EPAPER
’پنگ شُن‘ ٹینکر، جس پر تقریباً ۶ لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے، نے پہلے گجرات کی وادینار بندرگاہ کو اپنی منزل ظاہر کیا تھا۔ تاہم، جیسے ہی ٹینکر ہندوستانی ساحل کے قریب پہنچا، اس نے اپنا راستہ تبدیل کرلیا اور اب چین کے شہر ’ڈونگ ینگ‘ کو اپنی نئی منزل قرار دیا۔
April 03, 2026, 7:53 PM IST
ایران جنگ نے عالمی تجارت، سفارتکاری اور جنگی حکمت عملی کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کشمکش جاری ہے جبکہ سپلائی چین دباؤ میں ہے۔ خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندی بھی سامنے آ رہی ہے۔
April 03, 2026, 7:23 PM IST
ایران جنگ کے دوران امریکی مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو امریکی فیصلوں سے جوڑا جبکہ ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔
April 03, 2026, 6:49 PM IST
ایران جنگ کے دوران خلیجی خطے میں حملوں کی شدت بڑھ گئی ہے، جہاں سعودی عرب، کویت اور بحرین کو نشانہ بنایا گیا۔ توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ علاقائی سلامتی دباؤ میں آ گئی ہے۔
April 03, 2026, 6:38 PM IST
ایران جنگ میں دعوؤں اور جوابی بیانیے کی شدت بڑھ گئی ہے۔ ایران نے امریکی ایف ۳۵؍ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ یو اے ای میں سائبر حملے کے الزامات بھی سامنے آئے، جنہیں دبئی نے مسترد کر دیا۔
April 03, 2026, 6:07 PM IST
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز عالمی کشیدگی کا مرکز بنی رہی، تاہم محدود بحری آمدورفت بحال ہونے لگی ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کو انتباہ دیا جبکہ عمان کے ساتھ مشترکہ نگرانی کے نئے پروٹوکول پر کام جاری ہے۔
April 03, 2026, 5:55 PM IST
سو سے زائد بین الاقوامی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں، ماہرین نے مارچ کے وسط میں ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ امریکہ ایران پر ’’محض تفریح کے لیے‘‘ حملے کر سکتا ہے، اور پینٹاگون چیف پیٹ ہیگستھ کے اس بیان کا بھی کہ امریکہ جنگ کے دوران احمقانہ جنگی اصولوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
April 03, 2026, 8:22 PM IST
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت۴۵۰ روپے فی لیٹر تک جا پہنچی، ڈیزل۵۰۰؍ سے تجاوز کر گیا ،شہباز شریف حکومت نے ایران جنگ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں۱۳۷؍ اعشاریہ ۲۳؍ روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں۱۸۴؍ اعشاریہ ۴۹؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا۔
April 03, 2026, 4:32 PM IST
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں، منفرد طبی ضرورت (مثلاً نایاب بلڈ گروپ) پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ویکسین کی حفاظت کے متعلق خدشات کی وجہ سے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ کووڈ-۱۹ ویکسین خون کی ساخت، ڈی این اے کو تبدیل کرتی ہے یا انتقالِ خون کے ذریعے خطرات کا باعث بنتی ہے۔
April 03, 2026, 4:10 PM IST
