Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ایک ماہ کی تربیت کا اثرجاری ہے؟ محاسبہ کیجئے!

Updated: April 03, 2025, 11:07 PM IST | Md Ali Qadri | Mumbai

رمضان المبارک کے رخصت ہو نے کے بعد ہمارے اعمالِ صالحہ کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہئے بلکہ طاعات و عبادات اور ریاضات و مجاہدات کا سلسلہ جاری رہے تب ہی ماہِ صیام کے بعد ہم اس ماہ مبارک کے روحانی ثمرات کو سمیٹ کر اپنی آئندہ زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی روشنی میں بسر کرسکیں گے۔ اِس مضمون میں انہی نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

During the month of Ramadan, children as well as adults develop a passion for worship. Photo: INN
ماہِ رمضان میں بڑوں کے ساتھ بچوں میں بھی عبادت کا ذوق و شوق پروان چڑھتا ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک اپنی تمام تر فضیلتوں، رحمتوں ، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ تشریف لایا اور ہمیں روحانی لذتیں اور راحتیں عطا کرنے کے بعد ہم سے رخصت ہو گیا۔ جب رمضان المبارک ہم سے رخصت ہو رہا تھا تو ہمیں یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہمارا کوئی قریبی عزیز ہم سے جدا ہو رہا ہو۔ اس کیفیت کی وجہ رمضان المبارک کے ساتھ ہماری محبت، الفت اور قلبی وابستگی تھی۔ رمضان المبارک میں ہم پر اللہ تعالی کی خصوصی نوازشات ہو رہی تھیں، ہمیں انواع و اقسام کی نعمتیں نصیب ہو رہی تھیں، ہماری نیکیوں میں دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا تھا، رحمتوں کی برسات ہورہی تھی اور مغفرتوں اور بخششوں کی ندائیں دی جارہی تھیں۔ غرض ہمارا ایک ایک پل یادِ الٰہی میں بسر ہو رہا تھا۔ ہر طرف رحمت ہی رحمت، ہر سمت برکت ہی برکت اور ہر سو نعمت ہی نعمت نظر آرہی تھی اور بالآخر رمضان المبارک ہم سے وداع ہوگیا۔
ماہِ رمضان المبارک کی رخصتی سے ہم دل گیر بھی ہوئے اور آبدیدہ بھی، افسردہ بھی ہوئے اور غمگین بھی مگر کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ رمضان المبارک ہماری زندگی میں کیوں آیا تھا...؟ صیام و قیامِ رمضان کا کیا مقصد تھا...؟ رمضان المبارک کے ہم سے کیا تقاضے تھے...؟ اور کیا ہم نے وہ تقاضے پورے کئے...؟ یہ اہم سوال ہیں جن کے جواب کیلئے ہمیں خود احتسابی کے ذریعے اپنی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لینا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم نے اس ماہ کی ساعتوں سے کس قدر فائدہ اٹھایا، ہم نے اپنے کھاتے میں کس قدر نیکیاں جمع کیں، ہم نے اپنے ذاتی احوال کی کتنی اصلاح کی، اپنے اعمال کو کتنا درست کیا اور اپنے اخلاق و اطوار کو کتنا پاکیزہ اور مزین کیا؟ کیا ہم نے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھا...؟ کیا ہم نے اپنے والدین رشتہ داروں اور ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا...؟ کیا ہم نے ماہِ صیام کے بعد بھی اعمالِ خیر پر کاربند رہنے کا عزم کیا...؟ اگر ہم خود احتسابی کے اس امتحان میں کامیاب قرار پائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم نے واقعی رمضان المبارک کے تقاضے پورے کئے، ورنہ ہمیں بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا۔
ماہِ صیام میں ہمارے شب و روز
ایک مسلمان کے شب و روز رمضان المبارک میں کس طرح گزرتے ہیں اور رمضان المبارک کے بعدکیسے گزرتے ہیں اس کا تقابلی جائزہ کچھ اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران ہر مسلمان نیکی اور خیر کے جذبے سے سرشار نظر آتا ہے۔ مساجد نمازیو ں سے بھر جاتی ہیں۔ ہر مسلمان نماز پنجگانہ جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لئے کوشاں نظر آتاہے۔ عبادات اور تلاوت قرآن کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ والدین، اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ دوستوں اور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جاتاہے، سحر و افطار میں غرباء و مساکین کو شاملِ شرب و طعام کیا جاتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے خوب سخاوت کی جاتی ہے۔ حسنِ اخلاق کا بہترین مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اپنے بیگانوں سب کے ساتھ عاجزی و ملنساری کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ بیماروں کی تیمار داری کے ساتھ ساتھ ان کے علاج معالجہ کے اخراجات کے فنڈز فراہم کیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کو باقاعدگی سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ غرض اس ماہ مبارک میں ہر مسلمان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ عمل خیر کا یہ جذبہ اور نیکی کا یہ داعیہ ماہ رمضان المبارک کی بدولت موجود ہوتاہے۔ ہر مسلمان فلسفہ صیام پر مقدور بھر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ ماہ صیام میں اخلاصِ نیت اور طہارتِ عمل کے باعث دل کا آئینہ کینہ وبغض اور حسدو عناد جیسے رذائل سے پاک اور صاف ہو جاتا ہے۔ ہر مسلمان فرمانِ رسولؐ پر عمل کرتے ہوئے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھنے کی سعی کرتا ہے۔
ماہ رمضان المبارک میں نیکیوں کے اس بہار کا دائرہ نہ صرف مساجد بلکہ گھر اور کوچہ و بازار تک وسیع ہو جاتا ہے۔ احترامِ رمضان میں نیکی کا جذبہ گھر اور دفتر یا کارخانہ میں بھی جاری رہتا ہے، ملازمین کو جلد چھٹی دے دی جاتی ہے تاکہ ان کی مشقت میں کمی ہو اور وہ جلد گھر پہنچ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ روزہ افطار کر سکیں۔رمضان المبارک میں ہر شخص نیکی اور خیر کے جذبہ سے سرشار نظر آتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔اسلامی کتب خانے جو سارا سال قارئین کی راہ تکتے رہتے ہیں رمضان میں آباد نظر آتے ہیں۔ علماء و واعظین کے دروس قرآن کا سلسلہ بھی پورا مہینہ جاری رہتا ہے۔ اور یہ سب بہت اچھا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انسانی عظمت کا حسن دینے کے سلیقے میں پوشیدہ ہے!

مگر اس کے بعد؟
 جونہی رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے لوگ اپنے سابقہ معمول پر واپس آجاتے ہیں۔ ان کے تیور یکسر بدل جاتے ہیں۔ ان کے لہجے کی مٹھاس اور شیرینی یکایک کڑواہٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان کی طبیعت کی نرمی اور خوش مزاجی ہوا ہو جاتی ہے اور وہ حسبِ سابق بد خو اور ترش رو ہو جاتے ہیں۔
مساجد میں مؤذن اور امام کے علاوہ محلے کے چند ضعیف العمر بزرگ جماعت کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ وہی مساجد جہاں چند روز قبل عبادت گزاروں کاہجوم رہتا تھا، آج وہاں بمشکل چند افراد نظر آتے ہیں۔
ایک مسلمان گھرانے کا جائزہ پیش کریں تو صورتِ حال کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک تمام افراد خانہ جس ذوق و شوق سے عبادتِ الٰہی میں مصروف نظر آتے تھے غیر رمضان میں وہ معدوم دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح دیگر دینی شعار اور اسلامی تعلیمات پر عمل میں بھی کمی ہوتی نظر آتی ہے۔کوچہ و بازار میں چہل پہل تو دکھائی دیتی ہے لیکن لوگوں کے احساسات میں واضح طور پر رمضان المبارک کے مقابلے میں تفاوت نظر آتا ہے۔ غرض ہم جس مقام پر بھی چلے جائیں ہمیں اِلا ما شاء اللہ اسی طرح کی صورت حال نظر آئے گی۔
ماہ صیام کے بعد کی اس صورت حال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد ہمارے معمولاتِ زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ کیا وجہ ہے کہ ماہِ صیام کے ’’روحانی ریفریشر کورس ‘‘ کے بعد بھی ہم میں سے اکثر افراد کی زندگی میں وہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ آیئے! ان اسباب اور عوامل کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی جس کا اسلام ان سے تقاضا کرتا ہے:
 (۱)اس کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی فلسفہ ٔ صوم کو اپنی عملی زندگی پر نافذ ہی نہیں کیا۔
(۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی اور معاشرتی زندگی ہر حوالے سے عدمِ توازن کا شکار ہے۔
(۳)تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم غیر مستقل مزاج ہیں۔
اگر ہم فلسفہ ٔ صوم کو عملی طور پر تمام شعبہ ہائے حیات پر نافذ کر لیں توباقی وجوہات کا ازالہ از خود ممکن ہے۔ یہ فلسفہ یعنی فلسفہ ٔ صوم کیا ہے؟ اسے جاننے کے لئے قرآنی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
اسلام چونکہ تعمیر ِ انسانیت اور فلاح انسانیت کا مذہب ہے اس لئے اس کی تمام تر تعلیمات کا مرکز و محور بھی یہی دو نکات ہیں۔ نماز، روزہ، جملہ عبادات اور تمام اعمالِ خیر کی اساس تقویٰ ہے۔ اسی تقویٰ کے ذریعے انسانی اخلاق و کردار کی تعمیر ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے:
’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔‘‘ (البقرة:۲۱)
متاعِ تقویٰ کی حفاظت
تقویٰ ایک ایک ایسی صفت ہے کہ جو انسان میں خیر اور شر، صحیح اور غلط، حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اس متاع گراں قدر کو بہترین زاد راہ قرار دیا گیا ہے۔
’’اور (آخرت کے) سفر کا سامان کرلو بے شک سب سے بہترزادِ راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو! میرا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ (البقرة:۱۹۷)
اسی طرح تقویٰ کو بہترین لباس قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح ظاہری لباس انسان کو سردی گرمی کے مضر اثرات اور ماحول کی آلودگیوں سے بچاتا ہے اس طر ح تقویٰ انسان کے باطن کو گناہ کی آلائشوں اور برے ماحول کے برے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے: ’’اور تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔‘‘ (الاعراف:۲۶)
ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان جس طرح رمضان المبارک میں تقوٰیٰ کا لباس پہن کر گناہوں کی آلودگی سے خود کو بچا لیتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ یہ لباس غیر رمضان میں بھی زیب تن کرے اور حسنِ اعمال کا سلسلہ کبھی رکنے نہ دے بلکہ اسے تا عمر جاری و ساری رکھے۔ نہ صرف وہ خود تقویٰ پر کاربند رہے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائے۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور گناہ اور معصیت کے کاموں میں عدم تعاون بھی اہلِ تقویٰ کی صفات میں سے ایک اہم صفت ہے جو معاشرتی اصلاح کے لئے ایک بہترین عمل ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کے وہ نیک اعمال زیادہ محبوب ہیں جن پر وہ مداومت اختیار کرتا ہے اور انہیں پابندی کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ فرائض کی تکمیل کے بعد وہ نیک اعمال خواہ مقدار میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں مگر ان پر بندے کا دوام ہو۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ َ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا:’’کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟‘‘آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔‘‘(صحیح البخاری، ج۵)
رمضان المبارک کے رخصت ہونے کے بعد ہمارے اعمالِ صالحہ کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہئے بلکہ طاعات و عبادات اور ریاضات و مجاہدات کا سلسلہ جاری رہے تب ہی ماہِ صیام کے بعد ہم اس ماہ مبارک کے روحانی ثمرات کو سمیٹ کر اپنی آئندہ زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی روشنی میں بسر کرسکتے ہیں۔ غور کیجئے ماہ صیام کے دوران ہم درج ذیل اوصاف کی تربیت حاصل کرتے ہیں :
(۱) صبر و استقامت(۲) ضبطِ نفس (۳) مجاہدۂ نفس (۴) محاسبۂ نفس (۵) عبادت و ریاضت (۶) خدمت ِ انسانیت (۷) اعمالِ خیر پر مواظبت (۸) حسن اخلاق (۹) حسنِ معاشرت (۱۰) معاشرتی برائیوں سے کنار ا کشی اور (۱۱) شہوات و خواہشاتِ نفسانیہ سے چھٹکارا۔
یہ اور اس جیسی بے شمار صفا ت ہیں جو رمضان المبارک میں ہماری تربیت کا حصہ رہی ہیں۔ ہم عام دنوں میں بھی اپنی شخصیت کو ان اوصاف سے آراستہ کر سکتے ہیں، اس کیلئے صرف عزم اور ارادہ کی ضرورت ہوگی۔ ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان تمام اعمال صالحہ اور امورِ خیر کو ماہِ صیام کے بعد بھی اپنی زندگی کے معمولات کے طور پر جاری رکھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مطالعہ ٔسیرت کیلئے مؤثر اور جامع ضابطوں کا تعین وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

تزکیۂ نفس
رمضان المبارک کے بعد ہمارا نفس ہمیں نیک اعمال سے روکنے کی کوشش کرے گا، لہٰذا ہمیں سب سے پہلا کام اپنے نفس کا تزکیہ کرنا ہے۔ نفس امارہ انسان کو برائی پر اکساتا رہتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشادفرماتا ہے: ’’اور میں اپنے نفس کی برأت (کا دعویٰ) نہیں کرتا، بے شک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرما۔‘‘ (یوسف:۵۳)
اگر ہمارے دل و دماغ میں یہ حقیقت راسخ ہوجائے کہ ایک دن ہمیں اپنے خالق و مالک کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے تو یہ ڈر ہمارے نفس کو بری خواہشات سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تزکیہ ٔ نفس کو انسان کی کامیابی و کامرانی اور فلاح و نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اس کو (رذائل سے) پاک کر لیا (اور اس میں نیکی کی نشو و نما کی)۔‘‘ (الشمس:۹)جس شخص نے اپنے نفس کو بری خواہشات اور معصیت کی میل کچیل سے پاک کر کے اس میں نیکی کے بیج کی آبیاری نہ کی وہ ناکا م نامراد ہوا۔ اس حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور بے شک وہ شخص نامراد ہوگیا جس نے اسے (گناہوں میں ) ملوث کر لیا (اور نیکی کو دبا دیا)۔‘‘ (الشمس:۱۰)۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم خیر کی راہ پر خود کو قائم رکھتے ہیں یا اس کے علاوہ راہ اختیار کرتے ہیں۔ راہ کے اختیار کرنے کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ ہم دُنیا و آخرت کی بھلائی چاہتے ہوں گے تو یقیناً ہمیں رمضان جیسا ہی بن کر رہنا ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK