Updated: February 27, 2025, 10:59 PM IST
| Washington
ٹرمپ نے غزہ کے تعلق سے اے آئی کے ذریعے تیار کردہ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی، جس میں غزہ کو ترقی یافتہ دکھایا گیا تھا جس کے چوراہے پر ٹرمپ کا بڑا سا مجسمہ نصب تھا۔اس ویڈیو کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقیدوں کا سیلاب آگیا، ساتھ ہی حماس نے بھی ٹرمپ کی اس حرکت کی مذمت کی ۔
گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے اے آئی کے ذریعے تیار کردہ غزہ کا ایک ویڈیو شیئر کیا تھا، جس میں غزہ کو کھنڈرات سے نکل کر ترقی یافتہ شہر میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا تھا، جس کے چوراہے پر ٹرمپ کا دیوقامت مجسمہ نصب تھا۔ ساتھ ہی ہوٹل ، شراب خانے، رقص گاہ بھی دکھائی گئی تھی۔ اس تصوراتی ویڈیو کے خلاف دنیا بھر میں امن اور انصاف پسند افراد نے زبر دست تنقید کی۔ اس کے علاوہ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ہم بہتر مستقبل کی امید کر رہے ہیں، ایک بڑی جیل کی نہیں۔‘‘ حماس کے ترجمان اور سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ"بدقسمتی سے، ٹرمپ ایک بار پھر ایسے خیالات پیش کر رہے ہیں جو لوگوں کی ثقافتوں اور مفادات کا لحاظ نہیں رکھتے۔‘‘نیوز ویک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اہل غزہ خطے کی تعمیر نو دیکھنے کے خواہش مند ہیں ۔لیکن یہ ایک جیل کے اندر ممکن نہیں ہے۔ ہم جیل کی حالت کو بہتر بنانےکیلئے نہیں بلکہ جیل اورجیلر سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘رفح کے میئر احمد الصوفی نے کہا،اگر ٹرمپ فلسطینیوں کو عزت کے ساتھ رہنے کی جگہ اور بہتر مستقبل دینا چاہتے ہیں،انہیں چاہئے کہ وہ اسرائیل سے متصل ہی ایک ریاست بنا دیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نےاے آئی کی مدد سے ڈانس کلب، ساحل سمندر کےساتھ غزہ کا ویڈیو پیش کیا
یہ ویڈیو،جو انسٹاگرام پر لاکھوں لوگوں کے ذریعے دیکھی جا چکی ہے اور بدھ کی صبح تک ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر ہزاروں بار شیئر کی جا چکی ہے، نے آن لائن تنازعہ پیدا کیا ہے، جس پر بہت سے تبصرہ نگاروں نے اسے ’’خالص برائی‘‘،’’نسل پرستانہ‘‘ اور ’’نسلی کشی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ایک صارف نے ٹرمپ کو غیرت دلاتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ کا مجسمہ مسیح مخالفت کی علامت ہے، براہ کرم خدا کے سامنے عاجزی کریں۔‘‘ایک ایکس صارف نے لکھا کہ’’ جنگ زدہ علاقے میں عیش و آرام کی نمائش کرنا لاکھوں لوگوں کی تکالیف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی معاہدہ پر رکاوٹ ختم، اسرائیل ۶۲۰؍ فلسطینی قیدی رہا کرنے پر تیار
برطانیہ کے کارکن اور یونین سے وابستہ ہاورڈ بیکٹ نے ویڈیو پر سخت تنقید کی،اسے’’اصل نسل پرستانہ فاشزم‘‘کہا۔ ساتھ ہی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے شراب پینے کے منظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ شیطان نسل کشی اور نسلی تطہیر پر خوشی منا رہے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ ایک صارف نے ٹرمپ کے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ٹرمپ خود اپنے ملک میں غیر قانونی طورپرداخل ہونے والوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں،جبکہ خود غیرملکی زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رہے ہیں۔‘‘
ایک وکیل نے نسل کشی کو رئیل اسٹیٹ معاہدے کے طور پر بیان کیا ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ کی حرکت کو نو آبادیاتی، سفید فام کی بالادستی، صیہونیت، نسل پرستی اور خالص شیطانی کام قرار دیا۔