میٹنگ میں حکام نےبتایا کہ سیاحوں کی رہنمائی کیلئے بورڈ آویزاں کئے جائیں گے ۔ ایک کمیٹی تشکیل دینے کابھی فیصلہ۔ یقین دہانی کے بعدمقامی افراد نے ۲؍ دن سے جاری ’ماتھیران بند‘ احتجاج واپس لے لیا
EPAPER
Updated: March 20, 2025, 10:26 AM IST | Mumbai
میٹنگ میں حکام نےبتایا کہ سیاحوں کی رہنمائی کیلئے بورڈ آویزاں کئے جائیں گے ۔ ایک کمیٹی تشکیل دینے کابھی فیصلہ۔ یقین دہانی کے بعدمقامی افراد نے ۲؍ دن سے جاری ’ماتھیران بند‘ احتجاج واپس لے لیا
یہاں ۱۸؍مارچ سے مقامی افراد ، ہوٹل والوں اور دکانداروں نے احتجاجاً کاروبار بند کر دیا تھا جس سے سیاحوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دراصل یہ احتجاج جس کی قیادت ’ماتھیران پریٹن وچاؤ سنگھرش سمیتی (ایم پی وی ایس ایس)‘کر رہی تھی، دستوری انٹری پوائنٹ پر دھوکہ بازی اور ٹھگنے کے معاملات کے وجہ سے کیا گیا جہاں ایجنٹس، حمال ، گائیڈ اور کچھ گھوڑے والے سیاحوں کو گمراہ کرتے ہیں اور ان سے زیادہ پیسے اینٹھ لیتے ہیں ۔ ماتھیران کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس تعلق سے بارہا شکایات کے باوجود حکام نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں اسی لئے وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔مقامی افراد، ہوٹلوں کے مالکان، تاجروں، ای رکشا اسوسی ایشن ، ٹیکسی مالکان اور سماجی تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جب تک اس دھوکہ بازی کو روکنے کیلئے ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی ہے تب تک ماتھیران بند رہے گا۔ ۲۷؍فروری کو محکمہ ریوینیو، میونسپل کونسل، محکمہ جنگلات اور پولیس کو باضابطہ شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ کرنے پر انہیں مایوسی ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے ۱۸؍ مارچ سے بے مدت ماتھیران بند کا فیصلہ کیا تھا۔ اس احتجاج کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد ہوا اور حکام نے ان کے مطالبات منظور کرلئے جس کے بعد احتجاج واپس لے لیا گیا۔
چونکہ ماتھیران بند احتجاج سے وہاں آنے والے سیاح لاعلم تھے اس لئے انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گھاٹکوپر سے تفریح کیلئے آنے والے نتن پگار نے کہا کہ ’’ہمیں ہڑتال کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا، تمام دکانیں بند تھیں جس کی وجہ سے ہمیں فوری طور پر گھر لوٹنا پڑا۔ ‘‘
’ٹائمز ناؤ‘ کی خبر کے مطابق میونسپل کونسل کے سابق صدر اور ایم پی وی ایس ایس کے رکن منوج کھیڈکر نے بتایا تھا کہ جب تک حکام ایسی دھوکے بازی کو ختم کرنے کیلئے قدم نہیں اٹھاتے، ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔ دریں اثناء گھوڑے والوں کا کہنا تھا کہ وہ ماتھیران کا ورثہ ہے اوریہاں کی معیشت ان پر منحصر ہے۔ انہوں نے سیاحت میں کمی کیلئے سوشل میڈیا کے منفی جائزوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
اس بارے میں جب اس نمائندے نے ماتھیران میں آشیانہ کاٹج کےمحمد زید سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ منگل اور بدھ سے ماتھیران بند تھا۔ اس بارے میں منگل کو میٹنگ ہوئی تھی اور آج (بدھ) کو بھی میٹنگ ہوئی جس میں احتجاج ختم کرنےپرگفتگو ہوئی۔
ماتھیران کے رہنے والے شکیل ورنکر سے گفتگو کرنے پر انہوں نے بتایا کہ آج (بدھ) کو مقامی رکن اسمبلی اور نائب کلکٹر نے یہاں کا دورہ کیا تھا اور مسئلہ حل کرنے کا یقین دلایا تھا جس کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا اور ساری دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج (بدھ) کی دوپہر ماتھیران میں کرجت کے ڈی وائی ایس پی ، مقامی رکن اسمبلی اور پرانت ادھیکاری وغیرہ کے ساتھ میٹنگ بالاصاحب ٹھاکرے سبھاگرہ، ماتھیران میں ہوئی جس میں مقامی افراد کے مطالبات کو تسلیم کرلیا گیااور متنبہ کیا گیا کہ سیاحوں کو ٹھگنے اور انہیں لوٹنے والوں پر کارروائی کی جائے گی۔میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ ماتھیران تفریح کیلئے آنے والوں کی رہنمائی کیلئے بورڈ آویزاں کئے جائیں گے اور ایک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک کا کتنا کرایہ ہوتا ہے ، اس کی نشاندہی کی جائے گی۔ اسی طرح پیچھے کا گیٹ بند کردیا گیا ہے جہاں سے دلال اور گھوڑے والے سیاحوں کو تفریح کرانے کے بہانے لے جاتے تھے اور انہیں گمراہ کرکے اور دھوکہ دے کر ان سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے تھے۔ ’زی ۲۴ تاس ‘ کی خبر کے مطابق رکن اسمبلی مہندر تھوروے نے بدھ کو ماتھیران کا دورہ کیا اور سنگھرش سمیتی کے کارکنوں اور انتظامیہ کی مشترکہ میٹنگ میں کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس سلسلے میں ایک ضابطہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اس مقصد کیلئے مختلف تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کراس بارے میں فیصلے کئے جائیں گےجس کے بعد ماتھیران بند واپس لے لیا گیا۔