’ملک انتہائی نازک مو ڑپر ہے،ہرشہری کو اپنی ذمہ داری اداکرنی ہوگی‘

Updated: September 22, 2022, 10:00 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

باندرہ میں واقع ریٹریٹ ہاؤس میںجاری۲؍روزہ میٹنگ کےپہلے دن اہم شخصیات نے فکرمندی کا اظہار کیا، نفرت چھوڑو انسان جوڑو،آئین بچاؤ اورجمہوریت بچاؤ کا نعرہ دیا

Feroze Methi Borwala, Medhapatkar and others can be seen among the important participants of the meeting held in Bandra.
باندرہ میں منعقدہ میٹنگ کے اہم شرکا ء میںفیروزمیٹھی بور والا، میدھاپاٹکر اور دیگر کو دیکھا جاسکتا ہے

:ملک انتہائی نازک موڑ پرہے ، اس کا احسا س کرتے ہوئے ہرذمہ دار شہری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ورنہ اگر فرقہ پرست طاقتیں پھر اقتدار میںآئیں توحالات کو سنبھالا اورآئین وجمہوریت کا تحفظ شاید ہی ممکن ہوسکے گا۔نفرت چھوڑوانسان جوڑو،آئین اورجمہوریت بچاؤ کے تحت جاری مہم کو مزیدتیزکرنے کی غرض سے باندرہ ریٹریٹ ہاؤس میں منعقدہ ۲؍روزہ میٹنگ کے پہلے دن اہم شخصیات نے اس تعلق سےفکر مندی کا اظہار کیا۔میٹنگ میں مختلف ریاستوںکے نمائندےشریک ہوئے ہیں۔
نفرت کا خاتمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے 
 تشار گاندھی نے فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس وقت دیش کی جو حالت ہے اورجس طرح فرقہ پرست طاقتیں حاوی ہوتی جارہی ہیں ،اس کے خاتمے اورآئین  و  جمہوریت کے تحفظ کیلئےہر شہری کواپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی ورنہ آنے والے وقتوں کوجو نقصان ہوگا اس کاشاید ہی ازالہ ممکن ہوسکے۔‘‘ انہوںنےیہ بھی کہا کہ ’’ توڑنے والی طاقتیں نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ ان کے ذریعے پھیلائی جارہی نفرت حاوی ہوگئی ہے،اسے امن وبھائی چارہ اور اتحاد واتفاق کے پیغام اوردلو ںکوجوڑنے سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔آج دیش شاید اس فکر سے بہت دور چلایا گیا ہےجس کا خواب ملک کوآزاد کرانے والو ںنے دیکھا تھا۔‘‘ سوراجیہ پارٹی کے سربراہ یوگیندر یادو نے کہاکہ’’ دیش انتہائی نازک حالات سےگزررہا ہے ۔ تمام آئینی اداروں کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔نفرت اورتوڑنے کی سیاست شباب پرہے۔ایسے میںہم لوگوں کو بھی اپنی حکمتِ عملی بدلنی ہوگی اورلوگوں کو جوڑنے کیلئےجی جان سے محنت کرنی ہوگی ورنہ اس بات کا اندیشہ ہےکہ اگر۲۰۲۴ء میں یہ طاقتیں پھراقتدار پرقابض ہوگئیں تو شایدہمارا مل بیٹھنا اوراس طرح باہم تبادلۂ خیال اورمیٹنگ بھی ممکن نہ ہو۔‘‘
آئین کوبچانے سے ہی دیش بچے گا
 لوک سنگھرش مورچہ کی سربراہ پرتیبھا شندے نے کہا کہ ’’ دیش میں آج ہر جگہ نفرت اورتوڑنے والی طاقتیں دیش کو برباد کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ وقت ہر ایک کے لئے بس ایک ہی آوازدے رہا ہے کہ ایک ہوکر ان حالات کامقابلہ کیا جائے ورنہ جس آئین نے ہرہندوستانی کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی ہے اوریکساں حقوق دیئے ہیں،اسی کے ختم کئے جانے کاسنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ہم سب کی یہ کوشش ہوگی کہ ہم گاؤں کے آخری آدمی تک پہنچیں اوراسے بتائیں کہ جس دیش کو بڑی قربانیوں سے آزاد کروایا گیا تھا اسے تباہ کیا جارہا ہے اورآپسی بھائی چارہ جو ہماری سب سے بڑی پونجی تھی وہ برباد کی جارہی ہے اس لئے ایسی طاقتو ںکوروکناہر ہندوستانی کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔‘‘
توڑنے سے زیادہ جوڑنے والو ںکی طاقت ہے
 معروف سماجی خدمت گارمیدھا پاٹکر نے کہا کہ ’’ جولوگ فکرمندی ظاہر کر رہےہیںوہ حالات کی نزاکت کو محسوس کررہے ہیں۔ آج ہر جگہ نفرت اورصرف نفرت کا دور دورہ ہے۔حکمراں طبقہ ہرحال میںسب کچھ تباہ کرکے دوبارہ اقتدار پرقابض ہونا چاہتا ہے ۔ اس لئے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہر ہندوستانی کو جوڑیں،اسے بیدار کریں اورکسی بھی صورت میں ملک کی آزادی کے لئے عظیم قربانی دینے والوں کی قربانی ضائع نہ ہونے دیں۔اس کے ساتھ ہی توڑنے والی طاقتو ںکو اپنے اتحاد سے یہ بتادیں کہ توڑنے سے کہیں زیادہ جوڑنے والوں کی طاقت ہے۔‘‘کسان لیڈر ڈاکٹر سنیلم نے کہا کہ ’’ آج دیش اس دوراہے پرکھڑا ہے جسےسنبھالنا اورآئین کوبچانا ہرہندوستانی کا فرض ہے۔اس وقت نفرت ، جھوٹ اورتفریق کی تمام شکلیں اپنائی جارہی ہیں۔ اس لئے ہمیںبھی ہوشیار رہ کراپنی مہم کواسی انداز میںچلانا ہوگا ورنہ جو نقصان ہوگا وہ تو ہوگا ،آنے والی نسلیں بھی ہمیںمعاف نہیںکریںگی۔‘‘
۲؍اکتوبر سے مہم تیز ہوگی
 فیروزمیٹھی بور والا نے کہاکہ ’’ دراصل ۹؍ اگست ہی سے کوئٹ انڈیا موومنٹ شروع کی گئی تھی۔ اس کے ذریعے پورے ملک میںمہم چلائی جائے گی۔ہرضلع میں۷۵؍کلومیٹر پیدل یاترا نکالی جائے گی۔مسجد مندر میںلوگوں کو جوڑاجائے گا۔ ایک مٹکے سے پانی پیا جائے گا۔اسکولوں،کالجوں اوریونیورسٹی میںپروگرام ہوںگے۔ ۲؍اکتوبر گاندھی جینتی سے اس مہم کومزیدتیزکیاجائے گا اورگاندھی کے پیغام کوگھرگھرپہنچایا جائے گا۔سال کے اخیر تک ہرضلع میںامن ومحبت اوربھائی چارے کا پیغام عام کرنے کیلئےالگ الگ طریقوں سے لوگوں کوجوڑا جائے گااوران کو یہ بتایاجائے گا کہ آج حکومت کی غلط پالیسی ، نفرت کی سیاست اوراڈانی امبانی کوحکومت کے ذریعے نوازے جانے سے مہنگائی کے سبب ملک میںرہنے والوں کاجینا محال ہوگیا ہے۔ تمام آئینی اداروں کو تباہ کر دیاگیاہے۔ اس لئے دیش سے پیار کرنے والے میدان میںآئیں اورگاندھی کے اصولوں اورنظریات کوعام کرتے ہوئے اسی طرح کا ہندوستان بنائیں جس کا گاندھی جی اورڈاکٹرامبیڈکرنے خواب دیکھا تھا۔
پولیس نے پوچھا 
 فیروزمیٹھی بور والانے بتایاکہ ’’میٹنگ کے دوران مقامی پولیس کے ذریعے پوچھا گیا کہ آپ نے میٹنگ کے سلسلے میںلیٹر نہیںدیا توانہیںبتایا گیا کہ یہ کوئی مورچہ نہیں ہے بلکہ بند کمرے کی میٹنگ ہے۔اس پرپولیس والوں کا کہناتھاکہ پھربھی اطلاع ضروری ہے۔‘‘فیروزکے مطابق ’’یہ تبدیلی نئی حکومت کے بعد آئی ہے۔‘‘

democracy Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK