Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو سرکار اورڈی ایم کے کا وقف بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

Updated: April 04, 2025, 11:43 AM IST | New Delhi

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس کرائےجانےکی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

Tamil Nadu Chief Minister MK Stalin. Photo: INN.
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن۔ تصویر: آئی این این۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس کرائےجانےکی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ وقف ترامیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور ڈی ایم کے کے ممبران اسمبلی جمعرات کو تمل ناڈو اسمبلی میں  وقف ترمیمی بل کے خلاف احتجاج میں سیاہ بیج پہن کر پہنچے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی ایم کے اس وقف ترمیمی بل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ تمل ناڈو کےوزیر اعلیٰ نے اس کو آئین اور سیکولر اقدار پر حملہ قراردیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے آدھی رات کے وقت متحدہ اپوزیشن کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئےطاقت کے بل پاس کرالیا۔ تمل ناڈو حکومت اور ڈی ایم کے دونوں اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ 
ایم کے اسٹالن نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ یہ بل سخت مخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے ۲۳۲؍ اراکین نے اس کےخلاف ووٹ دیا اور ۲۸۸؍اراکین نے اس کے حق میں  ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کی صرف مخالفت نہیں کی جانی چاہیے بلکہ اسے مکمل طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ یہ ہمارا نظریہ ہے۔ اسی لیے ہم نے اسمبلی میں ایک قرارداد پاس کی ہے۔ 
اسٹالن نے مزید کہا کہ اس پر غور کرتے ہوئے، آج ہم سیاہ بیج پہن کر اسمبلی اجلاس میں آئے۔ ڈی ایم کے کی طرف سے، ہم اس وقف ترمیمی بل پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ 
قابل ذکرہے کہ گزشتہ روز ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر زور دیا تھا کہ وہ مجوزہ وقف بل۲۰۲۴ء کو مکمل طورپر واپس لے۔ اس سے قبل بھی انہوں نےاسمبلی میں قرار داد پاس کرکےاس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ وقف ترمیمی بل کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں  پاس قرار داد میں  کہاگیاتھا کہ ہندوستان کے لوگ مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ آئین نے تمام لوگوں  کواپنے مذہب کی پیروی کرنے کے حقوق فراہم کئےہیں۔ منتخب حکومتوں  کو اس کا تحفظ کرنا چاہئے۔ تمل ناڈواسمبلی متفقہ طورپراس بات پر اصرار کرتی ہےکہ مرکزی حکومت وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ءکو واپس لے اور وقف ایکٹ ۲۰۱۳ء میں ترمیم نہیں  کی جانی چاہئے جس سے اقلیتی مسلمانوں  پر بری طرح  سے اثر پڑے گا۔ اسٹالن نے کہا تھا کہ اس بل سے وقف بورڈ کے اختیارات متاثر ہوں  گے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے مسلمانوں  کےجذبات متاثر ہورہے ہیں، لیکن مودی حکومت کو اس بات کی کوئی پروا نہیں۔ انہوں نےیہ بھی کہاتھا کہ جب مسلمان کسی ترمیم کا مطالبہ نہیں کررہےہیں  تو آخر یہ ترمیم لائی کیوں  جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK