EPAPER
بدھ کو لوک سبھا میں راہل گاندھی کے اظہارِ خیال کے دوران وہ سب کچھ ہوا جو راہل کی تقریر کے دوران ہوتا آیا ہے۔ اُنہیں بولنے سے روکا گیا، ضابطوں کا حوالہ دیا گیا اور اُن کے ذریعے کہے گئے ایک لفظ کو پارلیمانی ریکارڈ سے ہٹانے کی بات کی گئی۔ ایل او پی راہل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی کا نام لے کر وہ لفظ نہیں کہا کیونکہ یہ غیر پارلیمانی طریقہ ہے مگر حکمراں محاذکچھ سننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد جب راہل نے وزیر داخلہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے مظاہرین پر کارروائی کا حکم دیا تب بھی حکمراں محاذ چراغ پا ہوگیا جس نے راہل سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ اُن کے پاس اس دعوے کی دلیل کیا ہے۔
July 30, 2026, 2:53 PM IST
پیر کو راہل گاندھی نے برف بیچنے والے محمد عرفان سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور آئین کے تئیں اُن کی سمجھداری اور ناخواندہ ہونے کے باوجود اُن کے خیالات اور معلومات کی ستائش کی۔اس خبر کی جزئیات سے آپ واقف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس نے مسلم نام نہ لینے اور مسلمانوں کے مسائل پر براہ راست گفتگو نہ کرنے کی اپنی پالیسی بدل دی ہے؟ کیا کانگریس کو عقل آگئی ہے؟ کیا کانگریس نے سمجھ لیا ہے کہ ’’نرم ہندوتوا‘‘ سے اس کا بھلا نہیں ہوسکتا؟
July 30, 2026, 2:44 PM IST
راہل گاندھی کا سخت حملہ، کابینہ سےبرطرفی کا مطالبہ کیا، ۲۰؍ جولائی کے تشدد کوظالمانہ قراردیا، سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کی مانگ کی۔
July 30, 2026, 10:18 AM IST
پارلیمنٹ میں لفظ ’’ایڈیٹ‘‘ پر بی جےپی تلملا گئی، غیر پارلیمانی قرار دیکر کارروائی سے حذف کروایا، مگر تب تک راہل بہت کچھ کہہ چکے تھے
July 30, 2026, 7:27 AM IST
