جان ابراہم نے دی ہالی ووڈ رپورٹرانڈیا کے ساتھ اپنے انٹرویو میں یہ قبول کیا کہ بالی ووڈ کی کچھ فلمیںپروپیگنڈہ ہیں۔ انہوں نے ’’چھاوا‘‘کی کامیابی کیلئے دنیش وجن اوروکی کوشل کو مبارکباد بھی پیش کی۔
EPAPER
Updated: February 27, 2025, 5:34 PM IST | Mumabi
جان ابراہم نے دی ہالی ووڈ رپورٹرانڈیا کے ساتھ اپنے انٹرویو میں یہ قبول کیا کہ بالی ووڈ کی کچھ فلمیںپروپیگنڈہ ہیں۔ انہوں نے ’’چھاوا‘‘کی کامیابی کیلئے دنیش وجن اوروکی کوشل کو مبارکباد بھی پیش کی۔
بالی ووڈ کےا داکارہ جون ابراہم اپنی اگلی فلم ’’دی ڈپلومیٹ‘‘کے ذریعے بڑی اسکرین پر نظرآئیں گے۔ حال ہی میں انہوںنے اس تعلق سے گفتگو کی کہ کچھ فلمیں ’’پروپیگنڈہ‘‘ہوتی ہیں۔ انہوں نے سیکولرازم کے تعلق سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’میں سنیما یا سماج میں لوگوں کو اتنا سیکولر نہیں مانتے جتنے وہ پہلے تھے۔ انہوں نے ہالی ووڈرپورٹر کے ساتھ ہونےو الے پانےانٹرویو میں بتایا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہم سنیما سے تعلق ہونے کے باوجود اتنے سیکولر ہیں۔‘‘ انہوں نے ہندوستانی ثقافت میں توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈسٹری ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پروپیگنڈہ فلموں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پروپیگنڈہ فلموں کا اثر کیا ہوتا ہے اور مداح انہیں کس طرح قبول کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے قبول کیا کہ ’’کشمیر فائلس‘‘ جیسی فلمیں پروپیگنڈہ ہیں لیکن کہانی بیان کرنے کی ان فلموں کی طاقت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’’کوئی کہتا ہے کہ ’’کشمیر فائلس‘‘ جیسی کوئی فلم پروپیگنڈہ فلم ہے۔ سنیما کے عام صارف کیلئے یہ فلم متاثر کن ہے۔ فلم کی کہانی آپ کو پسند آئے گی۔ میں یہاں پرکھنے نہیں آیا۔ چاہے وہ پروپیگنڈہ فلم ہو یا نہ ہو، میں سنیما کا ایک صارف ہوں جو سنیما کی فلمیں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ بطور صارف ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی کہانی اچھی ہے اوروہ لوگوں کو متاثرکرتی ہے تو فلمسازکو کریڈیٹ دینا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: کیسری ۲: اکشے کمار، مادھون اور اننیا پانڈے کی فلم ۱۸؍ اپریل کو ریلیز ہوگی
اسی انٹرویو میں ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے اداکار نے ’’چھاوا‘‘ کی کامیابی کیلئے اس کی تعریف کی اور لوگوں کو سنیما تک واپس لانے کیلئے اس کے متاثرکن ہونے کو قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ذاتی طور پر وکی کوشل اور فلم کے پروڈیوسر دنیش وجن کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔‘‘ انہوں نے فلم کے پرفارمنس پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مطابق ’’اس طرح کی جدوجہد جاری رہی تو سنیما کو سراہا جائے گا۔‘‘ انہوں نے ایسے فلمسازوں اور اداکاروں کی بھی تعریف کی جو سنیما میں معنی خیز تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں۔ یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ ایک بہترین اور سنیماکی مثبت تبدیلی کیلئےبہترین ثابت ہوگی۔