Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

تراویح پڑھانے والے اِن تین سگے بھائیوں میں دو ڈاکٹر ہیں

Updated: March 21, 2025, 10:21 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

میراروڈ کی الگ الگ مساجد میں تینوں تراویح پڑھا رہے ہیں۔طبی ودفتری مصروفیات کے باوجود تراویح سنانے کےلئے قرآن پاک کے دور کا نظم متاثر نہیں ہوتا

Dr. Saeed and Dr. Moaz bin Mufti Abdul Rashid Qasmi.
ڈاکٹر سعید اور ڈاکٹر معاذ بن مفتی عبدالرشید قاسمی۔

صالح تربیت کے اثرات ہمیشہ نمایاں نظر آتے ہیں۔اس کی مثال ہیں ڈاکٹر برادران۔ ڈاکٹر سعید، ڈاکٹر معاذ اور حافظ معاویہ بن مفتی عبدالرشید جون پوری۔ یہ تینوں سگے بھائی حافظ ہیں اور میراروڈ میں الگ الگ مساجد میں تراویح پڑھا رہے ہیں۔تراویح کی امامت میں نہ تو طبی مصروفیات حائل ہوتی ہیں  نہ ہی دیگر مشاغل۔
 امسال ڈاکٹر سعید میرا روڈ میںمسجد ِاخلاص (کنکیا) میں پڑھارہے ہیں، اس مسجد میں ان کی یہ تیسری محراب ہے اور تراویح کی امامت کا ان کا یہ ۱۹؍ واں سال ہے۔ اس سے قبل انہوں نے مدنی مسجد میں، روزووڈ گارڈن کی مسجد میں اور گجرات میںالگ الگ مقامات پرپڑھائی ہے۔۱۰؍سال سے میراروڈ کی مساجد میںپڑھا رہے ہیں۔ 
 ۳۱؍سالہ ڈاکٹر سعید نے گجرات کے نانی نرولی میںواقع مدرسہ حضرت بلالؓ میں ۲۰۰۴ء میں قاری محمد زکریا فلاحی کے پاس ساڑھے ۱۳؍سال کی عمر میں حفظ کیااور تراویح پڑھانے لگےمگرعصری تعلیم بھی جاری رہی اور ۲۰۱۹ء میں ایم آئی جے ورسوا یونانی میڈیکل کالج سے طب کا فائنل امتحان پاس کیا ۔ 
 حافظ ڈاکٹر سعید رمضا ن المبارک میںصبح ۱۱؍بجے سے ۳؍بجے تک اور رات میں ۱۰؍بجے سے ۱۲؍ بجے تک کلینک جاتے ہیں، عصر اور مغرب کی نمازکے بعد تراویح پڑھانے کیلئے دَور کرتے ہیں ۔ اگر ایمرجنسی ہوتی ہے تو رات میں ۱۲؍ بجے کےبعدبھی اسپتال جاتے ہیں ۔ غیرِرمضا ن میںمطب کے اوقات الگ ہوتے ہیں۔ 
 حافظ ڈاکٹر سعید نے فائنل امتحان ۲۰۱۸ء کا ایک واقعہ بتایا کہ ’’ ہمارا فائنل امتحان اتفاق سے رمضان المبارک میں آیا، اس وجہ سے مجھے تراویح پڑھانے میںپس وپیش تھا کیونکہ کریئر سامنے تھا لیکن میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر معاذ نے مجھے یہ کہہ کرتحریک دی کہ سعید، رمضان اگر چلاگیا تو ضمانت نہیںکہ آئندہ ملے اور امتحا ن میںکمی بیشی پردوبارہ امتحان ممکن ہے۔ بھائی کی اس ترغیب سے مجھے حوصلہ ملا اور ہم دونوں نے امتحان دیا اوربحمدللہ نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ آج بھی یہ واقعہ میرے ذہن میںرہتا ہے ۔‘‘
 دوسرے بھائی ڈاکٹرمعاذ اے سی اے اسپتال میں  آئی سی یویونٹ کےڈاکٹر ہیں۔ یہ سنگھوی کمپلیکس میراروڈ کی مسجد میںپڑھا رہے ہیںاور یہاں یہ دسواں سال ہے جبکہ تراویح پڑھاتے ہوئےانہیں ۱۷؍سال ہوگئے ۔ انہوں نے بھی نانی نرولی کے مذکورہ ادارے میںڈیڑھ سا ل میں قرآن کریم حفظ کرلیاتھا۔ ان کے اساتذہ میںقاری نعمت اللہ فلاحی اورمفتی حسین فلاحی ہیں۔ یہ دونوں اساتذہ فی الوقت برطانیہ میں ہیں۔ 
 ڈاکٹر معاذ صبح ۱۱؍بجے سے افطار تک ہاسپٹل جاتے ہیں اوراگر ضرورت ہوتی ہے توتراویح کے بعد دوبارہ جاتے ہیں، بقیہ مہینوں کے معمولات مختلف ہوتے ہیں۔ حافظ ڈاکٹر معاذ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوںنے حفظ کرنے کے بعد اپنے اساتذہ کو ۵۰۰؍مرتبہ دَورسنایا جو مدرسہ کےریکارڈ میں درج ہے ۔ 
 اس خانوادے کےتیسرے حافظ معاویہ ہیں، انہوں نےچند سال قبل حفظ کیا ہے اور یہ تین برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ اس دفعہ وہ میراروڈ کی مسجد ابوہریرہ میں پڑھا رہے ہیں۔ ۲۲؍سالہ حافظ معاویہ ایک آفس میں ملازمت کرتے ہیں ۔
 موضع گورینی ضلع جون پور (یوپی) سے تعلق رکھنے والے اس خانوادے میںبکثرت علماء اور حفاظ موجود ہیں۔  مذکورہ تین حافظ اور ڈاکٹر بھائیوں کے والدمفتی عبدالرشید جون پوری عالم، حافظ اورنانی نرولی میںشیخ الحدیث تھے۔فی الوقت وہ مدنی مسجد (میراروڈ ) میںرمضان المبارک میںبعد نماز ظہر اور غیر رمضان میں سنیچر اور اتوار کو عشاء کی نمازکے بعد تفسیر بیا ن کرتے ہیں۔ ان کے دادا مولانا عبدالعلیمؒ زبردست حافظ قرآن تھے اوروہ علاقے میںحافظ جی سے ہی مشہور تھے اورپردادا معروف بزرگ اورمشہور دینی درسگاہ کے  بانی حضرت مولانا عبدالحلیم جون پوری ؒ تھے۔ دو چچا حافظ عبدالقوی (مقیم دبئی) اورسب سے چھوٹے چچا مولانا طلحہ قاسمی (گورینی)  میں مقیم ہیں۔ اس خانوادے میںبھی علماء اور حفاظ کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK