رمضان المبارک ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنایا ہے۔
EPAPER
Updated: March 26, 2025, 10:21 AM IST | Khan Safiya Shareef | Mumabi
رمضان المبارک ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنایا ہے۔
یہ وہ خاص وقت ہے جب رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے اور ہر نیک عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ تاہم جیسے ہی رمضان کی برکتیں ہم پر نازل ہونا شروع ہوتی ہیں، ویسے ہی ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ تیزی سے گزر رہا ہے، جیسے ریت مٹھی سے پھسل رہی ہو۔ یہ وقت کی وہ حقیقت ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تیز رفتاری کے ساتھ اپنی عبادات اور اعمال کو بھی بہتر بنا رہے ہیں؟ یا ہم ایک بار پھر غفلت کے جال میں پھنس کر رمضان کو یوں ہی ضائع کر رہے ہیں؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب رمضان شروع ہوتا ہے تو اکثر لوگ عبادات، نماز، قرآن کی تلاوت اور نوافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ مساجد بھر جاتی ہیں، لوگ روزہ رکھ کر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور صدقہ و خیرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر جیسے جیسے دن گزرتے ہیں، ہماری مصروفیات اور دنیاوی ذمہ داریاں ہمیں اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیتی ہیں۔ ہم سحری اور افطار کی تیاریوں میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں کہ عبادات کی روحانی کیفیت کم ہونے لگتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ کچھ لوگ رمضان کے آغاز میں عبادات میں محنت کرتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ سستی اور کاہلی ان پر غالب آ جاتی ہے اور وہ پہلے جیسا جوش و خروش برقرار نہیں رکھ پاتے۔
یہ بھی پڑھئے: آج رائلز اور نائٹ رائیڈرس کے درمیان گھمسان
رمضان کی تیز رفتاری کا سب سے زیادہ احساس ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب آخری عشرہ قریب آ جاتا ہے۔ اچانک ہمیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ یہ بابرکت مہینہ ختم ہونے والا ہے، اور ہمارے پاس نیکیاں کمانے کے لئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، لیلۃ القدر جیسی عظیم رات ہماری قسمت بدلنے کے لئے آتی ہے مگر افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ان قیمتی لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نے رمضان کے آغاز ہی میں اپنی عبادات کا ایک منظم شیڈول بنایا ہوتا اور دنیاوی مصروفیات کو کم کیا ہوتا تو شاید ہمیں اس جلدی گزر جانے والے وقت کا افسوس نہ ہوتا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی ان نیک اعمال کو جاری رکھیں۔ رمضان درحقیقت ایک تربیتی کورس ہے جو ہمیں پورے سال کے لئے ایک بہتر مسلمان بنانے آتا ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں صبر، تقویٰ، قربانی اور سخاوت کو اپنایا تو ہمیں چاہئے کہ ان صفات کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ہی رمضان ختم ہوتا ہے، ہم اپنی پرانی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں اور وہی لاپروائی اور گناہ کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جس سے ہم نے رمضان میں توبہ کی تھی۔ اگر ہم واقعی رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اعمال کا مستقل جائزہ لینا ہوگا اور اس روحانی تربیت کو اپنی عادت بنانا ہوگا۔