Inquilab Logo Happiest Places to Work

’غیر آئینی‘ وقف بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا

Updated: April 04, 2025, 11:24 PM IST | Mumbai

تمل ناڈو حکومت کے بعد کانگریس پارٹی، آر جے ڈی ، اسد الدین اویسی اور کانگریس لیڈر محمد جاوید کابھی عدالت سے رجوع کا اعلان ،جموں کشمیر اسمبلی نے قرار داد منظورکی

Muslims protested in several cities of the country after the Waqf Amendment Bill was passed in Parliament.
وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے بعد ملک کے کئی شہروں میں مسلمانوں نے جم کر احتجاج کیا

 وقف ترمیمی بل کو بزور طاقت منظور کروالینے کے بعد ایک طرف جہاں پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے وہیں اس سیاہ قانون کو کئی حلقوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کردیاگیا ہے۔بل کو چیلنج کرنے والوں میں کانگریس پارٹی ، بہار کی راشٹریہ جنتادل ، ایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی   اور کانگریس لیڈر محمد جاوید شامل ہیں۔ اس سے قبل تمل ناڈو حکومت اور وہاں برسراقتدار پارٹی  ڈی ایم کے نے بھی علاحدہ علاحدہ اس بل کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند اورمسلم پرسنل لاء بورڈ بھی اس بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 
کانگریس نے کیا کہا ؟
  اس تعلق سے میںکانگریس نے پارلیمنٹ  میں وقف ترمیمی بل کو بزور طاقت منظور کرائےجانے کے خلاف سخت احتجاج کے بعد اب اس کو سپریم کورٹ  میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی نے کہا کہ جس طرح اس نے شہریت ترمیمی قانون، عبادت گاہ  قانون اور دیگرمعاملوں پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہےاسی طرح وہ وقف ترامیم کے خلاف بھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے پوسٹ کیا کہ ’’شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف کانگریس پارٹی کے چیلنج پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔حق اطلاعات قانون ۲۰۰۵ء  میں ترامیم کےخلاف بھی پارٹی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر سماعت میں جاری ہے۔عبادت گاہوںکے تحفظ ایکٹ کی روح اور دفعات کے تحفظ کے  لئے بھی کانگریس کی مداخلت کی عرضی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔‘‘ انہوںنےمزید کہاکہ اسی طرح کانگریس وقف ترمیمی بل  کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے  لئے بہت جلد سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم آئین ہند میں درج اصولوں، دفعات اور روایات پر مودی حکومت کے ہر حملے کی سختی سے مخالفت کرتے رہیں گے۔‘‘
راجیہ سبھا میںووٹنگ کی تفصیلات بتائیں
 جے رام رمیش نےمزیدکہا کہ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں۱۲۸؍ اور مخالفت میں ۹۵؍ووٹ ڈالے گئے۔ایوان میں بی جے پی کی بل کی منظوری کافی کم ووٹوں سے ہوئی۔ دراصل  یہ راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی کیلئے جھٹکا تھا۔حکمراں جماعت کویہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اپوزیشن نے اتنی مضبوط تعداد اکٹھا کر لی ہے۔ اگر بیجو جنتا دل آخری وقت میں بی جے پی کے دباؤ کے سامنے نہ جھکتی تو یہ تعداد۹۵؍ سے زیادہ ہوتی۔
کس کس نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے ؟
 دریں اثناء کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ محمد جاوید اور مجلس کے سربراہ اسدالدین اویسی نےبھی سپریم کورٹ میں ان ترامیم کی آئینی حیثیت کو چیلنج  کرنے کا اعلان کیا ہے۔دونوںلیڈروں کی عرضیوں میں کہاگیا ہےکہ وقف میں موجودہ ترامیم مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔مسلمانوںکے اداروں پرحکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے۔یہ عرضی ایڈوکیٹ انس تنویرکے ذریعہ دائر کی گئی ہے ۔حالانکہ  ابھی تک صدر جمہوریہ نے اس بل پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ جب تک یہ باقاعدہ قانون نہیں بن جاتا تب تک اسے کورٹ میںچیلنج نہیں کیا جاسکتا۔  اس کے باوجود اس بل کیخلاف شدید ناراضگی کو دیکھتے ہوئےمسلم اور سیکولر فریقوں نے پہلے سے ہی تیاری کرلی ہے۔ دریں اثناءجموںکشمیر اسمبلی نے اس بل کیخلاف ۲؍قراردادوں کو منظوری دیتے ہوئے اس بل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK