Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی پی ایل: یوپی کرکٹ میں نظر انداز کئے جانے والے ذیشان نے پہلے میچ میں ۳؍ وکٹ لئے

Updated: April 02, 2025, 10:28 AM IST | New Delhi

لکھنؤ کے حضرت گنج سے تعلق رکھنے والا یہ لیگ اسپنر یوپی کی ٹیم میں توجہ کا مرکز نہیں تھا لیکن آئی پی ایل کے اپنے پہلے میچ میں تجربہ کارکھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

Zeeshan Ansari. Photo: INN
ذیشان انصاری۔ تصویر: آئی این این

ذیشان انصاری۲۰۱۶ء میں ۱۶؍ سال کی عمر میں انڈین انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ اسکواڈ کے سب سے کم عمر رکن تھے، جن کے کئی اراکین  نے بعد میں ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کی۔ جہاں رشبھ پنت، ایشان کشن، واشنگٹن سندر، سرفراز خان، اویس خان اور خلیل احمد اگلے درجے تک پہنچنے کیلئے کوشاں تھے۔دوسری طرف  ذیشان بھول بھلیوں میں کہیں کھو گئے۔ تب سے  انہوں نے اتر پردیش کیلئے  صرف ۵؍ رنجی ٹرافی میچ اور ایک سید مشتاق علی ٹرافی میچ کھیلا ہے۔
لکھنؤ کے حضرت گنج سے تعلق رکھنے والا یہ لیگ اسپنر ٹیم میں توجہ کا مرکز نہیں تھا جس کے ۶؍ کھلاڑی بعد میں ہندوستانی سینئر ٹیم کے لئے مختلف فارمیٹس میں بین الاقوامی کرکٹ کھیلے۔ اتوار کی سہ پہر، برسوں کی گمنامی کے بعد انصاری، جو اب۲۵؍ سال کے ہیں اور اچھی طرح سے تیار ہیں، نے اپنا آئی پی ایل  آغاز کیا، فاف ڈو پلیسس، جیک فریزر-میک گرک اور لوکیش راہل جیسے معیاری بلے بازوں کو آؤٹ کیا لیکن ان کی سن رائزرز ٹیم ہار گئی۔
ذیشان اپنی گیند پر چوکوں اورچھکوں سے   نہیں ڈرتے اور انہوں نے اس وقت انڈر۱۹؍ انڈیا کے سابق سلیکٹر اور اتر پردیش کے مضبوط کھلاڑی گیانیندر پانڈے کو متاثر کیا تھا۔ انہیں جونیئر قومی ٹیم کےلئے منتخب کیا گیا تھا۔۱۹۹۹ء میں ہندوستان کے لئے  دو ون ڈے کھیلنے والے پانڈے نے کہاکہ ’’انہیں عید سے پہلے عیدی ملی۔ وہ بہت محنتی بولر ہیں۔ میں اس میں معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا کہ انہوں نے گزشتہ برسوں میں ڈومیسٹک کرکٹ میں اتر پردیش کیلئے زیادہ میچ کیوں نہیں کھیلے لیکن وہ یوپی ٹی۲۰؍ لیگ میں میرٹھ ماورکس کیلئے  سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر تھے اور اسی لئے سن رائزرس حیدرآباد  اسکواڈ نے   انہیں منتخب  کیا۔
حضرت گنج سے تعلق رکھنے والے ایک درزی کے بیٹے ذیشان نے ۵؍ رنجی میچوں میں۱۷؍ وکٹ حاصل کئے جو کہ کوئی اچھی کارکردگی نہیں ہے لیکن پھر بھی ۲۰۲۰ء کے بعد سے کسی فارمیٹ میں موقع نہ ملنے پر سوال کھڑے ہو سکتے ہیں، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ  `کلدیپ (یادو)  ہندوستان کے لئے بین الاقوامی کرکٹ میں مصروف رہتے ہیں، ہمارے کوچ سنیل جوش کو اس لڑکے میں  کچھ خاص کیوں نہیں دکھا۔  انہوں نے کہاکہ  `امید ہے کہ اب انہیں کچھ خاص ملے گا، مجھے یقین ہے کہ وپی (دہلی کیپٹلس وپراج نگم) اور ذیشان دونوں اتر پردیش کیلئے  ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ 
ان کے بچپن کے کوچ، جنہوں نے ذیشان کو لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی میں اپنا پہلا سبق دیا جب وہ ۱۲؍برس  کے قریب تھے، نے کہا کہ یہ ان کے شاگرد کیلئے بہت ہی عجیب و غریب صورت حال بن گئی تھی، ۲۰۱۶ء میں انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے  رنجی ٹرافی کھیلی اور انڈر وَن  کے بعد ایک بھی  میچ  نہیں کھیلا۔ رنجی ٹرافی کھیلی تو لوگوں نے سوچا کہ وہ انڈر ۱۹؍ میں واپس کیوں جائیں لیکن پھر انہیں سینئر ٹیم کیلئے بھی منتخب نہیں کیا گیا۔  یوپی ٹی۲۰؍ لیگ کے دوران اپنے  ہنر کا اچھا استعمال کرنے کیلئے   کے کے آر اسٹار رنکو سنگھ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK