میڈیا کی نفرت انگیزی پر سپریم کورٹ برہم

Updated: September 22, 2022, 10:27 AM IST | new Delhi

نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں شنوائی کے دوران نیوز چینلوں کے اینکروں کو سخت سست کہا اور خاموش رہنے پر مرکز سے جواب طلب کیا

The Supreme Court`s comments are a wake-up call for news anchors
سپریم کورٹ کے تبصرے نیوز اینکروں کے ہوش ٹھکانے لانے والے ہیں

نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے شنوائی کے دوران میڈیا پر بھی سوال اٹھائے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہیں اور اس معاملے میں مرکزی حکومت کی خاموشی ہمارے لئے حیرت انگیز ہے۔
سپریم کورٹ کے اہم سوال 
  کورٹ نے پوچھا کہ جس طرح کی تقاریر میڈیا خاص طور پر نیوز چینلوں کے ذریعے نشر کی جاتی ہے انہیں دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک کہاں جا رہا ہے؟ ٹی وی اینکرس پر بڑی ذمہ داری ہے لیکن وہ سب سے زیادہ نفرت انگیزی سے کام لیتے ہیں۔  سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ٹی وی اینکرس مہمان کو بھی وقت نہیں دیتے ہیں بلکہ اپنی بات پیش کرنے کے لئے ہر طرح کی نفرت انگیزی کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مرکز خاموش کیوں ہے؟ہمیں ریگولیٹری سسٹم  ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزسے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ اب  اس  معاملہ پر ۲۳؍ ​​نومبر کو سماعت ہو گی۔
جسٹس جوزف کافی برہم تھے
  ملک میںنفرت انگیز تقاریر سے متعلق دائر درخواستوں  پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ نے سخت   تبصرے  کئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس سے سرمایہ کماتی ہیں اور ٹی وی چینلز ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر  نفرت انگیز تقاریر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ہو رہی ہیں لیکن  بدقسمتی سے ہمارے پاس ٹی وی کے حوالے سے کوئی ریگولیٹری میکانزم نہیں ہے۔ انگلینڈ میں ایک ٹی وی چینل پر صرف نفرت انگیزی کی وجہ سے بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ نظام ہندوستان میں موجود نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ  اینکرس  کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ اگر آپ غلط کریں گے تو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ جسٹس جوزف نے خاص طور پر اس معاملے میں کہا کہ   نفرت انگیزی کا سب سے زیادہ فائدہ سیاست دان اٹھارہے ہیں اور انہیں روکنے کے ساتھ ساتھ  نفرت کی اس کھیتی کو روکنے کے لئے ایک باقاعدہ نظام لانے کی اشد ضرورت ہے۔
نیوز اینکروں کو سخت سست کہا 
 جسٹس جوزف نے ایڈوکیٹ اشوینی اپادھیائے کی عرضی پر شنوائی کے دوران  نیوز اینکروں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ مہمانوں کو بلا کر تنقید کرتے ہیں۔ ہم کسی مخصوص اینکر کے خلاف نہیں بلکہ عمومی رجحان کے خلاف ہیں۔ پینل ڈسکشن اور مباحثے اورانٹرویو دیکھیں۔ اگر اینکر کو زیادہ وقت چاہئے تو کوئی طریقہ طے کرلیں تاکہ سبھی کو وقت ملے۔
مرکزی حکومت سے بھی سوال کیا 
  جسٹس جوزف نے اس دوران مرکز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ۔ انہوں نے پوچھا کہ نیوز اینکرس اتنی بڑی دھاندلیاں کرتے ہیں تو مرکز خاموش کیوں رہتا ہے؟ سامنے کیوں نہیں آتا اور انہیں لگام کیوں نہیں دیتا ۔ ریاست کو بطور ادارہ  متحرک  رہنا چا ہئے۔ مرکز کو پہل کرنی چا ہئے لیکن یہاں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے جس سے نیوز اینکروں کے حوصلہ بلند ہوجاتے ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک نفرت انگیزی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ 
الیکشن کمیشن کو بھی ڈانٹ پلائی 
  بنچ نے اس دوران الیکشن کمیشن کو بھی ڈانٹ پلائی ۔  بنچ نے کہا کہ   ایک سخت ریگولیٹری میکانزم قائم کر نے کی ضرورت ہے ۔ مرکز کے بعد  نیوز چینلوں کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار بھی ہےلیکن وہ کوئی کارروائی نہیں کرتا۔  ہمیں الیکشن کمیشن  سے بھی شکایت ہے جس نے گیند مرکز کے  پالے میں پھینک کر اپنا پلہ جھاڑ لیا۔  اس نے کہا تھا کہ کسی خاص قانون کی عدم موجودگی میں، نفرت انگیز تقاریر اور افواہوں پرلگام  لگانا مشکل ہے ۔ اس کے لئے  الیکشن کمیشن  صرف آئی پی سی کی مختلف دفعات  عائد کرسکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ کمیشن نے تو ہاتھ کھڑے کرلئے لیکن ہمیں اس معاملے میں مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہو گا۔ بنچ کے مطابق مرکز اس معاملے میں مخالفت رویہ نہ اپناتے ہوئے کورٹ کی مدد کرے تاکہ ہم ایک بہتر فیصلہ دے سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK