وسئی : فرضی آرتھوپیڈک ڈاکٹر یوٹیوب پرآپریشن کا طریقہ سیکھ کر سرجری کرتا تھا

Updated: January 22, 2022, 8:14 AM IST | Mumbai

؍ ۳سال سے کلینک چلانے والا ملزم پہلے مسالے بیچتا تھا ۔ وہ و سئی ، ویرار اور نالاسوپارہ کے متعدد اسپتالوں کا کنسلٹنٹ بھی تھا۔ اس کے علاج سے مریض اب تک اچھے نہیں ہوئے ہیں

Accused doctor in police custody. In the second photo, the victim is Leena Khatkikar. (Inset) Hemant Sonawane
ملزم ڈاکٹرپولیس کی حراست میں۔ دوسری تصویر میں متاثرہ لینا کھاٹکیکر۔(انسیٹ) ہیمنت سوناونے

 یہاں پولیس نے ایک ایسے بوگس ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے جو پہلے مسالے بیچتا تھا ، بعد میں اس نے فرضی ڈگری کے ذریعے کلینک کھول لیا اور آرتھوپیڈک ڈاکٹر بن کر علاج ہی نہیں بلکہ آپریشن بھی کرنے لگا۔ وہ آپریشن سے قبل یوٹیوب پر اس کا طریقہ سیکھتا تھا۔ اسی لئے اس سے   علاج کرانے کا خمیازہ مریض آج تک بھگت رہے ہیں۔ملزم کا نام ہیمنت سوناونے عرف ہیمنت پاٹل  ہے جو وسئی ، ویرار اور نالاسوپارہ کے متعدد اسپتالوں کا کنسلٹنٹ بھی تھا۔ وہ  بڑودہ  میڈیکل کالج کی ڈگری کا استعمال کرتا تھا اور اس کے پاس کسی اور ڈاکٹر کا مہاراشٹر میڈیکل کاؤنسل (ایم سی سی ) کا رجسٹریشن  نمبربھی  تھا۔
 ملزم ہیمنت سوناونے ۲۰۱۸ء سے کلینک چلا رہا تھا جسے حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  چونکہ وہ ہڈیوں اور دیگر جسمانی اعضاء کے طبی آلات کا کاروبار کرتا تھااس لئے طبی اصطلاحات سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔اس بارے میں وسئی پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ ’’ اس کی طب کی معلومات صفر تھی اس کے باوجود وہ بڑا ہی پراعتماد نظرآتا تھا لیکن وہ خود کو میڈیکل پریکٹیشنر ظاہر کرتا  اور وسئی -ویرار-نالاسوپارہ کے متعدد اسپتالوں کا وہ آرتھوپیڈک کنسلٹنٹ بھی تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’جب وہ سیلس مین تھا تو  اس کا کئی آرتھوپیڈک ڈاکٹروں سے رابطہ ہوا تھا۔ جب ایک مریض نے ایک  مسئلے کیلئے اس سے رابطہ قائم کیا تھا تو اس کے بعد سے ہیمنت اسے ہمیشہ طبی مشورے دیا کرتا تھا پھر وہ اپنے مریضوں کا علا ج کرنے سے قبل یوٹیوب پر سرجریاں دیکھتا تھا۔‘‘
 ملزم نے ۵؍ خواتین سے شادی کی تھی جو سب کی سب تعلیم یافتہ ہیں اور ان ہی میں سے  ایک بیوی جو دانتوں کی ڈاکٹر ہے ، کو جب یہ پتہ چلا کہ اس کے پاس فرضی میڈیکل ڈگری ہے تو اس  نے امراوتی میں  پولیس کو اطلاع دی تھی۔ ذرائع کے مطابق جن اسپتالوں میں وہ کنسلٹنٹ تھا ، وہاں کی نرسوں کے ساتھ بھی مبینہ طورپر اس کے تعلقات تھے۔ پولیس نے ایک ڈائری ضبط کی ہے جس میں ہیمنت سوناونے نے اپنے مریضوں کی تفصیلات درج کی ہیں۔ مذکورہ  پولیس افسر نے مزیدبتایا کہ ’’ہمیں ایسے نصف درجن مریضوں کا پتہ چلا جن کی سرجری ہیمنت سوناونے کے ہاتھوں ہوئی تھی۔۔۔۔ ہم ان کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کارروائی کررہے ہیں اور  اس کے خلاف  مضبوط کیس بنانے کیلئے الگ سے  ایف آئی آر درج کی جائے گی۔‘‘
 ملزم ہیمنت سوناونے کے علاج سے متاثرہ ایک  خاتون کے اہل خانہ اب سامنے آئے ہیں۔ وسئی کی ماہی گیر لینا کھاٹکیکر (۴۳)کی وسئی کے شری سائی ملٹی اسپیشلسٹ اسپتال میں کولہے کا جوڑ تبدیل کرنے کا آپریشن  ملزم سوناونے کے ذریعے دسمبر ۲۰۱۹ء میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے ہی وہ  صاحب فراش ہے۔اس بارے میں لینا کے شوہر لیلادھر نے   بتایا کہ ’’ زخم ابھی تک نہیں بھرے ہیں ، زخم سے اب بھی  پیپ نکل رہا ہے ۔ میں بہت غریب ہوں اور اپنی بیوی کے علاج کا  خرچ برداشت نہیں کرسکتا ۔ سوناونے نے ہمیں برباد کردیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’سرجری سے قبل  میری بیوی مچھلیاں فروخت کرنے کیلئے قلابہ جایا کرتی تھی۔ جب اس کے پچھلے حصے میں درد ہونے لگا تو میں اسے وسئی میں سوناونے کے کلینک لے گیا جہاں اس نے  مجھ سے کہا کہ اس کے کولہے کے جوڑ کی سرجری کی ضرورت ہے جس کا خرچ ایک لاکھ ۷۵؍ہزار روپے ہوگا جس کے بعد وہ بالکل اچھی ہوجائے گی۔ میں نے  اپنے رشتہ داروں سے مالی مدد مانگی  اور طبی اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض بھی لیا۔ علاج پر کل ۴؍ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’پہلے اسے وسئی کے سدھی ونائک اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن ۲؍ دن بعد سوناونے نے   شری سائی  ملٹی اسپیشلسٹ اسپتال منتقل کرنے کو کہا۔ ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو اس کا پہلا آپریشن  اور ۶؍ دن کے بعد  دوسرا آپریشن کیاگیا اور اسے اسپتال سے ڈسچارج کردیا۔‘‘
 لیلادھرکے مطابق ’’میری بیوی مجھ سے ہمیشہ کہتی تھی کہ سرجری کے بعدسے اس کے درد میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ یہی بات ہم ڈاکٹر کو بھی بتاتے تھے لیکن جواب میں وہ یہی کہتاتھاکہ سب ٹھیک ہوجائےگا ۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا تھا کہ  مجھے معلوم ہےکہ آپریشن ناکام بھی ہوجاتے ہیں لیکن کم از کم زخم کا علاج تو ہونا چاہئے لیکن  وہ مجھ پر چِلاتا تھا ۔ میں سوچتا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹرہے جسے مجھ سے زیادہ معلومات ہے لیکن وہ تو ایک دھوکہ باز نکلا جس نے ہماری زندگی جہنم بنادی۔‘‘
 چند ہفتوں کے بعد کوروناوائرس پھیلنے کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذہوگیا اور میاں بیوی  ہیمنت سوناونے سے ملاقات نہ کرسکے۔ لیلادھر کے مطابق ’’ وہ ہمیشہ ہم سے فون پر بھائندر کے اسپتال آنے کا کہتا تھا۔ جب میں بیوی کے زخم کی ڈریسنگ کرتاتھا تو بڑی بے بسی محسوس ہوتی تھی کیونکہ لاک ڈاؤن میں اس کے علاج کیلئے میرے پاس پیسے نہیں  تھے۔‘‘ اب متاثرہ لینا کوواش روم جانے کیلئے والکر کی ضرورت پڑ رہی ہے۔لیلادھر نے بتایا کہ انہیں حال ہی میں سوناونے کے خلاف کیس کے بارے میں معلوم ہوا اور  اس نے پولیس سے رابطہ قائم کیا۔  اس کی بیوی کا بیان درج کرانے کیلئے اب تک پولیس ٹیم نہیں پہنچی ہے۔

vasai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK