’سب کیلئےپانی‘ مہم کا زمینی سطح پر کوئی اثر نظر نہیں آرہا ،عوام اب بھی پانی کیلئے پریشان

Updated: June 23, 2022, 10:19 AM IST | Mumbai

قوانین میں نرمی کے باوجودافسران نئے بہانے تلاش کرکے چکرلگواتے رہتے ہیں،مجموعی خرچ۵؍ہزار روپے ہونےکے باوجود پائپ لائن کیلئے ۲۰؍ہزار روپے خرچ کرنا پڑرہاہے

People are still forced to fetch water from tankers
اب بھی عوام ٹینکر سے پانی لینے پر مجبور ہیں

بی ایم سی کے ذریعہ یکم مئی کو ’سب کیلئے پانی‘ نامی مہم شروع کی گئی جس کے تحت غیر قانونی جھوپڑوں تک کو پانی کا کنکشن دینے کی بات کہی گئیتھی،لیکن ڈیڑھ مہینہ گزرنے کے بعد بھی زمینی سطح پر اس کا نہایت ہی معمولی یا قطعی کوئی اکثر نظر نہیں آرہا ہے۔حالانکہ ابتدائی ۲؍ہفتوں میں وارڈ آفیسر مثبت پیش رفت کا مظاہرہ کررہے تھے۔ شہری انتظامیہ کے پاس بھی اس تعلق سے کوئی اعدادوشمار نہیں ہے کہ اس دوران کتنے کنکشن منظور کئے گئے۔
 برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے پہلی مرتبہ ۲۰۱۶ءمیں ’سب کیلئے پانی‘ کی پالیسی شروع کی تھی جبکہ دسمبر ۲۰۱۴ء میں بامبے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پانی کی دستیابی کسی بھی شہری کا بنیادی چاہے اس کا گھر قانونی ہو یا غیر قانونی۔لیکن بی ایم سی کی پالیسی میں متعدد شرائط عائد کردی گئیں جس کی وجہ سے چند جھوپڑے والوں کو ہی کنکشن مل سکا۔ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بی ایم سی الیکشن سے قبل مذکو رہ پالیسی کا دوبارہ اعلان کیا لیکن اس مرتبہ اس میں بہت ساری لچک رکھی گئی تھی۔
 بی ایم سی کے چیف ہائیڈرولک انجینئر نتن آرٹے نے کہا ’’ہم ’سب کیلئےپانی‘ کے تحت دیئے گئے کنکشن کے تعلق سے اعدادوشماروارڈ کی سطح پر جمع کررہے ہیں لیکن ابھی تک یہ جمع نہیں ہوسکا ہے۔‘‘
قوانین میں لچک لیکن ابھی تک کوئی کنکشن نہیں
 دہیسر میں گنپت پاٹل نگر ایک ایسی ہی جھوپڑ پٹی ہے جہاں اب بھی بہت زیادہ تر لوگ پانی خریدنے کیلئے موٹی رقم ادا کرتے ہیں۔پالیسی پیش کئے جانے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی درخواستوں کے ساتھ وارڈ آفس میں رجوع کیا۔۱۲؍ہزار سے زیادہ خاندانوں پر مشتمل بستی میں رہنے والے سنیل یادو نے کہا کہ’’حالانکہ تمام سیاسی پارٹیاں اس پالیسی کاسہرہ اپنے سر باندھ رہی ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔اس سے قبل دو مسائل تھے جس کی وجہ سے ہم پانی کا کنکشن حاصل نہیں کر پاتے تھے۔لیکن اب جبکہ قوانین میں نرمی کی گئی ہےلیکن اب افسرکچھ بھی مطالبہ کربیٹھتے ہیں جیسے کہ لائسنس یافتہ پلمبر سے تمام کاغذات پر دستخط لے کر آئو۔‘‘
 یادو نے مزید کہا کہ ’’۵؍خاندانوں کیلئے کنکشن پر مجموعی خرچ ۵؍ہزار روپے ہوتا ہے جس میں کاغذی کارروائی اور بی ایم سی کے چارجیز شامل ہیں لیکن ہمیں پائپ لائن بچھانے کیلئے۲۰؍ہزار کے قریب روپے مزید خرچ کرنا پڑتے ہیںکیوں کہ جھوپڑ پٹی مین لائن سے ۲۵۰؍تا ۳۰۰؍میٹر دور واقع ہے۔‘‘
بارش کے بعد کام کا وعدہ
 دیگر وارڈوں میں حالات تقریباً ایسے ہی ہیں۔ مانخورد میں بی ایم سی نے جون کے آغاز میں ہی پانی کے کنکشن سے متعلق تمام کام  روک دیا ہے اور شہریوں سے کہا جارہا ہے کہ اب برسات کے بعد ہی کام شروع ہوگا۔ بھیم نگر نے تقریباً ۸۵۰؍گھر ہیں لیکن وبا سے پہلے ان میں سے محض ۱۰۰؍گھروںکو کنکشن ملا تھا۔ابرار سلمانی نامی رضاکار نے کہا کہ ’’نئی پالیسی کا اعلان ہونے کے بعد ہم نے وارڈ آفس سے رجوع کیا تھا، وہ کام شروع کرنے کیلئے بھی تیارتھے۔ شہریوں نے ۲؍سال پہلے ۴۸۴؍ روپے ادا بھی کئے تھے اور مزید ۸۰۰؍ روپے ادا کرنے والے تھے۔ بہرحال وارڈ آفیسر کا کہنا ہے کہ اب موسم برسات کے بعد ہی کام شروع ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ۴۵۰؍درخواستیں جمع کرائی ہیں لیکن ان میں سے محض ۸۰؍کو منظور کیا گیا ہے۔

water Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK