Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھواڑہ اور وِدربھ میں ذخائر آب میں کمی ، پانی کیلئے ہاہاکار

Updated: April 04, 2025, 9:42 AM IST | Ali Imran | Aurangabad

پانی کی قلت اور کٹوتی کے باعث درجنوں گاؤں میں ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ریاستی انتظامیہ نے کئی کنوؤں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے

Village women wait for a water tanker in the scorching sun.
کڑی دھوپ میں ایک گاؤں کی خواتین پانی کے ٹینکر کا انتظار کرتے ہوئے

 ریاست کے مراٹھواڑہ اور ودربھ میں جہاں ایک طرف گرمی سے لوگوں کاحال بے حال ہے۔وہیں پانی کی کمی کے مسئلے سے بھی ان کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ریاست کے ان دونوں ہی خطوں میں حالات اتنے سنگین ہیں کہ حکومت کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے۷۰؍ کنوؤں کو اپنی تحویل میں لینا پڑاہے۔ نیز متاثرہ علاقوں میںٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاررہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مراٹھواڑہ کے ۳؍ اضلاع میں کل ۶۲؍ گاؤں کو پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ 
مراٹھواڑہ کی کیا صورتحال ہے؟
 ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فی الوقت ۲۱؍ گاؤں اور ۳؍ بستیوں میں پانی کی سپلائی ٹینکروں کےذریعہ کی جارہی ہے۔ ان متاثرہ علاقوں میں کل ۱۹؍ٹینکروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جن میں سے ۱۷؍ اورنگ آباد ضلع اور ۲؍ ناندیڑ ضلع میں پانی پہنچا رہے ہیں۔مراٹھواڑہ کے جن اضلاع میں پانی کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہےان میں اورنگ آباد، ناندیڑ اور ہنگولی شامل ہیں۔انتظامیہ نے اورنگ آباد ضلع میں ۳۴، ہنگولی میں ۱۵، اور ناندیڑ میں ۲۱؍ نجی کنوؤں کو تحویل میں لیاہے۔ تاکہ مقامی افراد تک پانی کی سپلائی کا سلسلہ جاری ہے۔  پانی فراہمی میں کٹوتی کے سبب دیہی علاقوں کا حال زیادہ خراب ہے۔ کئی گاؤں میں لوگ سخت دھوپ کی پروا کئے بغیر پانی کے حصول کے لئے میلوں پیدل چل کر جارہے ہیں۔جہاں ٹینکروں سے پانی پہنچایا جارہا ہے وہاں لوگ اپنے برتن اور پانی کے کین لئے گھنٹوں قطار بند بیٹھے رہتے ہیں۔
ودربھ کے آکولہ ضلع کے ۶۰؍ گاؤں پانی کی قلت  سے پریشان
 ودربھ خطہ جہاں ہرسال بارش کم ہونے کے سبب پانی کی قلت کا مسئلہ سراُبھارتا رہتا ہے۔اس بار بھی آکولہ ضلع کے کئی گاؤں میں پانی کٹوتی کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  بالا پور،تیلہارااور آکوٹ تحصیل کے  تقریباً ۶۰؍ گاؤں پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہاں کے باشندے مجبوراً بورویل کا کھارا پانی پینےپر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے گردے کے عارضہ سمیت مختلف امراض  سے متاثر ہورہے ہیں،۔ پچھلے دنوں اس ضمن میں رپورٹیں آنے کے بعد سرکاری انتظامیہ ایکشن میں آگیا ہے۔ رپورٹی کے مطابق بالا تعلقے کے ساور پاٹی گاؤں میں لوگ  برسوں سے کھارا پانی پی رہے ہیں۔ اس وجہ سے گاؤں کے کئی افراد کے گردے خراب ہوچکے ہیں۔ان ہی میں سے ایک پرشانت کالے بھی ہیں۔ جن کے گردے خراب ہوچکے ہیں۔ اب تک اس کے علاج میں وہ بارہ لاکھ روپے جھونک چکے ہیں۔ اس بیماری نے پرشانت کو شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ علاج کے لئے پرشانت کو اپنا کھیت بھی بیچناپڑاہے لیکن اب تک ان کی صحت بہتر نہیں ہوئی ہے۔
بلڈانہ ضلع کے ڈیموں کی سطح آب میں نمایاں کمی
  ضلع کے سبھی آبی ذخائر میں نمایاں کمی کے سبب پانی کی قلت کامسئلہ درپیش ہے۔اس وجہ سے ۱۰۰؍ سے زائد گاؤں میں ٹینکروں اور نجی طور پر حاصل کیے گئے کنوؤں سے پانی فراہم کیا جارہاہے۔ اس کے باوجود لوگوں کوحسب ضرورت پانی دستیاب نہیں ہوپارہا ہے۔ اس وجہ سے    پانی کے حصول کے لئے لوگ  برتن اور کین اٹھائے کڑی دھوپ میں میلوں چل کر جارہے ہیں۔
 معلوم ہوکہ اپریل کے آغاز میں زیادہ تر ڈیم اور آبپاشی پروجیکٹس میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس  وجہ سے ضلع میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ فی الحال ضلع کے بڑے، درمیانے اور چھوٹے ڈیم پروجیکٹس  میں کل ۳۲؍ فیصد پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ جب کہ ابھی اپریل ماہ کے شروعاتی دن ہیں اور موسم باراں کو شروع ہونے میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ کا وقت باقی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تین بڑے پروجیکٹوں یعنی نلگنگا، کھڑک پورنا اور پین ٹاکلی میں صرف۳۲ء۱۸؍ پانی کا ذخیرہ دستیاب ہے۔ گیان گنگا، ماس، کوراڈی، پالڈھگ، من، تورنا اور اُوتاولی اور۴۱؍ چھوٹے منصوبوں میں صرف ۳۷ء۸۹؍ فیصد پانی بچا ہے۔ گزشتہ مانسون میں کئی سال کے بعد سیلابی بارش ہوئی تھی جس کی وجہ سے نلگنگا پروجیکٹ میں۵۱؍ فیصد کا ذخیرہ آب ہوگیا تھا۔

marathwada Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK