اسکول اچانک بندکرنے سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو

Updated: January 14, 2022, 9:05 AM IST | saadat khan | Mumbai

تعلیمی تنظیموں کا ماننا ہے کہ ریاست بھر میں جن علاقوں میں کورونا کا اثر کم ہے یانہیں ہے ، ان علاقوںکے اسکولوںکو بندنہیں کرناچاہئے تھا

Educational organizations and parents want schools to reopen in the same way. File photo
تعلیمی تنظیمیں اور والدین چاہتے ہیں کہ اسکول دوبارہ اسی طرح کھل جائیں۔ فائل فوٹو

 تعلیمی تنظیموں کےمطابق ریاستی حکومت نے اسکولو ںکو بندکرنےکے فیصلہ میں جلدبازی کی ہے ۔ جن علاقوں میں کورونا کا اثر کم  ہے یا بالکل نہیں ہے ،ان علاقوں کے  اسکول بندنہیں کرنے چاہئے تھے۔ حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرےاور ان علاقوں میں  جلد ازجلد اسکول شروع کرنےکی اجازت دی جائے۔ 
 تعلیمی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اسکولوں کو فوراً بندکرنےکافیصلہ نہ لیتےہوئےضلع کے حالات کاجائزہ لینے اور مقامی عہدیداران کے فیصلہ پر اسکولوںکو بند یاجاری رکھنےکا فیصلہ کیاجاناچاہئے تھاتاکہ ان علاقوںمیں جہاں کوروناکااثر کم یانہیں ہے وہاں کے اسکول جاری رہتےاور طلبہ کا تعلیمی نقصان نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں جلد ہی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیف سیکریٹری کو تجویز پیش کی جائے گی ۔ یہ اطلاع ریاستی وزیر مملکت بچو کڑو نے دی ہے ۔  
 انہوںنے یہ بھی کہاکہ’’ کوروناکے کیسزمیں اضافہ کی وجہ سے حکومت نے ۱۵؍فروری تک اسکول اور کالجوںکو بندکرنےکافیصلہ طلبہ کے تحفظ کے تئیں کیاہے لیکن جن دیہی علاقوںمیں کورونا کا اثر کم یانہیں ہے ،وہا ں کے اسکولوں کو مقامی عہدیداران کی اجازت اور طلبہ کے والدین سے حلف نامہ لے کر جاری رکھنےمیں کوئی ہرج نہیں ہے۔  انہوںنے بتایاکہ ’’ طلبہ کےتحفظ کےپیش نظر حکومت نے اسکول بندکرکے آن لائن پڑھائی جاری رکھنےکی اجازت دی ہے مگر جن اضلاع بالخصوص دیہی علاقوںمیں کوروناکی شکایت نہیں ہے وہاں کے طلبہ اور ان کے والدین اسکول بندکئے جانےکے خلاف ہیں۔گزشتہ ۲؍سال سے اسکول بندتھے  اور دوبارہ کھلنے کے بعد اب   اچانک  اسکول  بند کردئیے گئے   جس سے دیہی علاقوںکے طلبہ اور والدین ناخوش ہیں ۔‘‘
آئیٹا نے وزیراعلیٰ کو مکتوب روانہ کیا
 تعلیمی تنظیم آئیٹا نے بھی اس تعلق سے وزیر اعلیٰ اُدھوٹھاکرے کومکتوب روانہ کیااور اچانک اسکولوںکو بندکرنےکےفیصلہ کوغیر مناسب قرار دیاہے۔ ساتھ ہی اپیل کی ہے کہ جن علاقوںمیں کورونا کا اثر نہیں ہے وہان  اسکول شروع کئے جائیں۔ ابھی کچھ دن قبل اسکول شروع کئے گئے ،پھر اچانک بندکردیئے گئے جس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہاہے ۔شہری علاقےکےوالدین اور سرپرست اپنے بچوںکو آن لائن تعلیم کیلئے درکار سہولیات فراہم کرسکتے ہیں مگر دیہی علاقوںکے والدین کیلئے یہ  مشکل ہے ۔ اس لئے بالخصوص دیہی علاقوں کی اسکولوں کو شروع کرنےکی اجازت دی جائے ۔‘‘
اردو شکشک سنگھ نے وزیراعلیٰ اور وزیرتعلیم سے   اسکول بند کےفیصلے پر نظر ثانی کی  اپیل کی 
 اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ سے  اسکولوںا ور کالجوں کے بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنےکی اپیل کی ہے۔ابھی ۲۔۳؍ مہینے قبل باقاعدہ درس و تدریس کا عمل شروع ہوا تھا۔ بہترین تعلیمی ماحول بن گیا تھالیکن اچانک اسکول و کالج  بند کرنے سے طلبہ کی پڑھائی پھر متاثرہورہی ہے ۔ والدین سوشل میڈیا و دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ناراضگی کا اظہار کررہےہیں۔  لہٰذا اسکولیں بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور اسکول کھولے جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK