طویل عرصے سےبستر علالت پر تھے ، ۸۷؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی ، حب الوطنی پر مبنی فلموں سے شہرت پائی ، آج آخری رسومات ادا کی جائیں گی
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 11:22 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
طویل عرصے سےبستر علالت پر تھے ، ۸۷؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی ، حب الوطنی پر مبنی فلموں سے شہرت پائی ، آج آخری رسومات ادا کی جائیں گی
اپنی فلموں کے ذریعے حب الوطنی کی اصل تصویر پیش کرنے والےمشہور اداکار و فلمساز منوج کمار انتقال کرگئے۔جمعہ کو انہوں نے ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی اسپتال میں آخری سانس لی۔ اس وقت ان کی عمر ۸۷؍ سال تھی۔ ان کی موت پر فلم انڈسٹری، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں اور ملک کی اہم شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے۔منوج کمار، جنہیں حب الوطنی پر مبنی فلموں کے باعث `بھارت کمار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار فلمیں دیں جن میں `اُپکار ، `پورب اور پچھم، `کرانتی، اور `روٹی کپڑا اور مکان شامل ہیں۔ ان کی فلمیں حب الوطنی، سماجی انصاف اور ہندوستانی ثقافت کی عکاسی کرتی تھیں۔ منوج کمار کے فرزند کنال گو سوامی نے میڈیا کیلئے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ان کے والد کافی عرصے سے مختلف بیماریوں سے جوجھ رہے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے بستر سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ان کا جمعرات اورجمعہ کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے ۳؍ بجے انتقال ہوگیا۔ سنیچر کی صبح ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ان کے والد کے چلے جانےکا غم تو ہے لیکن ان کے والد کافی تکلیف میں تھے اس لئے اطمینان ہے کہ انہیں ان تکلیفوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی ہے۔
منوج کمار کے بھتیجے منیش گوسوامی نے بتایا کہ عمر طبعی کافی زیادہ ہو جانے کی وجہ سے وہ مختلف عارضوں میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے انہیں ۲۱؍ فروری کو اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔گزشتہ ۳؍ روز سے منوج کمار نے بات چیت کم کردی تھی اور جمعہ کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ منوج کمارکی موت حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ۔ واضح رہے کہ منوج کمار کا اصل نام ہری کرشن گِری گوسوامی تھا۔ وہ بچپن سے دلیپ کمار کے مداح تھے اور دلیپ کمار کی فلم شبنم دیکھنے کے بعد وہ اس کے کردار ’منوج‘ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنا نام منوج کمار رکھ لیا تھا۔