• Thu, 27 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برسی پر خراج عقیدت: فٹ بال میں دفاعی صلاحیت کے حامل کھلاڑی سیلن منا

Updated: February 27, 2025, 12:22 PM IST | Agency | New Delhi

ہردور میں، ایک کھلاڑی ٹیم میں ایسا ضرور ہوتاہےجواس کھیل میں مہارت تورکھتا ہی ہےبلکہ اس کو بہترین طریقے سے سمجھ کراس میں انقلاب برپاکردیتا ہے۔

Great football player Selin Manna. Photo: INN
عظیم فٹ بال کھلاڑی سیلن منا۔ تصویر: آئی این این

ہردور میں، ایک کھلاڑی ٹیم میں ایسا ضرور ہوتاہےجواس کھیل میں مہارت تورکھتا ہی ہےبلکہ اس کو بہترین طریقے سے سمجھ کراس میں انقلاب برپاکردیتا ہے۔ ہندوستانی فٹ بال کے لیے سیلن منا ایسے ہی ایک کھلاڑی تھے۔ منا نے کم عمری میں ہی فٹ بال برادری کی توجہ اپنی جانب حاصل کرلی تھی۔ انہوں نے۱۷؍برس کی عمر میں ایک مقامی کلب ہاوڑہ یونین میں شمولیت اختیار کی۔ ۱۹۴۲ءمیں ، انہوں نے قومی سطح پر اپنی شناخت بنائی، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے اسٹالورٹس کے خلاف کواڈرینگولر ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ ان کی غیر معمولی قائدانہ خصوصیات اور دفاعی صلاحیت سےانہیں کپتان کا آرم بینڈ حاصل ہوا۔ انہوں نے اس عہدہ کو تقریباً ایک دہائی سےبھی زیادہ عرصے تک برقراررکھا۔ منا نے ہندوستان کو اپنی پہلی بڑی بین الاقوامی کامیابی ۱۹۵۱ءمیں نئی دہلی میں منعقدہ ایشین گیمزمیں فتح کی صورت میں دلائی۔ ان کے شاندار کریئرنےانہیں گھریلو سطح پر موہن بگان کے لیے کھیلتےہوئےبھی دیکھا۔ ۱۹۵۵ءمیں بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ لی لیکن ایک کوچ اور منتظم کی حیثیت سے کھیل میں اپنا تعاون جاری رکھا۔ انہیں ۱۹۷۱ءمیں باوقار پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 
 سیلن منا جن کا اصل نام شیلیندر ناتھ منا ہے، بنیادی طور پر لیفٹ بیک کےطور پر کھیلنے والے ملک کےاب تک کے بہترین ڈیفینڈرس میں سے ایک سمجھےجاتے ہیں۔ سیلن منانے ۱۹۴۸ءاور ۱۹۵۶ء کے درمیان ہندوستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اولمپکس اور ایشین گیمز سمیت مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی اور کپتانی کی۔ کلب فٹ بال میں منا نے لگاتار۱۹؍سال تک ہندوستان کے قدیم ترین کلبوں میں سے ایک موہن بگان کی نمائندگی کی ہے۔ انہیں ۲۰۰۱ءمیں پہلا موہن بگان رتن ایوارڈ دیا گیا تھا۔ منا واحد ایشیائی فٹ بالرتھےجنہیں ۱۹۵۳ء میں انگلش ایف اے نے دنیاکے ۱۰؍ بہترین کپتانوں میں شامل کیا تھا۔ مغربی بنگال میں ۱۵؍مئی ۱۹۲۴ءکوپیدا ہوئے شیلیندر ناتھ منا ہاوڑہ کے بینترا میں مہیشیا خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام گوری دیوی اور والد کا نام فنیندر ناتھ منا تھا، جن کا آبائی گھر رام ناتھ پور، ہگلی میں تھا۔ منا نےسریندر ناتھ کالج سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی، جو کلکتہ یونیورسٹی سے وابستہ ہے۔ انہوں نےجیولوجیکل سروے آف انڈیا کے لیے کام کیا۔ منا نےاپنے کھیل کریئرکاآغاز ۱۹۴۰ء میں ہاوڑہ یونین سےکیا، جو اس وقت کلکتہ فٹ بال لیگ کے دوسرے ڈویژن کا ایک کلب تھا۔ کچھ سیزن کلب کیلئے کھیلنے کےبعد، انہوں نے ۱۹۴۲ءمیں موہن بگان میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۶۰ء میں ریٹائرمنٹ تک کلب کے لیے کھیلتے رہے۔ ۱۹۵۰ء اور ۱۹۵۵ء کے درمیان، انہوں نے کلب میں بطور کپتان شمولیت اختیار کی۔ فٹ بال سے ریٹائر ہونےکےبعد، منا ملائیشیا میں ۱۹۶۱ء کے مردیکاکپ میں ہندوستان کے ہیڈ کوچ بن گئے جس میں انہوں نے ہندوستان کے کچھ قابل ذکر کھلاڑیوں جیسے جرنیل سنگھ، پی کے بنرجی، پیٹر تھنگراج اور تلسی داس بلرام کی رہنمائی کی۔ انہوں نے ۱۹۶۸ء کے مردیکا کپ میں قومی ٹیم کا انتظام بھی سنبھالا۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹس میں قیادت کی ہے، اور انہیں فیفا کی طرف سے دنیا کے ۱۰؍ بہترین فٹ بال کپتانوں میں سے ایک کے طور پر سراہا گیا ہے۔ کافی عرصے تک بیمار رہنے کے بعد ۸۷؍برس کی عمرمیں منّا ۲۷؍فروری ۲۰۱۲ءکو کولکتہ کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK