• Fri, 28 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

متنازع وقف بل میں ۱۴؍ ترامیم کو مرکزی کابینہ کی منظوری

Updated: February 28, 2025, 11:04 AM IST | Agency | New Delhi

۱۰؍مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے اگلے مرحلے میں یہ بل پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

JPC chief Jagadambika Pal. Photo: INN
جے پی سی سربراہ جگدمبیکا پال۔ تصویر: آئی این این

مرکزی کابینہ نے متنازع وقف ترمیمی بل  میں ۱۴؍ ترامیم کو منظوری دے دی ہے۔ اب اس بل کو ۱۰؍مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے حصے میں پیش کیا جاسکتا ہے۔  واضح رہے کہ  بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ ۱۰؍ مارچ سے ۴؍ اپریل تک جاری رہے گا اور اسی دوران حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کر سکتی ہے۔ خیال رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں، علمائے کرام اور دیگر ماہرین کی جانب سے اس بل کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔بل وقف جائیدادوں کے تحفظ اور انتظامات کو بہتر بنانے  کے نام پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
  حکومت کے دعوے کے مطابق اس بل میں وقف قوانین میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں تاکہ وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ان کے استعمال کو شفاف بنایا جا سکے لیکن حکومت کے دعوئوں کے برعکس اس کی مخالفت بہت بڑی تعداد کر رہی ہے۔ اس سے قبل وقف بل پر غور کرنے کے لئے بنائی گئی جے پی سی نے وقف بل پر اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر بل کے نئے مسودے کو تیار کیا گیا، جسے اب کابینہ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت چاہتی ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوسرے حصے میں اسے لوک سبھا میں پیش کیا جائے اور وہاں سے منظور کروانے کے بعد راجیہ سبھا میں منظوری کے  لئے بھیجا جائے۔
  حکومت کے دعوے کے مطابق بل کے تحت وقف املاک سے متعلق معاملات میں شفافیت بڑھانے اور بے ضابطگیوں کو کم کرنے کے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ریاستی وقف بورڈز کی ذمہ داریوں کو مزید واضح کیا گیا ہے اور ان کے دائرہ کار کو مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ وقف املاک کی صحیح دیکھ بھال اور ترقی ممکن ہو سکے۔ حکومت اس بل کو جلد از جلد قانون کی شکل دینا چاہتی ہے جبکہ اس کے مخالفین سڑکوں پر اترنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK