پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی یورپ کی کوشش پرتہران برہم

Updated: January 24, 2023, 11:25 AM IST | tehran

سخت جواب دینے کاانتباہ ۔ ایران کی پارلیمنٹ کچھ یورپی ممالک کی فوجوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالنے پر کام کر رہی ہے: وزیرخارجہ

Hossein Amir Abdollahian; Photo: INN
حسین امیرعبداللہیان ; تصویر:آئی این این

سپاہ پاسداران انقلاب ‘کو دہشت گرد قرار دینے کی یورپی یونین کی کوشش پر تہران نے شدید برہمی ظاہر کی ہے اور سخت جواب دینے کاانتباہ  دیا ہے ۔ 
   میڈیارپورٹس کے مطابق پیر کو  ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے  اس  سلسلہ میں ٹویٹ کیا ہے، ’’ ایران کی پارلیمنٹ کچھ یورپی ممالک کی فوجوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالنے پر کام کر رہی ہے۔‘‘
  خیال رہے کہ۲۷؍ ممالک پر مشتمل  یورپی یونین کے ار اکین نے ایران میں جاری سرگرمیوں کے تحت بدھ کو  ’سپاہ پاسداران انقلاب‘ کو دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالنے کیلئے ووٹ دیا تھا۔  اس کا مقصد ایران میں احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے  زورپر دبانے کی کوشش کو ناکام بنانا اور روس کو ڈرونز کی سپلائی سے روکنا ہے۔
 یورپی یونین کے اقدام کے بعد ایران میں پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امیر عبداللہیان اور پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلیمانی نے بھی شرکت کی اور اس کے مختلف پہلوؤں پربات چیت کی ۔
 ایران  کے ایک  اہم سفارتکار کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے اور اس کو جوابی اقدام کا سامنا کرنا پڑے گا۔جب ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جوہری  معاہدے سے نکل جائے گا یا پھر اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کو باہر نکال دے گا؟ تو اس کے جواب میں عبداللہیان کا کہنا تھا کہ یہ تمام  متبادل ہمارے سامنے ہیں۔
 سرکاری  خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عبداللہیان نے یورپی سفارت کاروں پر ناتجربہ کاری  پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ا پنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کہا کہ اگر یورپی یونین ووٹ کو برقرار رکھتی ہے اور اس کی توثیق کرتی ہے تو ہماری پارلیمنٹ فوری طور پر جوابی کارروائی کرے گی۔
 باقر غالب  پاسداران انقلاب کے کمانڈر بھی ہیں، ان  کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پارلیمنٹ یورپی ممالک کے فوجوں کو دہشت گرد گروپ قرار دے گی۔
  قبل ازیںاتوار کو پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  ایران کے صدر  ابراہیم ر‏ئیسی کا کہنا تھا ،’’ دنیا کی کسی بھی فوج نے سپاہ پاسداران انقلاب کی طرح دہشت گردوں کا مقابلہ اور خطے کو ان کے شر سے محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کی۔  خطے کے ممالک کی افواج اور پورے خطے کے اعلیٰ حکام دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب  نے دہشت گردی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
 ایران کے صدر نے یہ بھی کہا،’’ اگر جنرل قاسم سلیمانی اور پاسداران انقلاب کی کوششیں نہ ہوتیں تو آج ایران اور مغربی ایشیا کی صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔‘‘ابراہیم رئیسی نے ’سپاہ پاسداران انقلاب‘ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے اس طاقتور بازو کو بدنام کرنے والے کو منہ کی کھانی پڑے گی اور ان کے  اندازے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK