مری سانحہ کیلئےعدالت نے ریاست کو ذمہ دار ٹھہرایا

Updated: January 14, 2022, 8:34 AM IST | islamabad

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ۲۲؍ افراد کی ہلاکتوں کا باعث بننے والی حکام کی لاپروائی کے تعلق سے داخل کردہ عرضداشت پر سماعت کیلئے خصوصی اجلاس بلایا ۔ چیف جسٹس نے انتظامیہ کی سرزنش کی اور وزیراعظم عمران خان کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد خاطیوں کی شناخت کرکے ان پر کارروائی کریں

Vehicles stuck in snow can be seen in Murree (file photo)
مری میں برف میں پھنسی گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے ( فائل فوٹو)

) پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام ، مری میں حال ہی  میں  برفباری کے دوران ۲۱؍ لوگوں کی موت کیلئے عدالت نے ریاست یعنی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے  ساتھ ہی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ  خاطیوں کی شناخت کرکے انہیں قرار واقعی سزا دے۔  عدالت نے سماعت کے دوران  حکام کی سخت مذمت بھی کی جبکہ حکومت کی جانب سے  وضاحت پیش کرنے والے اٹارنی جنرل کو ڈانٹ بھی پلائی۔
  جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں مری معاملے کی سماعت کیلئے ایک اجلاس بلایا گیا تھا  جس  کی سربراہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  اطہر من اللہ نے کی۔ عدالت نے اس دوران براہ راست  ریاست کو اس سانحہ ذمہ دار ٹھہرایا اور   وزیر اعظم عمران خان کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتے میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کر کے پنجاب کے تفریحی مقام مری ۲۲؍ سیاحوں کی ہلاکت کے واقعے میں کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کریں۔ واضح رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن وزیراعظم پاکستان کی  ِ سربراہی میں کام کرنے والا وہ پالیسی ساز ادارہ ہے جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں حکمتِ عملی تیار کرنے کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی اسی ادارے کے تحت کام کرتا ہے۔ 
  واضح رہے کہ یہ اجلاس  سانحہ کے تعلق سے دائر کردہ ایک عرضداشت کے بعد بلایا گیا تھا۔ سماعت کے دوران  عدالت کو بتایا گیا کہ تشکیل کے بعد سے اس کمیشن کے صرف دو اجلاس ہی منعقد ہوئے ہیں جن میں سے پہلا ۲۰۱۳ءاور دورسرا ۲۰۱۸ء  میں ہوا تھا۔     چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے اس واقعے میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق بنایا گیا قانون موجود تو ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا  ہے اور اس قانون کے تحت ضلع کی سطح پر بھی ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے۔
  ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس بارے میں قانون کا جائزہ لینا پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ راولپنڈی کیلئے قانون ۲۰۱۰ء میں بنا تھا اور  آپ   ۲۰۲۲ء میں عدالت کو بتا رہے ہیں کہ اس بارے میں چیک کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون پر عمل ہوا ہوتا تو ایک شہری کی بھی ہلاکت  نہ ہوتی۔ سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سب کہہ رہے ہیں کہ مری کے لوگ اچھے نہیں ہیں۔ اس میں ان کا کیا قصور ہے؟ اگر ڈسٹرکٹ پلان بنا ہوتا تو کوئی بھی ہوٹل والا لوگوں سے اضافی پیسے لینے کی جرأت نہ کرتا۔ ان ہدایات کے بعد اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مری میں مسلسل برفباری کے سبب کئی گاڑیاں راستوں ہی میں پھنس گئی تھیں اور  بروقت نکالے نہ جانےکے سبب  ان  گاڑیوں میں بیٹھے ۲۱؍ لوگ برف کے نیچے دب کر فوت ہو گئے تھے۔ ایک روز بعد ایک اور شخص کی موت  ہوئی تھی  ، اس طرح ۲۲؍ لوگوں نے اپنی جان گنوائی تھی۔   بیشتر مقامی افراد کی شکایت ہے کہ ہوٹل مالکوں کی جانب سے دام بڑھا دیئے جانے کے سبب کئی لوگوں کو اپنی گاڑیوں ہی میں پناہ لینی پڑی تھی جبکہ آگے بڑھنے کے راستے بھی بند ہو گئے تھے اس لئے لوگ کہیں اور جا نہیں سکے ، اور گاڑیوں میں دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ انہی شکایتوں  سے متعلق ایک عرضداشت اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ 
 تحقیقاتی کمیٹی  کی جانب سے تفتیش شروع
 خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب نے بھی مری میں ہلاکتوں کی تحقیقات  کیلئے ۴؍ رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے بدھ کو مری پہنچ کر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ظفر نصراللہ  اس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کمیٹی کے اراکین  ۴؍ دن مری میں ہی قیام کریں گے اور سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور انتظامی سطح پر ہونے والی کوتاہیوں اور غفلت کے حوالے سے تحقیقات کریںگے۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ انکوائر ی کرکے جلد از جلد اس بات کی رپورٹ پیش کریں گے کہ اس پورے معاملے میں قصور کس کا ہے اور آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو اس کیلئے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مذکورہ کمیٹی انہی خطوط پر کام کر رہی ہے اور غالبا ً ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کر دے گی۔

pakistan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK