مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر سے ملاقات میں پہلوانوں نے ۵؍ نکاتی میمورنڈم دیا، ۱۵؍جون تک کارروائی کا مطالبہ ورنہ دوبارہ احتجاج ہو گا
EPAPER
Updated: June 08, 2023, 10:33 AM IST | new Delhi
مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر سے ملاقات میں پہلوانوں نے ۵؍ نکاتی میمورنڈم دیا، ۱۵؍جون تک کارروائی کا مطالبہ ورنہ دوبارہ احتجاج ہو گا
برج بھوشن سنگھ کے خلاف پہلوانوں کے احتجاج کی وجہ سے عالمی سطح پر ہونے والی رسوائی کو روکنے کے لئے کوشاں مرکزی حکومت کے ہاتھ جزوی کامیابی لگی ہے کیوں کہ بدھ کو وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر اور پہلوانوں کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں پہلوان ۱۵؍ جون تک اپنا احتجاج ملتوی کرنے پر راضی تو ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے حکومت کو ۵؍ نکاتی میمورنڈم پیش کیا ہے اور اس پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریسلنگ فیڈریشن کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان پہلوان ساکشی ملک، بجرنگ پونیا اور ستیہ ورت نے بدھ کو وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر سے ملاقات کی۔ وزیر کھیل نے خود پہلوانوں کوملاقات کی دعوت دی تھی۔ میٹنگ کے بعد اولمپک میڈلسٹ بجرنگ پونیا نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو کچھ نکات پیش کئے ہیں اور ان پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پونیا کے مطابق ہمارا بنیادی اور سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ برج بھوشن سنگھ کو گرفتار کیا جائے۔ ہم اس مطالبہ سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ ساتھ ہی ہم نے انہیں کہا ہے کہ فیڈریشن کا الیکشن ۳۰؍ جون سے قبل کروایا جائے، پولیس کی تفتیش ۱۵؍ جون سے قبل مکمل کی جائے اور فیڈریشن کی صدارت کسی خاتون کو سونپی جائے ۔ ساتھ ہی برج بھوشن سنگھ یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی کو بھی صدارت نہ سونپی جائے۔پونیا کے مطابق وزیر کھیل نے یہ تمام مطالبات تسلیم کئے ہیں اور کہا ہے کہ جلد از جلد ان پر کارروائی ہو گی۔ واضح رہے کہ پہلوانوں اور وزیر کھیل کے درمیان یہ میٹنگ تقریباً ۶؍ گھنٹے تک جاری رہی جس میںکئی نکات پر کافی غور خوض کی بات سامنے آرہی ہے۔
ادھر وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے میٹنگ کے بعد میڈیا سےگفتگو میں کہا کہ حکومت پہلوانوں کےتمام مسائل پر بات کرنے کیلئے تیار تھی اور اب ہم نےمسائل کو حل کرنے کا راستہ نکال لیا ہے۔ ہم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ تفتیش ۱۵؍ جون سے قبل مکمل ہو جائے گی۔
انوراگ ٹھاکرنے کہا کہ اس کے علاوہ کشتی فیڈریشن کے الیکشن بھی ۳۰؍ جون سے قبل کروالئے جائیں گے۔ ساتھ ہی پہلوانوں کے خلاف جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ بھی واپس لے لی جائے گی۔ اس کے علاوہ پہلوانوں نے جو مطالبات پیش کئے ہیں ان پر بھی ہم غور کریں گے ۔ واضح رہے کہ حکومت نے پہلوانوں کو اس بات کے لئے منالیا ہے کہ وہ فی الحال اپنا احتجاج ملتوی کردیں اور حکومت کو ۱۵؍ جون تک کا وقت دیں تاکہ کارروائی کی جاسکے۔ پہلوان فی الحال اس بات پر راضی تو ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے یہ انتباہ دیا ہےکہ اگر ۱۵؍ جون تک کارروائی نہیں ہوئی تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کردیں گے ۔اس میٹنگ سے پہلے ہی پہلوانوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کی گرفتاری سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔انوراگ ٹھاکر کے ساتھ ملاقات سے پہلے پہلوان ساکشی ملک نے کہاتھا کہ ہم دیکھیں گے کہ حکومت ہمیں کیا تجویز دیتی ہے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ برج بھوشن کی گرفتاری ہے۔ اگر ہمیں حکومت کی تجویز پسند آئی تو ہم احتجاج کرنے والے دیگر لیڈروں سے مشورہ کریں گے۔ ہم حکومت کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہم اپنی تحریک ختم کریں گے۔ یاد رہے کہ بجرنگ پونیا، ساکشی اور ونیش پھوگاٹ برج بھوشن کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن پر ایک نابالغ سمیت سات خواتین پہلوانوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ دہلی پولیس نے برج بھوشن کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں، جن میں سے ایک پوکسو (جنسی جرائم سے نابالغوں کے تحفظ) سے متعلق ہے۔ دہلی پولیس نے گزشتہ دنوںبرج بھوشن کی گونڈہ میں رہائش گاہ جا کر اس معاملے میں وہاں موجود ملازمین اور ساتھیوں سے پوچھ گچھ کی۔ یہ بھی یاد رہے کہ مرکزی حکومت اور پہلوانوں کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہے۔ پہلوانوں نے گزشتہ ہفتہ وزیر داخلہ امیت شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔