شیوسینا (ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے کی مہایوتی حکومت پرشدید تنقید، کہا کسانوں کیلئے قرض معافی کا اعلان کرنے کے بعد حکومت مکرگئی۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 9:54 AM IST | Mumbai
شیوسینا (ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے کی مہایوتی حکومت پرشدید تنقید، کہا کسانوں کیلئے قرض معافی کا اعلان کرنے کے بعد حکومت مکرگئی۔
شیو سینا (ادھو) کے لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے منگل یکم اپریل کو مہایوتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے’ `اپریل فول سرکار‘ قرار دیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے کسانوں کے قرضوں کی معافی اور `لاڈلی بہن یوجنا کی رقم میں اضافہ کرنے اور اسی طرح کے دیگر وعدوں پر عوام کو گمراہ کیا ہے اور اسی لئے یہ اپریل فول بنانے والی حکومت ہے۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی ) کے نظم و نسق پر بی جے پی اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ یہ حکومت صرف جھوٹے وعدے کرتی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہر حکومت کا اپنا نام ہوتا ہے، ہماری حکومت ایم وی اے حکومت تھی، لیکن ہم اس حکومت کو ’اپریل فول حکومت‘ کہتے ہیں کیونکہ اس نے بہت سے معاملات میں عوام کو فریب دیا ہے اور گمراہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی کسانوں کے قرضے معاف کر دیئے جائیں گے لیکن آج نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ نہیں ہوگا۔ لاڈلی بہن اسکیم کے تحت خواتین کو ماہانہ ۱۵۰۰؍ روپے سے بڑھا کر ۲۱۰۰؍ روپے دینے کا اعلان کیاگیاتھا لیکن رقم کیا بڑھانا تو دور تقریباً ۱۰؍ لاکھ خواتین کو اس اسکیم سے بے دخل کر دیاگیا ہےاوراب سن رہے ہیں کہ لاڈلی اسکیم بھی بند کر دی جائے گی ۔یہ اپریل فول نہیں تو اور کیا ہے۔ تہواروں میں آنند کا شیرا کی تقسیم بھی بند کر رہے ہیں۔
کچرا جمع کرنے کیلئے پہلی مرتبہ ٹیکس !
آدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ بی ایم سی پہلی مرتبہ گھر، ہوٹل ، میریج ہال ،ریستوراں،کافی شاپ ، ڈھابے، بینک ، گیسٹ ہاؤس ، کوچنگ کلاسس ، دواخانہ اسی طرح رہائشی اور کاروباری جگہوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے پر فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ یہ فیس ۱۰۰؍ روپے سے ۷؍ ہزار ۵۰۰؍ روپے تک ہوگی۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔بی ایم سی اڈانی پر خصوصی مہربانی کرتی ہے اور اس کی متعدد پریمیم معاف کرتی ہے وہیں دوسری جانب عام شہریوں پر جو پہلے ہی بی ایم سی کو ٹیکس ادا کررہے ہیں اس سے مزید ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔‘‘
آدتیہ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ کو پہلے اڈانی گروپ کو دیا گیا تھا، لیکن جب انہیں وہاں کچرے کا ڈھیر نظر آیا تو انہوں نے زمین بی ایم سی کو واپس کر دی۔ اب اس کی صفائی پر۳؍ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے، جو ممبئی کے شہریوں کے پیسے سے بی ایم سی کے خزانے سےادا کئے جائیں گے۔
انہوں نے مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلے کی بھی سخت مخالفت کی جس کے تحت ساؤتھ باؤنڈ کوسٹل روڈ کے ساتھ واقع کھلی جگہوں کی ترقی کیلئے بلڈرز کو لیز پر دیا جا رہا ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر آدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ’’یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کچھ بلڈرز کے ایجنٹ ساؤتھ باؤنڈ کوسٹل روڈ کی کھلی جگہوں پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے ممبئی کیلئے جو منصوبہ بنایا تھا، اس میں ایسی کوئی گنجائش نہیں تھی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ کھلی جگہیں صرف بی ایم سی کے پاس رہنی چاہئے تاکہ انہیں شہری جنگلات اور باغات میں تبدیل کیا جا سکے۔ ہم حکومت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان جگہوں کو بلڈروں یا ہورڈنگ کمپنیوں کے حوالے کرے جیسا کہ وہ چاہتی ہے۔‘‘