عدالت عظمیٰ نے ۲۰۲۱ء میں الٰہ آباد کی بلڈوزر کارروائی کے معاملے میں کہا کہ ’’مکانوں کا انہدام غیر آئینی تھا، رائٹ ٹو شیلٹر نام کی بھی کوئی چیز ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 10:05 AM IST | New Delhi
عدالت عظمیٰ نے ۲۰۲۱ء میں الٰہ آباد کی بلڈوزر کارروائی کے معاملے میں کہا کہ ’’مکانوں کا انہدام غیر آئینی تھا، رائٹ ٹو شیلٹر نام کی بھی کوئی چیز ہے۔‘‘
یوپی میں تنبیہ کے باوجود بلڈوزر کارروائیوں پر سپریم کورٹ عاجز آگیا اور اس نے یوگی حکومت کی انتہائی سخت سرزنش کرتے ہوئے یہ حکم جاری کردیا کہ جن افراد کے مکانات منہدم کئے گئے انہیں کم از کم ۱۰؍ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ یہ معاوضہ ۶؍ ہفتوں میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو پانچوں عرضی گزاروں کومعاوضہ دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ نوٹس ملنے کے ۲۴؍گھنٹے کے اندر مکان کو بلڈوزر سے منہدم کردینا انتہائی ظالمانہ طریقہ ہے اور غیر قانونی عمل بھی ہے۔ عدالت نے معاوضے کے حوالے سے کہا کہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں حکومتیں مناسب عمل کے بغیر لوگوں کے مکانات منہدم کرنے سے گریز کریں اور اسی ظالمانہ کارروائیاں تو ہرگز نہ کریں۔
جسٹس اوکا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جس میں بلڈوزر سے گرتی ہوئی جھوپڑیی سے ایک چھوٹی بچی اپنی کتابیں لے کر بھاگ رہی تھی۔جسٹس اوکا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے کہا کہ ایسے معاملات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اپیل کنندگان کے رہائشی کمپلیکس کو من مانے طریقہ سے منہدم کیا گیا ہے اور اس معاملے میں کوئی نہ کوئی نظیر تو قائم ہونی چاہئے تاکہ آگے کوئی حکومت یا انتظامیہ ایسی حرکت کرنے کے بارے میں نہ سوچے۔
جسٹس اوکا نے کہا کہ ہم ۲۰۲۱ء میں کی گئی اس بلڈوزر کارروائی کو مکمل طور پر غیر قانونی تسلیم کریں گے۔ اسی لئے ہر معاملے میں ۱۰؍ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔ فی الحال یہی واحد راستہ ہے تاکہ انتظامیہ سبق سیکھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ حکام اور حکومتوں کو خاص طور پر یاد رکھنا چا ہئے کہ پناہ کا حق(رائٹ ٹو شیلٹر) بھی ہندوستانی آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس آرٹیکل کی وجہ سے ہم سبھی کے سروں پر چھت موجود ہے ورنہ انتظامیہ کے لوگ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے عام لوگوں کے سروں سے چھت اڑادیتے۔