عدرا نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں افسوس کا اظہار کیا کہ فلم کی عالمی پذیرائی کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ عدرا نے کہا، "آسکر جیتنے کے بعد بھی ہم اسی حقیقت میں واپس لوٹے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 9:54 PM IST | Inquilab News Network | New York
عدرا نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں افسوس کا اظہار کیا کہ فلم کی عالمی پذیرائی کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ عدرا نے کہا، "آسکر جیتنے کے بعد بھی ہم اسی حقیقت میں واپس لوٹے ہیں۔
فلسطینی فلم ساز اور ہدایت کار باسل عدرا، جنہوں نے مغربی کنارے میں مبینہ اسرائیلی تشدد پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم "نو اَدر لینڈ" کی مشترکہ ہدایت کاری کیلئے رواں سال آسکر ایوارڈ حاصل کیا، نے جمعرات کو اقوام متحدہ کو بتایا کہ فلم کو ایوارڈز اور تنقیدی پذیرائی ملنے کے باوجود فلسطین کے متاثرہ علاقوں میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔
جمعرات کو عدرا کی فلم "نو اَدر لینڈ" کی اقوام متحدہ میں اسکریننگ کی گئی۔ یہ اسکریننگ اس وقت ہوئی جب چند روز قبل فلم کے شریک ہدایت کار حمدان بلال پر اسرائیلی آباد کاروں نے حملہ کیا تھا اور اسرائیلی فورسیز کے ذریعے گرفتار کئے جانے کے بعد مبینہ طور پر انہیں ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدرا نے اقوام متحدہ کمیٹی برائے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق، سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں چاہتا تھا کہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہم اس سرزمین پر رہتے ہیں، ہم موجود ہیں اور وہ دیکھیں کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر اس ظالمانہ قبضے کے تحت کن کن مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"
دستاویزی فلم "نو اَدر لینڈ" مسعفر یطا میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی داستان بیان کرتی ہے۔ مسعفر یطا ایک ایسا علاقہ ہے جسے اسرائیل نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں محدود فوجی زون قرار دیا تھا۔ "نو اَدر لینڈ" میں عدرا ایک نوجوان فلسطینی کارکن کے کردار میں نظر آتے ہیں جو مسعفر یطا میں اپنی برادری کی بے دخلی کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ وہ اپنے وطن کی بتدریج تباہی کو ریکارڈ کرتا ہے جہاں اسرائیلی فوجیوں نے گھروں کو مسمار کیا اور رہائشیوں کو بے دخل کیا ہے۔ اس سفر کے دوران، اس کی ملاقات ایک یہودی اسرائیلی صحافی یووال سے ہوتی ہے جو اس کی مدد کرتا ہے۔
عدرا نے اقوام متحدہ کو بتایا، "میں نے اپنے گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں، میرے اور میرے خاندان کے ساتھ ہونے والے تشدد کو فلم بند کرنا شروع کیا۔ یہ تشدد آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے ذریعے کیا جاتا تھا۔" اس فلم کی مشترکہ ہدایت کاری عدرا نے اسرائیلی صحافی یووال ابراہم، فلسطینی فلم ساز و کارکن حمدان بلال اور اسرائیلی سنیماٹوگرافر، ایڈیٹر و ہدایت کار ریچل زور کے ساتھ مل کر کی ہے۔ "نو اَدر لینڈ" نے ایک معتبرد ایوارڈ آسکر جیتنے کے باوجود، امریکہ میں تقسیم کیلئے جدوجہد کی ہے اور فی الحال صرف چند منتخب تھیٹرز میں دکھائی جا رہی ہے۔ عدرا نے اپنے خطاب میں افسوس کا اظہار کیا کہ فلم کی عالمی پذیرائی کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ عدرا نے کہا، "آسکر جیتنے کے بعد بھی ہم اسی حقیقت میں واپس آئے ہیں۔"
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیل کے خلاف اقدام کرے: فلسطینی سفیر ریاض منصور
عدرا نے بتایا، "تقریباً ہر روز مسعفر یطا اور مغربی کنارے کی فلسطینی برادری پر حملے ہوتے ہیں۔" انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ فلسطین میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ غزہ، جو ایک الگ فلسطینی علاقہ ہے، کے علاوہ حال ہی میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طویل قانونی جنگ کے بعد، اسرائیلی سپریم کورٹ نے ۲۰۲۲ء میں اسرائیلی فوج کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے مسعفر یطا کے ۸ دیہاتوں سے فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کی اجازت دی تھی۔ مسعفر یطا ۱۹ دیہاتوں کا مجموعہ ہے جہاں زیادہ تر فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔ یہ علاقہ مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے میں واقع ہے جو ۱۹۶۷ء سے اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ مغربی کنارے میں تقریباً ۳۰ لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً ۵ لاکھ اسرائیلی بھی مغربی کنارے کی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔