Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

سائبرکرائم روکنے کیلئے ۷ء۸۱؍ لاکھ سم کارڈ اور۸۳؍ ہزار وہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک

Updated: March 28, 2025, 10:33 AM IST | New Delhi

وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے لوک سبھا میں یہ اطلاع دی ،۲۰۸۴۶۹؍ فرضی موبائل فون کے آئی ایس ای آئی نمبر بھی بلاک کرنے کے بارے میں بتایا۔

Minister of State for Home Affairs Sanjay Kumar. Photo: INN
وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار۔ تصویر: آئی این این

ملک میں سائبر جرائم اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے معاملے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ آئے دن پیش آ رہے اس طرح کے معاملات حکومت کیلئے سر درد بن چکے ہیں۔ ان پر قابو پانے کیلئے حکومت نے اب اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے  میں ۷ء۸۱؍لاکھ سم کارڈ اور۸۳؍ ہزار وہاٹس ایپ اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت  نے۳۹۶۲؍  اسکائپ آئی ڈی کو بھی بلاک کیا ہے۔ یہ اطلاع وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے لوک سبھا میں دی۔

یہ بھی پڑھئے: دسویں محراب سنارہے ہیں انجینئرحافظ شفیق بارودگر

انہوں نے بتایا کہ ۲۸؍ فروری ۲۰۲۵ء تک یہ کارروائی کی گئی ہے۔آن لائن فریب، فرضی سم کارڈ اور وہاٹس ایپ، اسکائپ جیسے پلیٹ فارمس کا استعمال کرکے سائبر فراڈ عناصر لوگوں  کو ٹھگ رہےتھے۔ یہ ٹھگ خود کو بینک افسر، پولیس یا سرکاری افسر بتا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہے تھے ۔ فرضی اکاؤنٹ کے ذریعہ ڈیجیٹل فراڈ کو انجام دیا جا رہا تھا ۔ حکومت نے فرضی موبائل ڈیوائسز پر بھی شکنجہ کستے  ہوئے ۲۰۸۴۶۹؍  موبائل فون کے آئی ایس ای آئی نمبر بلاک کر دیے ہیں۔ آئی ایس ای آئی نمبر ہر فون کی یونک پہچان ہوتی ہے جس سے اسے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب اب ٹھگوں کے فرضی فون بھی بلیک لسٹ میں ڈال دیے گئے ہیں۔انڈین سائبر کرائم کو آرڈی نیشن سینٹر(۱۴؍ سی) نے ۳۹۶۲؍اسکائپ آئی ڈی اور۸۳۶۶۸؍وہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک  کئے ہیں۔ یہ سبھی اکاؤنٹ ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر جرائم میں ملوث پائے گئے تھے ۔ یہ مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتا ہے اور آن لائن ٹھگی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے ایک اسپیشل ہیلپ لائن نمبر۱۹۳۰؍ لانچ کی ہے ۔ آن لائن فریب کا شکار اس نمبر پررابطہ کرسکتے ہیں۔
 اس کے علاوہ پورٹل
 https://cybercrime.gov.in پر آن لائن شکایت بھی درج کر سکتے ہیں۔ حکومت کے اس سسٹم کی مدد سے ا ب تک ۴۳۸۶؍کروڑ روپے ٹھگوں کے کھاتوں میں جانے سے بچائے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK