Updated: April 02, 2025, 11:20 PM IST
| New Delhi
لوک سبھا میںمتنازع وقف بل پیش ، کرن رجیجو نے اسے وقف بورڈس اور جائیدادوں میںاہم اصلاحات پر مبنی بل قرار دیا ،اے راجا نے کہا کہ جس پارٹی کا ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں
ہے وہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کررہی ہے ،اقراء حسن نے بل کو مسلمانوں کی شناخت مٹانے والا قرر دیا، امیت شاہ کا دھمکی آمیز بیان ، کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے اسے سبھی کو قبول کرنا پڑے گا
تمام تر مخالفتوں، ناراضگی اور تشویش کے باوجود اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے درمیان وقف (ترمیمی) بل۲۰۲۵ء بحث کے لئے بدھ کو لوک سبھا میں پیش کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ صفائی دینے کی کوشش کی کہ یہ بل خالصتاً جائیداد کے انتظام کا معاملہ ہے اور اس سے کسی بھی مذہب کے مذہبی امور کوئی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔ رجیجو نے کہا کہ حکومت کسی مذہبی کام میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ یہ مندر یا مسجد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ خالصتاً جائیداد کے انتظام کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کا انتظام متولی کرتے ہیں اور یہ بل اسی انتظام سے متعلق ہے۔پارلیمانی امور کے وزیر نے اس سلسلے میں کیرالہ اور الہ آباد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے تین فیصلوں کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ تینوں فیصلوں میں عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ مسلم وقف یا ہندو مندروں کی جائیدادوں کے انتظام کا کام فطری طور پر سیکولر ہے اور اسے وہی رہنا چاہئے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ جے پی سی نے اس بل پر ملک بھر کے تمام طبقات کے لوگوں سے وسیع مذاکرات کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور اسی بنیاد پر یہ بل منظور کرانے کیلئے ایوان میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ اگر ترمیمی بل نہ لایا جاتا تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف املاک ہوتی ۔ ۲۰۱۳ءمیں دہلی وقف بورڈ نے پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی وقف املاک قرار دے دیا تھا لیکن یو پی اے حکومت نے اسے ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔ اگر موجودہ حکومت ترمیم نہ لاتی تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف جائیداد بن جاتی ۔ واضح رہے کہ حکومت نے اس بل پر بحث کیلئے ۸؍ گھنٹے کا وقت طے کیا ہے جو خبر لکھے جانے تک ۲؍ گھنٹے بڑھادیا گیا تھا ۔ یعنی لوک سبھا میں رات ۱۰؍ بجے تک بحث ہونے والی تھی ۔
گورو گوگوئی نے اہم باتیں کہیں
کرن رجیجو کے خطاب کے بعد کانگریس کی جانب سے گورو گوگوئی نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بھی چاہتی ہے کہ قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں لیکن حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔ حکومت وقف بل کے حوالے سے کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ کہہ کر کنفیوژن پھیلا رہی ہے کہ بل پر بڑے پیمانے پر بحث ہو چکی ہے جبکہ حکومت اس پر من مانی کرتی رہی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ بل اقلیتی امور کی وزارت نے نہیں بلکہ کسی اور وزارت نے تیار کیا ہے اس لئے اس میں اقلیتوں کے مفادات کے لئے دفعات نہیں رکھی گئی ہیں ۔
کلیان بنرجی نے مدلل انداز میں تقریر کی
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے خلاف اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وقف املاک پر سیاست کر رہی ہے، جبکہ یہ مسلم کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کلیان بنرجی نے۱۹۹۵ءکے وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے۔
شیو سینا(ادھو ) نے جم کر مخالفت کی
شیو سینا (ادھو) کے کن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ جو لوگ پہلے کہتے تھے کہ اگر ہم بٹیں گے تو کٹیں گے، اب غریب مسلمانوں کو سوغات مودی دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر آپ بانٹیں گے تو آپ بچیں گے۔یہ بہت حیران کن ہے۔ دراصل بہار کے انتخابات آنے والے ہیں اس لئے یہ سب ہو رہا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں غیر مسلم ممبران کو شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں غیرہندوؤں سے ہندو مندروں میں داخلے کی درخواست کی جائے گی۔ ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے۔ یہ بل کس وجہ سے لایا گیا ہے واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہے۔
این سی پی (شرد) نے بھی مخالفت کی
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کے ایم پی نیلیش گیان دیو لنکے نے کہا کہ پہلے وقف بورڈ میں انتخاب جمہوری طریقے سے ہوتا تھا لیکن اب افسران انتخاب کریں گے جو کہ غلط ہے۔ حکومت وقف اراضی کو تجاوزات قرار دے کر قبضہ کرنے جا رہی ہے۔