عدالت عظمیٰ نے اپنے غیر معمولی فیصلے میں اسکول سروس کمیشن کے ۲۰۱۶ء کے تقرری کے پورے عمل کو منسوخ کردیا، تصدیق کی کہ اس میںدھاندلی کی گئی ہے
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 11:11 PM IST | New Delhi
عدالت عظمیٰ نے اپنے غیر معمولی فیصلے میں اسکول سروس کمیشن کے ۲۰۱۶ء کے تقرری کے پورے عمل کو منسوخ کردیا، تصدیق کی کہ اس میںدھاندلی کی گئی ہے
سپریم کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال میںاساتذہ تقرری گھوٹالہ سے متعلق کلکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میںہائی کورٹ نے ۲۵؍ ہزار سے زائد اساتذہ کی تقرری کو غیر آئینی قراردیا تھا ۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک غیر معمولی فیصلے میں اسکول سروس کمیشن کے ۲۰۱۶ء کے تقرری کے پورے عمل کو منسوخ کردیا ۔ اس کے ساتھ ہی ۲۶؍ہزار اساتذہ نوکری ختم ہوگئی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس سارے عمل میں دھاندلی کی گئی ہے۔ اس بھرتی کے عمل کی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بینچ نے ریاست میں ۲۶؍ ہزار اساتذہ (عام طور پر۲۵۷۵۲)کی تقرری کو منسوخ کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نئی بھرتی کا عمل ۳؍ ماہ میں شروع کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جو لوگ دیگر سرکاری ملازمتیں چھوڑ کر ایس ایس سی ۲۰۱۶ء کے ذریعے اسکول کی نوکریوں میں شامل ہوئے ہیں اگر وہ چاہیں تو اپنی پرانی ملازمتوں پر واپس جا سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ جو امیدوار۲۰۱۶ء کی ایس ایس سی کے تحت ملازمت حاصل کرنے کے بعد کام کر رہے تھے وہ نئی بھرتی کے عمل میں اہلیت کے امتحان کیلئے درخواست دے سکتے ہیں ۔ عدالت نے فروری میں اس کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ ایس ایس سی۲۰۱۶ء کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی بھرتی میں بدعنوانی کے الزامات لگے تھے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں سماعت کے بعد ۲۰۱۶ء کے پورے بھرتی عمل کو منسوخ کر دیا تھا۔ ایس ایس سی کی۲۶؍ ہزار نوکریوں کی منسوخی کے اس معاملے میں کئی پیچیدگیاں تھیں۔ جن میں سے ایک اہل اور نااہل امیدواروں کے انتخاب کا مسئلہ تھا۔ اہل اور نااہل کو الگ کیسے کیا جائے اس سوال کا جواب حکومت عدالت میں نہیں دے سکی