انو راج سنگھ ایک ہندوستانی شوٹر ہیں جنہوں نےحنا سدھو کے ساتھ مل کر ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمزمیں خواتین کی جوڑی ۱۰؍میٹر ایئر پستول میں طلائی تمغہ جیتاتھا۔ وہ پچھلے کچھ برسوں سے زیادہ تر شوٹنگ کے مقابلوں میں تمغے حاصل کر رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: February 18, 2025, 5:09 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
انو راج سنگھ ایک ہندوستانی شوٹر ہیں جنہوں نےحنا سدھو کے ساتھ مل کر ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمزمیں خواتین کی جوڑی ۱۰؍میٹر ایئر پستول میں طلائی تمغہ جیتاتھا۔ وہ پچھلے کچھ برسوں سے زیادہ تر شوٹنگ کے مقابلوں میں تمغے حاصل کر رہی ہیں۔
انو راج سنگھ ایک ہندوستانی شوٹر ہیں جنہوں نےحنا سدھو کے ساتھ مل کر ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمزمیں خواتین کی جوڑی ۱۰؍میٹر ایئر پستول میں طلائی تمغہ جیتاتھا۔ وہ پچھلے کچھ برسوں سے زیادہ تر شوٹنگ کے مقابلوں میں تمغے حاصل کر رہی ہیں۔ انو نے ۲۰۱۰ء کے ایشین گیمز ٹیم ایونٹ میں چاندی، ۲۰۱۰ء کےکامن ویلتھ گیمز کے جوڑوں کے ایونٹ میں سونے اور دوحہ میں ۲۰۰۹ء کی ایشین چمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔ لیکن یہ پچھلے سال امریکہ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں چاندی کا تمغہ تھا جس نے شوٹر کے لیے اولمپک کوٹہ یقینی بنایا۔ انہوں نے لندن اولمپکس میں ۱۰؍میٹر ایئر پستول شوٹنگ مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔
انوراج سنگھ۱۷؍فروری، ۱۹۸۴ءکوعلی گڑھ، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ انو راج سنگھ کی فیملی کا تعلق شوٹنگ سےہے۔ ان کے بھائی سے لے کر ان کی ماں تک سبھی شوٹر ہیں۔ ان کو بچپن سے کھیلوں سے دلچسپی رہی۔ انو نےابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ شوٹنگ کی بھی برابر مشق کی۔ انو نے علاقائی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔ جس نے ان کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے انہوں بہت کچھ سیکھا۔ ان کی کامیابی کا سہرا ان کےکوچ کو جاتا ہے۔ جنہوں نے انو کو کھیل کی پیچیدگیاں سکھائیں اور کامیابی حاصل کرنے میں ان کی بے پناہ مدد کی۔
انو راج سنگھ نےاب تک ۲۷؍تمغےجیت کر ۱۰؍قومی شوٹنگ چمپئن شپ میں فعال طور پر حصہ لیا ہے اور اب بھی اس کھیل کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ان کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔ انو شوٹنگ کے زمرےمیں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انونے ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمزسےاپنے نام پر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نےسنگل اور جوڑی دونوں میں ۱۰؍میٹر اور ۲۵؍میٹر پستول شوٹنگ کے زمرے میں ۲؍ سونے کے تمغے، ۳؍ چاندی کے تمغے، اور ایک کانسے کا تمغہ جیتا ہے۔
انہوں نےاپنے کریئرمیں ۲۰۰۲ءکی نیشنل جونیئرچیمپئن شپ جیتی، جو ہندوستان میں ۲۵؍میٹر پستول کےزمرےمیں منعقد ہوئی تھی۔ اس کے بعد ۲۰۰۷ءکےنیشنل گیمز میں دلکش کارکردگی کا مظاہرہ کیاجہاں انہوں نے شوٹنگ میں ایک چاندی کا تمغہ اور۳؍سونے کے تمغے حاصل کیے۔ ۲۰۰۹ءکی قومی چمپئن شپ جیتی، جو ہندوستان میں منعقد ہوئی تھی، اس مقابلے میں انوراج نے ۱۰؍میٹر ایئرپستول کے زمرےمیں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دہلی میں منعقدہ ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمزمیں ۱۰؍میٹرایئر پستول مقابلےمیں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ دہلی میں منعقدہ ۲۰۱۰ءکی کامن ویلتھ چیمپئن شپ (۱۰؍میٹر اور ۲۵؍میٹر، سنگل اور جوڑی دونوں ) میں ۳؍چاندی کے تمغے اور ایک سونے کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے حنا سدھو کے ساتھ۲۰۱۰ءکےکامن ویلتھ گیمز میں خواتین کے ۱۰؍میٹر ایئرپسٹل جوڑے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
انو اپنے اس پیشے سےاس قدر متاثر ہیں کہ انہیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ ایک دن شوٹنگ کا کھیل بھی کرکٹ کی طرح شائقین میں بہت مقبول ہوگا۔ انہوں نےاپنے حوصلے بلند رکھے اورشوٹنگ کو اپنا پیشن بنا یا۔ یہ وہ وقت تھاجب ان کی زندگی کی نئی شروعات ہوئی اور انہوں نےشوٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کی بہترین خدمات کے لئےانہیں ۲۰۱۲ءمیں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔