تاردیو کی کثیر منزلہ عمارت میں بھیانک آتشزدگی ، ۶؍ ہلاک

Updated: January 23, 2022, 9:06 AM IST | Iqbal Ansari and saadat khan | Mumbai

متعددزخمی ،۳؍کی حالت نازک،۲۰؍منزلہ کملا بلڈنگ کے ۱۸؍ویں منزلے پر لگنےوالی آگ سے مکینوںمیںخوف و ہراس، میئر کا دورہ ، حادثہ کی جانچ اور معاوضہ کا اعلان

The families of the victims of the accident at Kamala Building are in the hospital
کملا بلڈنگ میں حادثے کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ اسپتال میں

ممبئی: شہر کےپاش جنوبی علاقے ناناچوک،گوالیا ٹینک کے قریب واقع ۲۰؍منزلہ کملا بلڈنگ کی ۱۸؍ویں منزل پر واقع فلیٹ نمبر ۱۹۰۴؍ میں سنیچر کی  صبح ساڑھے ۶؍بجے  بھیانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے عمارت میں رہائش پذیر ۶؍افرادہلاک اور ۲۳؍ زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں سے بھی ۳؍کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ۔ زخمیوں کا علاج نائر، کستوربا،بھاٹیااور مسینا اسپتال میں جاری ہے جبکہ  ۵؍زخمیوں  اسپتال سے رخصت کر دیا گیاہے ۔اطلاع کےمطابق ناناچوک  پر بھاٹیا اسپتال کے قریب واقع ۲۰؍ منزلہ رہائشی عمارت میںسنیچر کی صبح مکین اپنے گھر وںمیں سورہے تھےکہ اچانک ۱۸؍ویںمنزل پر آگ لگنےکے شور سے پوری بلڈنگ میں افراتفری مچ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ تیزی سے پھیل گئی۔  فائر بریگیڈ کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق آگ  ۱۸؍ویں منزل کے ایک فلیٹ کے اے سی میں ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ ہونے سے لگنے کا شبہ ہے۔ اس بارے میں مزید جانچ کی بہر حال ضرورت ہے۔  ایسابھی کہاجارہاہے کہ بلڈنگ میں نصب فائر سیفٹی آلات کی  میںتکنیکی خرابی سے آگ پرقابوپانےمیںتاخیر ہو ئی جس سے آگ اور زیادہ پھیل گئی اور ۶؍ افراد  اس میں جھلس گئے۔ 
  آگ لگتے ہی پوری بلڈنگ میں بھگدڑ مچ گئی ۔ مکین خوف وہراس  کے عالم  میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے ۔ اپنے بال بچوںکوگھر و ں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے بلڈنگ سے فوراً باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مقامی نوجوانوں نے بھی بلڈنگ میں داخل ہوکر مکینوںکو باہر نکالنےمیں مدد کی ۔اس دوران فائر بریگیڈعملہ جنگی پیمانے پر آگ پرقابوپانے کی کوشش کررہاتھا لیکن اس  آگ اور تیز ی سے بڑھنے لگی  ۔ ۷؍بجکر ۴۲؍منٹ پر فائر عملہ نے تیسرے لیول کی آگ لگنےکااعلان کیا جو نہایت شدید مانی جاتی ہے۔ اس میں پھنسنے والوں کو بچانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ تب بھی فائر بریگیڈ نے پوری جانفشانی کے ساتھ آگ بجھانے اورمکینوں کو بچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے مزید فائر انجن اور جمبوفائر ٹینکر کو بلایاگیا۔  اس دوران ایک ساتھ ۱۳؍ ٹینکروں سے پانی مار کر آگ پر قابو پایا گیا۔ صبح تقریباً ساڑھے ۶؍ بجے لگنے والی آگ پر فائر بریگیڈ عملے نے متواتر جدوجہد کے بعد ۱۰؍بجکر ۵؍منٹ پر قابوپایااور ۱۲؍بجکر ۵؍منٹ پرپوری آگ بجھانےمیں کامیابی حاصل کی گئی۔ 
  کملابلڈنگ کے ایک مکین نے بتایاکہ ’’ پہلے زور دار آواز آئی اس کےبعدکالا دھواں پوری بلڈنگ میں پھیلنے لگا، لوگوںمیں ڈروخوف کا ماحول تھا۔ مکین اپنے رشتے داروںکو بچانےکیلئے  بھاگ رہےتھے ۔ ہم بھی فوراً اپنے گھر سےنکلے ،کسی طرح بلڈنگ کے باہر آئے تب جاکر جان میں جان آئی ۔‘‘  اس دوران نائر اسپتال میں علاج کیلئے ۷؍افراد کو داخل کیاگیاتھا جن میں سے ۵؍ کی موت ہوگئی ۔ کستوربا اسپتال میں ۲ ؍افرادکا علاج جاری تھا، جن میں سے ایک کی موت ہوئی ہے جبکہ بھاٹیا اسپتال میں داخل ۱۷؍میں سے ۵؍ افرادکو علاج کے بعد گھر جانےکی اجازت دے دی گئی ہے اور۱۲؍زخمیوں کا علاج جاری ہے ۔ مسینا اسپتال میں ایک زخمی کا علاج ہورہاہے جس کی طبیعت بہتر ہے۔ آگ کیسے اور کیوں لگی اس کی تفتیش مقامی پولیس اور فائربریگیڈکررہے ہیں۔
  اس بارے میں بی ایم سی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق  آ گ پرقابوپانےکیلئے ۱۳؍فائر انجن، ۷؍جمبوواٹر ٹینکر اور ۵؍ایمبولینس کا استعمال کیاگیا۔ آگ پر ۱۰؍بجکر ۵؍منٹ پر قابوپایاگیا۔

 آگ تیسرے لیول کی تھی جس پر بمشکل قابو پایا گیا۔  دوسری طرف ممبئی کی میئر کشوری پیڈنیکر اور رکن پارلیمان اروند ساونت نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔ کشور ی پیڈنیکر نے نائر، کستوربااور بھاٹیااسپتال میں زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی اورانہیں تسلی دی۔ ریاستی حکومت نے حادثہ کی انکوائری کروانےکا اعلان کردیا ہے جبکہ حادثہ میں ہلاک ہونےوالوں کےاہل خانہ کو ۵۔۵؍لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کااعلان کیاگیاہے ۔ اس سلسلے میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہاکہ ریاستی وزیرآدتیہ ٹھاکرےاور اسلم شیخ حادثہ کی انکوائری کی نگرانی کریں گے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میںہتیش مستری ،منجوبین کنساریہ ،پرشوتم چوپڑیکر شامل ہیں جبکہ تین  مہلوکین کی ابھی شناخت نہیں ہوئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK