چھٹیوں کے دن

Updated: November 05, 2022, 11:59 AM IST | Sheikh Rabia Tabriz | Mumbai

امتحان سے فرصت مل چکی تھی۔ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ ہم ۱۱؍ بجے سو کر اٹھنے والے بڑی فرمانبرداری سے ۸؍ بجے بیدار ہو جایا کرتے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

امتحان سے فرصت مل چکی تھی۔ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ ہم ۱۱؍ بجے سو کر اٹھنے والے بڑی فرمانبرداری سے ۸؍ بجے بیدار ہو جایا کرتے۔ اتنے سویرے اٹھنے پہ امی جان بڑی حیرت سے دیکھتیں مگر خاموش رہتیں۔ بالآخر ایک دن انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ ’’سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ ہم نے بڑے تعجب سے امی کو دیکھ کر جواب دیا کہ ’’جی سب خیریت! کیوں کچھ ہوا ہے کیا کہیں....‘‘ تو جواب ملا کہ ’’نہیں! وہ آج کل تم کرنوں کے زمین پر پڑنے سے پہلے جاگ جا رہی ہو ورنہ امتحان کے دنوں میں تو مردوں سے شرط لگا کے سویا کرتی تھیں اسی لئے خیریت دریافت کی۔‘‘ تو ہمیں بڑی شدت سے احساس ہوا لیکن امی جان صرف حس بیدار کرنے میں کامیاب رہیں، غیرت دلانے میں ابھی بھی ناکام ہو گئیں تھیں۔ خیر! ہم سر جھٹک کر اپنے معمول کے کاموں میں لگ گئے۔ چھٹیوں میں پڑھنے کا فیصد بھی حیرت انگیز طور پر بڑھ گیا تھا.... شب و روز کتابوں کے ہو کر رہ گئے تھے.... نہ کہیں گھومنے کی حسرت تھی.... نہ بازار سے کوئی ضروریات پوری کرنی تھیں.... نہ کچھ کھانے کا دل کرتا.... نہ ہی زبان کو زنگ لگا تھا.... صحت بھی الحمدللہ قدرے بہتر تھی.... اُس وقت نہ کسی کا فون ہی آتا نہ ہمارا ہی کسی سے بات کرنے کو دل کرتا.... امی یہ سب دیکھ کر ضبط کرتی رہیں مگر کب تک نجات ممکن تھی۔ ایک دن جواب ده ہونا ہی پڑ گیا۔ اُس دن امی خلافِ معمول کچھ زیادہ ہی غصے میں لگ رہی تھیں اور امی کا چڑھا پارہ دیکھ کر ہم یہ سوچ رہے تھے کہ آج کل تو ماشاء اللہ مثالی اولاد کا عمدہ نمونہ بنے ہوئے ہیں... کوئی غلطی یا کوئی حرکت پچھلے کئی دنوں سے ہم سے کنارہ کی ہیں پھر یہ عتاب کیوں نازل ہوا؟ ابھی اپنے تخیل کی پرواز کو ایک نئی سمت دیتے اُس سے پہلے امی کی آواز نے ہمارا سکوت توڑا۔ اب امی پہلے سے بھی کچھ کہہ رہی تھیں یا نہیں یہ تو امی ہی جانیں اور رب جانے مگر ہم جو سن سکے وہ الفاظ یہ تھے ’’ساری دنیا امتحان میں دن رات ایک کئے رہتی ہے.... کھانا پینا بھول کر کتابوں کی ہو جاتی ہے.... امتحان میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتی ہے..... اور ایک یہ ہیں.... اللہ ہی خیر کرے ان کی.... امتحان ہوں تو کتابوں سے بیر رکھتے ہیں اور فارغ ہوں تو کتابوں کی جان نہیں چھوڑتے.... خدا ہی سمجھے کیا بنے گا ان کا.... ابھی خوب پڑھو.... دن رات پڑھو.... اٹھتے بیٹھتے پڑھو.... جیسے ہی اگلا سمسٹر شروع ہو کتابیں باندھ کر شرافت سے رکھ دینا اور امتحان ختم ہوتے ہی پھر ان کی جانوں کو چمٹ جانا اور کتابیں باندھتے اور کھولتے وقت کبھی نہ سدھرنے کے قسم کھا کر ہی کتابیں کھولنا اور بند کرنا....‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK