئی ہے۔ اب اس کی خالص آمدنی ۱۴ء۸۰؍ بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ پرسنل سسٹم  میں ۱۳؍ فیصد کی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے اس سیکٹر میں اس کی آمدنی ۱۰ء۳؍ بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ جبکہ پرنٹنگ سسٹم کی آمدنی میں ۷؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کی آمدنی ۴ء۵؍ بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ دراصل مندی کے خوف کی وجہ سے بیشتر کمپنیاں اپنا اسٹاف کم کر  رہی ہیں۔   واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی گوگل نے اپنے ۱۰؍ ہزار ملازمین کو گھر بھیجنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ 
گوگل نے ۱۰؍ ہزار لوگوں کو نکالنے کا حکم جاری کیا ہے 
 گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ  تقریباً ۱۰؍ ہزار خراب یا کم کارکردگی دکھانے والے ملازمین یا اس  کی ۶؍فیصد افرادی قوت کو فارغ کرنے کی تیاری کر  رہی ہے۔ یہ قدم ایکٹیوسٹ ہیج فنڈ کے دباؤ، مارکیٹ کے ناموافق حالات اور اخراجات کو کم کرنے کی ضرورت کے تحت اٹھایا جارہا۔   مینیجرس سے کہا گیا ہے کہ وہ ۶؍ فیصد ملازمین یا تقر یباً ۱۰؍ ہزار ملازمین کی کاروبار پر ان کے اثرات کے لحاظ سے کم کارکردگی دکھانے والوں کے طور پر درجہ بندی کریں۔ ہیج فنڈ کے ارب پتی کرسٹوفر ہون نے الفابیٹ کو لکھے گئے خط میں دلیل دی ہے کہ کمپنی میں ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کے سرمایہ کار نےیہ بھی بتایا ہے کہ اس کے ملازمین کو دوسری ڈیجیٹل کمپنیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ہون کا دعویٰ ہے کہ کمپنی میں اسٹاف کی تعداد  ضرورت سے زیادہ ہے اور موجودہ کاروباری ماحول کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت سے کم معاوضہ والے ماہرین کے ساتھ سرچ انجن کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ یو ایس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی رپورٹ کے مطا بق ۲۰۲۱ء میں الفابیٹ کے ملازم کی اوسط تنخواہ تقریباً ۲۹۵ء۸۸۴؍ ڈالر تھی۔ تنخواہ مائیکروسافٹ نے اپنے عملے کو ۷۰؍ فیصد سے زیادہ ادا کی۔ الفابیٹ نے اپنے ملازمین کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ۲۰؍ سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے ملازمین سے ۱۵۳؍ فیصد زیادہ ادائیگی کی۔  انفارمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل ایک نئی درجہ بندی اور کارکردگی میں بہتری کے منصوبے کے ذر یعے ۱۰؍ ملازمین کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک نیا پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم مینیجرس کی مدد کر سکتا ہے جو اگلے سال کے اوائل سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہزاروں ملازمین کو باہر نکال دیا جائے گا۔ مینیجرس ریٹنگ کو بونس اور اسٹاک گرانٹ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
  دیگر کئی کمپنیاں بھی چھٹنی کا اعلان کر چکی ہیں
  یاد رہے کہ اس سے قبل دنیا کے سب سے دولتمند شخص ایلون مسک نے ٹویٹر کو خریدنے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر اسٹاف  میں تخفیف کا اعلان کیا تھا۔ شروع میں کہا گیا تھا کہ ٹویٹر اپنے ۷۵؍ فیصد ملازمین کو نکال دے گا لیکن خیر سے فی الحال صرف ۲۵؍ فیصد لوگوں کو نکالا گیا ہے۔ فیس بک جس کا نام میٹا ہے اس کے مالک مارک زکربرگ کی دولت بھی روزانہ کم ہو رہی ہے اور وہ مسلسل اپنے ملازمین کو کام سے نکالتے چلے جا رہے ہیں۔  ایمیزون  نے صرف ایک ماہ قبل اب تک کی سب سے بڑی چھٹنی کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بہت سے اخراجات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا واحد راستہ اسے نظر آ رہا ہے کہ وہ اپنے اسٹاف کو کم کر دے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ساری تگ ودو  مستقبل قریب میں عالمی سطح پر نظر آنے والی مندی کے سبب ہے۔ اس کا خدشہ سال کی شروعات ہی میں ظاہر کر دیا گیا تھا جب روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا تھا اور عالمی بازار میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ فی الحال  یہ جنگ اور مندی دونوں   طول پکڑتے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK