امریکی وفد کے دورۂ تائیوان پر چین برہم

Updated: August 16, 2022, 11:14 AM IST | Agency | Taipei City

تائیوان کی صدر نے امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات کی ۔ واشنگٹن نے اسے تائی پے کی واشنگٹن کی حمایت کی ثوثیق بتایا ۔احتجاجاً چین نے پھر سے جنگی مشقیں کیں اور انتباہ دیا کہ امریکی سیاست دانوں کو تائیوان کے معاملے میں آگ سے کھیلنا بند کر دینا چاہئے

Taiwan`s President Tsai Ing-wen tweeted this picture of the meeting with the 5-member delegation of the US Congress. .Picture:INN
تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے امریکی کانگریس کے ۵؍رکنی وفد سے ملاقات کی یہ تصویر ٹویٹ کی۔ ۔ تصویر:آئی این این

پیر کو مختصر وقفے  کے دوران امریکی کانگریس کے ایک اور وفد کے دورۂ تائیوان پر چین نے برہمی کا اظہار کیا۔ اسی دوران  تائیوان کی صدر نے امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات کی ۔ چین نے نینسی پیلوسی کے دورے کے  چند روز  بعد  امریکی وفد کے اس دورے  پراحتجاجاً  پھر سے جنگی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔   دوسری جانب امریکی وفدنے اس دورے کو تائیوان کی امریکی حمایت کی توثیق قرار دیا ہے۔    میڈیا رپورٹس کے مطابق  امریکی کانگریس کا یہ وفد اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے متنازع دورے کے۱۲؍دن بعد ہی اتوار کو تائی پے پہنچا۔ اس کاشاندار استقبال کیا گیا۔ وفد کے مطابق  اس کا مقصد تائیوان کیلئے امریکی حمایت کی مزید توثیق کرنا ہے۔تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے امریکی کانگریس کے ۵؍رکنی وفد سے پیر کو ملاقات کی ہے لیکن خبر لکھے جانے تک ملاقات کی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ تائیوان کی صدر سائی انگ وین اور وزیر خارجہ جوزف وو نے امریکی ایوان کانگریس کے وفد کو تائیوان آنے کی دعوت دی تھی۔تائیوان کی وزارت خارجہ نے اس  وفد کے دورے کو تائی پے اور واشنگٹن کے   دیرینہ تعلقات کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔  تائیوان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ  چین خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔ ایسے میں امریکی کانگریس نے ایک بار پھر سے تائیوان کا دورہ کرنے کیلئے ایک اہم وفد بھیجا۔ اس سے ایک ایسی دوستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جسے چین کی دھمکیوں کی کوئی پروا اور خوف نہیں ہے اور یہ تائیوان  سے امریکہ کے مضبوط تعلق کو  واضح کرتا ہے۔ ا دھرتائی پے میں امریکی سفارتخانے نے اس دورے  سے متعلق بتایا کہ اس وفد میں ڈیموکریٹس جان گارامندی ، کیلیفورنیا کے ایلن لوونتھل، ورجینیا کے ڈان بیئر اور امریکن ساموا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن اوما اماتا کولمین رادیوگن شامل ہیں۔ وفد کی قیادت کرنے والے سینیٹر مارکی، امریکی سینیٹ میں مشرقی ایشیا، بحرالکاہل کے خارجی تعلقات اور بین الاقوامی سائبر  سیکوریٹی جیسی ذیلی کمیٹی کی سربراہ بھی ہیں۔ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی قانون ساز تائیوان کیلئے امریکی حمایت کی توثیق کریں گے اور ساتھ ہی آبنائے تائیوان میں استحکام اور امن کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے۔  واضح رہےکہ تائیوان چین کا پڑوسی ملک ہے جس پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا  ہے اور جبکہ تائیوان  اپنے ملک کو خودمختار قرار دیتا ہے۔  چین کی حکومت تائیوان کے غیر ملکی حکومتوں سے کسی بھی طرح کے سرکاری رابطے پر اعتراض کرتی رہی ہے۔ نینسی پیلو سی کے دورے کے بعد  بیجنگ نے تائیوان کے آس پاس مشقیں شروع کی تھی، اس کی شدت میں کمی آ رہی تھی لیکنچین نے امریکی کانگریس کے اس  وفد کے تائیوان کے دورے پر سخت ردعمل کا ظاہر کرتے ہوئے ایک بار پھر پڑوسی ملک کے اطراف میں فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس  کا مقصد تائی پے اور واشنگٹن کے عزائم کو ناکام بنانا بتایا ہے ۔  فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے پیر کو چینی فوجی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ۱۵؍ اگست کو وسیع جنگی مشقیں شروع کی جا رہی ہیں جن میں زمینی، سمندری اور فضائی مشقیں شامل ہیں جو تائیوان کی سرحد کے قریبی علاقوں میں کی جا رہی ہیں۔ ادھرچین کی سرکاری  خبررساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق حکام نے اس نئے دورے پر بھی سخت احتجاج کرتےہوئے خبردار کیا کہ امریکی سیاست دانوں کو تائیوان کے معاملے میں آگ سے کھیلنا بند کر دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK