ایک شخص نے رمضان کے روزے کی نیت صبح صادق کے بعد نصف نہار شرعی سے پہلے کی اور پھر بلا عذر بعد ظہر جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہے یا نہیں؟
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 10:55 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
ایک شخص نے رمضان کے روزے کی نیت صبح صادق کے بعد نصف نہار شرعی سے پہلے کی اور پھر بلا عذر بعد ظہر جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہے یا نہیں؟
قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہونے کا مسئلہ
ایک شخص نے رمضان کے روزے کی نیت صبح صادق کے بعد نصف نہار شرعی سے پہلے کی اور پھر بلا عذر بعد ظہر جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہے یا نہیں ؟ زید ایک عالم دین ہے اس نے ایک فتویٰ کے حوالہ سے بتایا کہ چونکہ اس شخص نے روزہ کی نیت اگر صبح صادق سے پہلے کی ہوتی تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا لیکن اس شخص نے چونکہ روزہ کی نیت صبح صادق کے بعد نصف نہار سے پہلے کی ہے اس لئے اس پر صرف قضا لازم ہو گی کفارہ لازم نہیں ہوگا جب کہ بکر بھی ایک عالم دین ہے وہ اس فتویٰ کو غلط بتاتا ہے اور صورت مسئولہ میں قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہونے کی بات کہتا ہے۔ درست صورت حال سے آگاہ فرمائیں۔ عبدالرحمٰن، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ روزہ کے لئے نیت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ رات ہی سے آدمی یہ ارادہ کرلے کہ کل روزہ رکھنا ہے۔ جو لوگ پابندی سے رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں ان کی ہمیشہ یہ نیت ہوتی ہے کہ کل روزہ رکھنا ہے۔ روزہ کے لئے سحری کرنا یہ بھی ایک طرح سے روزے کی نیت ہے۔ علماء نے اس ارادے ہی کو نیت مانا ہے زبان سے نیت کرنے کو وہ ضروری نہیں سمجھتے البتہ زبان سے بھی ارادے کا اظہار کردیا جائے تو یہ مستحب یعنی بہتر ہے۔ قضا کے ساتھ کفارہ لازم ہونے کا تعلق اسی صورت سے ہے؛ صبح صادق کے بعد نصف النہار شرعی سے پہلے نیت کی ممکنہ صورت یہ ہوگی کہ ایک شخص کا نہ صبح صادق سے پہلے روزے کا ارادہ تھا نہ معمول ؛ اس نے روزہ کی نیت سے سحری بھی نہیں کی مگر بعد میں اس نے کچھ کھایا پیا اور نہ مفسد صوم عمل کیا اور نصف النہار شرعی سے پہلے روزہ کی نیت کرنے کے بعد اسے توڑ دیا ؛ کفارہ کے لازم نہ ہونے کا تعلق اسی صورت کے ساتھ خاص ہے۔ میرا نظریہ بھی یہی ہے کہ اس صورت میں صرف قضا واجب ہونی چاہئے کفارہ نہیں، واللہ اعلم وعلمہ اُتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: آبائی شہر میں قصر یا اتمام،بے ہوش شخص اور نماز،شادی کے اخراجات میں تعاون
اوقات مکروہ اور دعا
اوقـــــاتِ مکروہ تین ہیں : (۱)طلوع آفتاب (۲) وقت ِ زوال اور (۳) غُروبِ آفتاب مگر آج کل عوام میں جو یہ سلسلہ رائج ہے دسترخوان پر بیٹھ کر رمضان المبارک میں خاص طور پر مغرب کی اذان سے دس پانچ منٹ پہلے دعا مانگتے ہیں وہی وقت ِ مکروہ ہــے اور اوقاتِ مکروہ میں کوئی بھی عبادت جائز نہیں حتیٰ کہ دعاء بھی نہیں کیونکہ افطار کا وقت مغرب کی اذان شروع ہونے کے بعد ہوتا ہـے اور وہی دعاء مانگنے کا محل ہــے نہ کہ مغرب کی اذان سے پہلے لہٰذا اِس تعلق سے مفتیان کرام کیا کہتے ہیں ؟محمد سلیمان، کرلا
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ان اوقات میں نماز کی ممانعت ہے نہ کہ کسی بھی عبادت کی چنانچہ روزہ بھی عبادت ہے مگر روزہ دار کے یہ اوقات روزہ میں مشغول ہوتے ہیں پھر دعا کو ممنوع عبادت میں داخل ماننا یہ بھی صحیح نہیں۔ روزہ کے افطار کی مسنون دعا کا وقت یقیناً افطارکے وقت ہے مگر روزہ دار کا انفرادی دعا کرنا کسی نے نہ تو اسے منع کیا ہے نہ ان عبادات میں شامل سمجھا ہے جو ان اوقات میں منع ہیں اس لئے میری رائے تو یہی ہے کہ اس وقت دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مغرب کی اذان اور نماز میں وقفہ، رمضان مبارک کے پیغامات اور خواتین کی تراویح
مچھلی اور دوا
اگر مچھلی کو جلا کر دوا بنائیں تو شریعت میں اس کی گنجائش ہے کہ نہیں، حوالے سے جواب مطلوب ہے۔ سالم احمد، یوپی
باسمہ تعالیٰ ھوالموفق: کسی بے جان یا جان دار چیز کو جلاکر دوا بنانا ایک طبی عمل ہے اور طبی ضرورت کا حصہ ہے۔ اطباء بعض جاندار مخلوق سے بھی اس طرح دوائیں بنا تے ہیں اور انسانی ضرورت کی بنا پر اس کی اجازت بھی ہے مگر شرعی طور پر اس کے لئے کچھ شرائط بھی ہیں مثلاً نجس اجزاء کی ملاوٹ نہ ہو، اسی طرح کسی جاندار کو بھلے وہ حشرات الارض کیوں نہ ہو، زندہ نہ جلایا جائے اسی لئے ان امور کی رعایت کے ساتھ دوا بنائی جائے تو گنجائش ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم