اے ٹی ایم کا پن ۴؍ ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے، کیوں؟

Updated: October 21, 2022, 1:15 PM IST | Mumbai

دورِ حاضر میں تکنالوجی کا بولا بالا ہے۔ ہر شعبہ حیات میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔اگر غور کریں تو بینکنگ کا ۹۰؍ فیصد شعبہ تکنالوجی پر کام کرتا ہے۔

 John Shepherd invented the 6-digit PIN code for ATMs .Picture:INN
اے ٹی ایم کیلئے جان شیپرڈ نے ۶؍ ہندسوں کا پن کوڈ ایجاد کیا تھا ۔ تصویر:آئی این این

دورِ حاضر میں تکنالوجی کا بولا بالا ہے۔ ہر شعبہ حیات میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔اگر غور کریں تو بینکنگ کا ۹۰؍ فیصد شعبہ تکنالوجی پر کام کرتا ہے۔ آپ سبھی کا بینک اکاؤنٹ ہوگا، اور آپ یہ جانتے ہیں کہ اے ٹی ایم کارڈ کیا ہوتا ہے۔ تاہم، کیا آپ نے اے ٹی ایم کارڈ سے کبھی اے ٹی ایم سے کوئی رقم نکالی ہے؟ اگر ہاں تو اے ٹی ایم کے اسکرین پر مطلوبہ رقم لکھ دینے کے بعد آپ سے ۴؍ ہندسوں کا کوڈ مانگا جاتا ہے، جیسے ہی آپ وہ لکھتے ہیں، مشین سے رقم نکل آتی ہے۔ اگر آپ نے یہ تجربہ نہیں کیا ہوگا، تب بھی جانتے ہوں گے کہ اے ٹی ایم کارڈ کا ۴؍ ہندسوں کا ایک پن یا پاس ورڈ ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ پن ۴؍ ہندسوں ہی کا کیوں ہوتا ہے؟ آپ نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ آٹومیٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) کارڈ کا پن کوڈ ۴؍ہی ہندسے والا کیوں ہے جبکہ زیادہ ہندسوں سے اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پن کوڈ کو چار ہندسوں تک محدود رکھنے کی وجہ ایک خاتون ہیں، اور خاتون بھی کوئی عام نہیں بلکہ اے ٹی ایم ایجاد کرنے والے شخص کی بیوی ہیں۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ۵؍ عشروں سے زائد عرصہ قبل جان شیپرڈ بیرن نامی برطانوی مؤجد کو ایک ایسی مشین بنانے کا خیال آیا جس سے چاکلیٹس کے بجائے پیسوں کا حصول ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کافی غور و خوض کیا تو انہیں آٹومیٹڈ ٹیلر مشین بنانے کا خیال آیا۔بس پھر اس کی تیاری میں مصروف ہوگئے کہ کسی طرح جلد از جلد اور محفوظ طریقے سے یہ مشین تیار کرلیں۔ پھر ایک دن انہوں نے یہ مشین تیار کر لی اور۱۹۶۷ء میں لندن میں پہلی اے ٹی ایم مشین نصب کی گئی۔ مشین کی تیاری کے ساتھ جان شیپرڈ نے صارف کے تحفظ کے مسئلے کا حل پن کوڈ کی شکل میں نکالا تاکہ صارفین کی رقم محفوظ رہے۔ جان شیپرڈ نے تو کارڈ کا پن کوڈ اپنے پرانے فوجی نمبر کو ذہن میں رکھتے ہوئے۶؍ ہندسوں کا تیار کیا۔ اور جب یہ بات انہوں نے اپنی بیوی کیرولین کو بتائی تو انہوں نے  کہا کہ ’’میں صرف ۴؍ہندسوں کو یاد کر سکتی ہوں۔‘‘یوں کیرولین کی وجہ سے ۴؍ ہندسوں کا پن کوڈ ایک عالمی معیار بن گیا، یعنی کیرولین کی کمزور یادداشت دنیا بھر کے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو آسان بنانے کا باعث بنی۔ تاہم، اب بعض بینکوں میں ۶؍ ہندسوں کا پاس ورڈ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK