Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے ٹیرف اعلان سے بازا روں میں ہلچل

Updated: April 04, 2025, 11:32 AM IST | Mumbai

گھریلوشیئر بازارسمیت دنیابھر کے بازاروں  میں فروخت کا رجحان رہا، امریکی سرمایہ کاربھی ٹرمپ کے اقدام سے سہم گئے ہیں۔

File photo of the Bombay Stock Exchange (BSE) building. Photo: INN.
بامبے اسٹاک ایکسچینج(بی ایس ای) کی عمارت کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوبارہ ٹیرف نافذ کرنے کے اعلان نے دنیا بھر کے شیئربازاروں  میں  ہلچل پیدا کردی ہے۔ اس اعلان کا اثر جمعرات کو گھریلو بازار پر بھی نظر آیا ہے۔ عالمی تجارتی جنگ کے خدشات کے درمیان عالمی منڈی میں گراوٹ کے دباؤ میں مقامی سطح پر آئی ٹی، ٹیک، فوکسڈ آئی ٹی، آٹو اور آئل اینڈ گیس سمیت نو شعبوں میں بھاری فروخت سے شیئر بازار جمعرات کو بحران کا شکار رہا۔ 
۳۰؍ شیئرز پر مشتمل بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس۳۲۲ء۰۸؍ پوائنٹس گرکر ۷۶۲۹۵ء۳۶؍ پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی۸۲ء۲۵؍ پوائنٹس گر کر۲۳۲۵۰ء۱۰؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔ تاہم، بی ایس ای کی بڑی کمپنیوں کے برعکس مڈ کیپ اور اسمال کیپ کمپنیوں کے حصص میں خرید کا رجحان رہا۔ اس کی وجہ سے مڈ کیپ۰ء۳۱؍ فیصد بڑھ کر۴۱۷۹۶ء۰۸؍ پوائنٹس اور اسمال کیپ۰ء۷۶؍ فیصد بڑھ کر۴۷۴۹۴ء۱۱؍ پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ 
اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل۴۱۲۳؍ کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے۲۸۱۳؍ میں اضافہ، ۱۱۶۹؍ میں کمی اور۱۴۱؍میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر کل۲۹۶۳؍ کمپنیوں کا لین دین ہوا جن میں سے۲۰۵۷؍ کی خرید و فروخت۸۲۹؍ میں کمی جبکہ۷۷؍کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ 
بی ایس ای کے ۹؍ گروپس میں گراوٹ کا رجحان رہا۔ اس کی وجہ سے فوکسڈ آئی ٹی۴ء۱۳، آئی ٹی۳ء۷۸، ٹیک۲ء۸۵، سی ڈی۰ء۲۴ ؍فیصد، انرجی۰ء۳۸؍ فیصد، آٹو ۱ء۱۴ ؍فیصد، میٹل۰ء۹۹؍ فیصد اور آئل اینڈ گیس۰ء۵۹؍ فیصد اور ریئلٹی گروپ کے اسٹاک میں ۰ء۲؍ فیصد کمی ہوئی۔ وہیں ہیلتھ کیئر میں ۱ء۸۲؍ فیصد، یوٹیلٹیز میں ۲ء۴۴؍ فیصد اور پاور گروپ کے حصص میں ۱ء۸۳؍ فیصد اضافہ ہوا۔ 
بین الاقوامی سطح پر فروخت کا دباؤ تھا۔ جس کی وجہ سے برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں ۱ء۳۶؍ فیصد، جرمنی کے ڈی اے ایکس میں ۱ء۹۴؍ فیصد، جاپان کے نکیئی میں ۲ء۷۷؍ فیصد، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں ۱ء۵۲؍ فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں ۰ء۲۴؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 
ٹرمپ کے اقدامات سے امریکی سرمایہ کار بھی سہم گئے ہیں۔ جمعرات کو امریکی شیئر بازار میں ابتدائی کاروباری سیشن میں اہم انڈیکس ڈاؤجونز میں  تقریباً ۳؍ فیصد اور نیسڈیک میں  ۴؍فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK