• Wed, 26 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں اساتذہ کی بھرتی میں بدعنوانی کا الزام، جانچ کا مطالبہ

Updated: February 26, 2025, 12:08 PM IST | New Delhi

کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں ۶۹؍ ہزار اساتذہ کی بھرتی میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمرے کے امیدواروں کو ۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍محفوظ سیٹوں پر ملازمت ملنی تھی لیکن ریزرویشن کا اطلاق صرف ۲۶۳۷؍ سیٹوں پر ہوا۔

Photo: INN
کانگریس کے رکن پارلیمان تنوج پونیا۔ تصویر: آئی این این

اترپردیش میں ایک اور گھوٹالا منظر عام پر آیا ہے۔ کانگریس نے اساتذہ کی بھرتی  میں بدعنوانی کاالزام عائد کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ریاست کی یوگی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ یوپی میں۶۹؍ ہزار اساتذہ کی بھرتی میں ریزرو کٹیگری کے بچوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہےکیونکہ ان کیلئے مقرر کردہ کوٹہ میں غیر محفوظ زمرے کے نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، اسلئے  اس معاملے کی اعلیٰ سطحی  جانچ ہونی چا ہئے۔
 کانگریس کے رکن پارلیمان تنوج پونیا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوپی حکومت کی طرف سے اساتذہ کی بھرتی کو ایک بڑا گھوٹالہ قرار دیا اور کہا کہ ریاستی حکومت محفوظ زمرے کے نوجوانوں کو دھوکہ دے رہی ہے اور انہیں ضابطوں کے مطابق بھرتی کے عمل میں ریزرویشن نہیں دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’یوپی میں ۶۹؍ ہزاراساتذہ کی بھرتی کا ایک نیا گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس بھرتی میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمرہ جات کے لوگوں کو ۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍ریزرو سیٹوں پر نوکری ملنی تھی لیکن ریزرویشن کا اطلاق صرف ۲۶۳۷؍ سیٹوں پر ہی ہوا۔ ان مخصوص نشستوں میں سے باقی ۱۵؍ ہزار ۸۶۳؍ نشستیں غیر محفوظ زمرے کے لوگوں کو  دےدی گئیں۔ یہ فیصلہ آئین میں دیئے گئے ریزرویشن پر حملہ ہے اور سماجی انصاف کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پٹنہ میںپی ایم سی ایچ کی صد سالہ تقریب

انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت دلت، درج فہرست ذات، او بی سی کمیونٹی کے لوگوں کو نوکریوں سے محروم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے والے طلبہ اور اساتذہ کو بھی دبایا اور کچل دیا۔ بابا صاحب امبیڈکر نے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کی بات کی تھی لیکن حکومت لوگوں کو اس سے محروم کر رہی ہے۔ ہمارے لیڈران انصاف کیلئے یہ جنگ لڑتے رہے ہیں اور اب بھی لڑ رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر مسلسل سماجی انصاف، شرکت، مردم شماری کی بات کرتے رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی ہمیشہ محروم طبقے کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ کانگریس پارٹی اس بھرتی گھوٹالہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘  کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ دلت برادری، قبائلی برادری اور او بی سی برادری کے اہل امیدواروں کا انتخاب مخصوص زمروں کی۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍خالی نشستوں کیلئے کیا جانا چاہئے۔ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے امیدواروں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور انہیں انصاف بھی ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس سماجی انصاف اور آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اس گھوٹالے میں لاکھوں نوجوانوں کے حقوق پر حملہ ہو رہا ہے، ان کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔ نوجوان کئی برسوں سے محنت کرکے نوکری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں روزگار نہیں مل رہا ہے ،  انہیں جلد از جلد انصاف اور روزگار ملنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK