ہانڈی والی مسجد میںسنّی جمعیۃ العلماء اوررضا اکیڈمی کےاشتراک سے علماء کی میٹنگ ۔پلے کارڈز لے کراحتجاج کیا اورقانونی اور جمہوری طریقے سے لڑائی جاری رکھنے کا عہد کیا ۔ جمعہ کے خطاب میںائمہ سے وقف بل کے تعلق سے اظہار خیال کرنےکی اپیل
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 10:40 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ہانڈی والی مسجد میںسنّی جمعیۃ العلماء اوررضا اکیڈمی کےاشتراک سے علماء کی میٹنگ ۔پلے کارڈز لے کراحتجاج کیا اورقانونی اور جمہوری طریقے سے لڑائی جاری رکھنے کا عہد کیا ۔ جمعہ کے خطاب میںائمہ سے وقف بل کے تعلق سے اظہار خیال کرنےکی اپیل
’’طاقت اور سیاسی جوڑ توڑ سے پاس کرایا گیا وقف ترمیمی بل ۲۰۲۴ء ناقابل قبول ہے، اسے تمام مسلمان مسترد کرتے ہیں۔‘‘ ہانڈی والی مسجد میںسنّی جمعیۃ العلماء اوررضا اکیڈمی کےاشتراک سے جمعرات کی صبح علماء کی میٹنگ ہوئی۔علماء اورائمہ مساجد نے مختلف نعروں والےپلے کارڈز اٹھاکر احتجاج کیا اور قانونی اور جمہوری طریقے سے لڑائی جاری رکھنے کا عہد کیا۔ آج جمعہ کے خطاب میںائمہ سے وقف کے تعلق سے اظہار خیال کرنےکی اپیل بھی کی گئی ہے ۔
رضااکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری نے کہا کہ’’ وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس ہونا ملک بھر کے مسلمانوں اورآئین پر یقین رکھنے والوں کیلئے بڑا دھچکا ہے۔اس بل کی آڑ میںدو کمیونٹی کے درمیان نفرت پیدا کی جارہی ہے۔اس کے ذریعے جہاںمسلمانوں کی مذہبی آزادی چھینی جارہی ہے وہیں غیر مسلموں کو خوش کرکے ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔ حکومت یاد رکھے کہ وقف پر صرف مسلمانوں کا حق ہے ، دوسرا کوئی بھی اس پر قبضہ کرہی نہیں کرسکتا۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ اب آئین اور قانون کے مطابق جمہوری طریقے سے یہ لڑائی سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑی جائے گی، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ سعید نوری نے علماء اورائمہ مساجد سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کے خطاب میں وقف کی شرعی حیثیت اور اہمیت پر روشنی ڈالیں۔
ہانڈی والی مسجد کے خطیب وامام مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے اپنے سیاسی فائدے اورسازش کے تحت مسلمانوں پر وقف ترمیمی بل تھوپا ہے ۔ بل لانے کا مقصد اوقات کی املاک کو ہتھیانا ہے ۔‘‘ مولانا کشمیری نے یہ بھی کہاکہ ’’وزیر داخلہ نے کل جس ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ یہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہوا ہے، اسے سب کو ماننا ہوگا، میں بھی امیت شاہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ زبردستی مسلط کیا گیا قانون ہمیں قطعاً منظور نہیں ہے۔میں وزیرداخلہ سے یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ وقف بورڈ میں جس طرح دو غیرمسلموںکو ڈالا جارہا ہے اور کئی خطرناک ترامیم کی گئی ہیں تو کیا رام مندر سمیت دیگر مندروں کے ٹرسٹ میں بھی چیئرمین اور دیگر عہدوں پر مسلمانوں کو نمائندگی دی جائے گی؟‘‘
مولانا امان اللہ رضا خان نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے مسلمانوں کو ہر محاذ پر پریشان کیا ہے، کبھی تین طلاق کے نام پر تو کبھی سی اے، این آر سی کے نام پر اب وقف کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے نام پرڈرامہ کیا گیا ہے ،یہ ایک سازش ہے ۔‘‘
مولانا خلیل الرحمٰن نوری نے بل پر ناراضگی کا اظہار اور سیکولر جماعتوں کو متنبہ کیا کہ ’’ ایک دن وہ آئے گا کہ بی جے پی اپنی ساتھی پارٹیوں کو نگل جائے گی۔ اس کا اندازہ شاید نتیش کمارا و رچندرابابو نائیڈو کو نہیں ہے۔‘‘
اس موقع پرمولانا محمد عباس رضوی، قاری جمال علیمی، مولانا ظفر الدین رضوی، مولانا عظمت علیمی، مولانا جہانگیر القادری اور سماجی خدمت گار عرفان ڈیوٹے نےبھی اظہارخیال کیا اوربل کو آئین مخالفت قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔