Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!‘‘

Updated: April 05, 2025, 1:11 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

وقف ترمیمی بل کے تکنیکی مضمرات میں بہت کچھ ہے جو فکر میں مبتلا کرتا ہے مگر متفکر ہونے، تشویش میں مبتلا ہونے اور مایوس ہونے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ اگر کچھ ہوسکتا ہے تو اُس تدبر سے جس کے ذریعہ مسائل کو وسائل سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

مَیں   ہندوستانی مسلمان ہوں  اور سوچ رہا ہوں  کہ پارلیمنٹ کے دونوں  ایوانوں  میں  وقف ترمیمی بل پاس ہوا ہے یا مَیں  فیل ہوگیا ہوں ؟ شدتِ احساس اس قدر ہے کہ مجھے اپنے آپ پر رحم آرہا ہے۔ جن سیاسی جماعتوں  کے اراکین ِپارلیمان نے بل کے حق میں  ووٹ دیا اُن میں  کچھ ایسی پارٹیاں  بھی ہیں  جن کی انتخابی کامیابی کیلئے مَیں  نے کافی دوڑ دھوپ کی، اُن کے بینر اُٹھائے، اُن کے جلسوں  میں  شریک ہوا، نعرے لگائے، رشتہ داروں  اور دوستوں  کو ہموار کیا، ووٹ دلوائے، دُعائیں  کیں  اور پھر اُن کی کامیابی کا اس طرح جشن منایا جیسے کوئی اور نہیں ، مَیں  ہی کامیاب ہوا ہوں ۔
  مَیں  نے یہ سب اس آس اور اُمید میں  کیا تھا کہ یہ نمائندے ایوان میں  میرے مفادات کی حفاظت کرینگے، میری مشکلات کم کرنے میں  مدد دینگے، امن و سکون سے زندگی گزارنے کے اسباب فراہم کرینگے، میرے لئے یکساں  حقوق کی ِضمانت بنیں  گے، وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ میرے لئے نئے وسائل پیدا کرینگے مگر ایوان میں  اُن کا رُخ بدلا ہوا تھا۔ میری برپا کی ہوئی محفلوں  اور جلسوں  میں  اُن کا رُخ الگ تھا اور ایوان میں  الگ۔ کاش یہ بات مَیں  اب بھی سمجھ سکوں  مگر سمجھ کر کروں  گا کیا؟
  سیاست کب کون سی چال چل جاتی ہے پتہ ہی نہیں  چلتا، یہ آپ کے ساتھ ہے اور آپ کے ساتھ نہیں  بھی ہے، نام نہاد رہنما اِدھر مصافحہ کرتا ہے، اُدھر کسی اور منصوبہ بندی میں  شامل رہتا ہے، دلوں  کے بھید مَیں  کیسے جانوں ، وہ تو باری تعالیٰ جانتا ہے! میری مشکل دوہری ہے، مَیں  ان پر بھی بھروسہ نہ کروں  تو کیا کروں ، حالات جن لوگوں  کو کنویں  اور کھائی کے درمیان لا دیتے ہیں ، اُن کے پاس فیصلہ کرنے کیلئے کچھ نہیں  رہ جاتا، مَیں  بھی ایسی ہی صورت حال کا مضروب ہوں ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں  ساری توجہ خود کو سنوارنے پر  صرف کروں  اور سیاست سے ایک دو دہائی کیلئے کنارہ کش ہوجاؤں ، نہ کسی کی حمایت کروں  نہ کسی کو ووٹ دوں  مگر یہ تو سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا، اسی لئے مَیں  اپنی موجودگی درج کرانے کیلئے پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے ووٹ دیتا ہوں ۔ اس کے باوجود مجھ سے بے اعتنائی بھی اب پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ حکمراں  محاذ نے وقف بل پیش کرتے وقت اس کا مقصد میری معاشی حالت کو بہتر بنانا بتایا، کہا غریب مسلمانوں  کا بہت فائدہ ہوگا، یعنی میاں  یہ ہیرا ہے چاٹ جاؤ، صحتمند رہو گے، تمہارے دُکھ دور ہوجائینگے۔ مانا کہ مَیں  اکثر ناسمجھی کے فیصلے کر بیٹھتا ہوں  مگر اتنا تو جانتا ہوں  کہ کس چیز سے مجھے فائدہ ملے گا اور کس سے نقصان ہوگا۔
  وقف بل کے بارے میں  مجھے پختہ یقین ہے کہ یہ وقف کی املاک پر قابض ہونے کیلئے لایا گیا ہے، اب سے پہلے کتنی املاک ہضم کرلی گئیں ، خود حکومتوں  نے قبضہ کیا، وقف کی املاک پر پانچ ستارہ ہوٹل بنے، سرکاری دفاتر تعمیر ہوئے، ارب پتیوں  کی عمارتیں  وقف کی املاک پر ہیں  (بتائیے اُن کے پاس کس چیز کی کمی تھی)، معاملات عدالتوں  تک پہنچے، مَیں  مسلسل احتجاج کرتا رہا مگر اَب یہ طے ہے کہ قانون کے ذریعہ قبضے کی تیاری ہے۔ تیاری کیا ہے، یہ لفظ تو مَیں  اپنے غم کو سہارا دینے کیلئے استعمال کررہا ہوں  ورنہ حقیقت خوب جانتا ہوں  کہ مجھے فیل کرنے کیلئے پاس کیا گیا بل، صدر کے دستخط کے بعد قانون بن جائیگا اور مَیں  دیکھتا رہ جاؤنگا، ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنا رہوں  گا جیسے مَیں  اس ملک کا شہری نہیں  ہوں ، کہیں  اور سے آیا ہوں  جبکہ مَیں  وہ ہوں  جس کو اُدھر بلایا جارہا تھا کہ نیا ملک بنا ہے آجائیے، بہت سکھی رہیں  گے مگر مَیں  نہیں  گیا، یہیں  جنما تھا، اسی خاک کو مقدر کرلیا، میرے آباء و اجداد بھی تو یہیں  ہیں ، انہیں  کیسے چھوڑ دوں ؟ اب اِدھر سے کہا جاتا ہے چلے جائیے، کیسے جاسکتا ہوں ، وہاں  سے میرا کیا تعلق ہے؟ 
 تعلق اور رشتہ تویہاں  سے ہے، اس سرزمین سے جس کی بابت  چکبست نے کہا تھا: ’’مزا دامان ِ مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں ‘‘ ۔ صبح سویرے مشرق سے سورج کو اُبھرتا دیکھتا ہوں  تو اپنی سرزمین سے جڑے رہنے کا احساس پختہ ہوجاتا ہے اور رات کو جب چاندنی چھٹکتی ہے تو لگتا ہے کہ یہ مجھ پر بھی اُتنی ہی مہربان ہے جتنی دیگر لوگوں  پر، اس مٹی سے میرے مضبوط رشتے کو چاند سورج جانتے ہیں ، مٹھی بھر اہل وطن ہی نہیں  جانتے۔ خیر، ایک بار پھر یاددہانی کرا دوں  کہ مَیں  ہندوستانی مسلمان ہوں  اور پارلیمنٹ میں  منظور کئے گئے وقف بل سے بڑی اذیت محسوس کررہا ہوں ، مَیں  کہنا چاہتا ہوں  کہ اگر یہ قانون میری بھلائی کیلئے ہے تاکہ وقف بورڈ کا انتظام و انصرام بہتر ہو تو کیا اب تک بہتر نہ ہونے کیلئے مَیں  ذمہ دار ہوں ؟ 

یہ بھی پڑھئے : ’سائبر کرائم‘ کی نئی نئی شکلیں اور سادہ لوح عوام

 وقف بورڈ کے عہدیداران تو حکومت ہی کے نامزد کردہ ہوتے ہیں ، اگر خرد برد ہوئی اور بار بار ہوئی یا بد انتظامی ہوئی اور جاری رہی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اُن نامزد عہدیداروں  سے پوچھ گچھ ہوئی؟ اُن کے خلاف کارروائی ہوئی؟ نہیں ، تو پھر میرے خلاف کیوں  ہورہی ہے؟ مجھے اس کا جواب اس طرح دیا گیا کہ اس سے غریب مسلمانوں  کا فائدہ ہوگا۔ ممکن تھا کہ مَیں  مان لیتا کہ میرا فائدہ ہوگا کیونکہ یہ بات بار بار کہی جارہی ہے مگرکوئی ایک فائدہ تو گنایا جائے۔  پھر یہ بھی بتایا جائے کہ اگر فائدہ ہی کی  نیت ہے تو غریب مسلم طلبہ کی تعلیم کیلئے جاری اِسکیموں  (پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میٹرک اینڈ مینس) کو کیوں  بند کیا گیا؟ اور یاتراؤں  کے موقع پر غریب مسلم دکانداروں  کی دُکانوں  کے خلاف محاذ آرائی کیوں  کی گئی؟ دادری کا اخلاق احمد بھی تو غریب مسلمان تھا، اُسے کیوں  مار دیا گیا اور اُس کے بعد چل پڑنے والے ماب لنچنگ کے سلسلے کو کیوں  نہیں  روکا گیا جس میں  اکثر غریب مسلمان تھے جو مارے گئے؟
  آج کل لوگ بات بات پر ’’آہت‘‘ ہوتے ہیں  مگر مَیں  واقعی آہت ہوں ۔ آہت کرنے والے سمجھتے ہیں  کہ میرے آہت ہونے سے فرق نہیں  پڑتا مگر ایسا نہیں  ہے، مجھے آہت دیکھ کر میرے بہت سے ہم وطن فکرمند ہوتے ہیں ، وہ میری فریاد لے کر خود دوڑتے ہیں  اور مجھے تسلی دیتے ہیں ۔ یہ تسلی اور حوصلہ مجھے اپنی نئی تنظیم و تشکیل میں  مدد دے گا، مَیں  جانتا ہوں  کہ مجھے خود کو بہتر اور مؤثر اور کارگر اور نافع بنانا ہے، سو مَیں  اپنی سی کوشش میں  ہوں ، وہ دن ضرور آئیگا جب مَیں  قابل رشک ہوجاؤنگا اور میرے مخالفین شرمسار ہونگے  ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK