• Wed, 26 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلڈانہ میں گنجے پن کی بیماری کا سبب ناقص اناج کا استعمال

Updated: February 26, 2025, 12:26 PM IST | buldana

ماہرین کے مطابق راشن کی دکانوں پر پنجاب سے آنے والا گیہوں تقسیم ہو رہا ہے جس میں ۶۰۰؍ گنا زیادہ سیلینیم ہے۔

Baldness due to wheat? Photo: INN
گیہوں کے سبب گنجا پن؟ تصویر: آئی این این

گزشتہ کچھ عرصے میں ودربھ کے بلڈانہ ضلع میں واقع کچھ گائوں میں  اچانک بال جھڑنے کی بیماری پھیلنے لگی ہے۔ شروع میں کہا گیا تھا کہ اس کی وجہ یہاں استعمال ہونے والا پانی ہو سکتا ہے لیکن اب تحقیقات کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ  بلڈانہ کے شیگائوں اور آس پاس میں راشن کی دکانوں پر تقسیم ہونے والا اناج اس بیماری کا سبب ہے۔  خاص کر یہاں تقسیم ہونے والے گیہوں میں سیلینیم کی مقدار بہت زیادہ ہے جو کہ بالوںکے جھڑنے کا سبب  ہو سکتی  ہے۔  
 یاد رہے کہ سیلینیم ایک کیمیائی عنصر ہے جو   عام طور پر پارا، تانبا، چاندی یا سیسہ جیسی دھاتوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دھات اور غیر دھات دونوں کی خصوصیات رکھتا ہے اور زمین کی کرسٹ میں نایاب مقدار میں پایا جاتا ہے۔دسمبر ۲۰۲۴ء سے فروری ۲۰۲۵ءکے درمیان بلڈھانہ کی تحصیل شیگاؤں میں ۲۵۰؍ تا ۳۰۰؍ افراد کے بال غیر معمولی طور پر جھڑ چکے ہیں۔ پبلک ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ اور میڈیکل ایجوکیشن  کے افسران اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: منترالیہ میں کسان کی خودکشی کی کوشش، ساتویں منزلہ سے حفاظتی جال پرگرا

اس دوران رائے گڑھ کے باوسکر اسپتال اور ریسرچ سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ہمت راؤ باوسکر جنہیں پدم شری ایوارڈ بھی مل چکا ہے  اس معاملے پر تحقیق کر رہے ہیں، ان  کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پنجاب اور ہریانہ سے آنے والی گیہوں میں پائے جانے والے سیلینیم کی زیادہ مقدار کی وجہ سے پیش آ رہا ہے۔  انہوں نے گیہوں کے ۱۸؍ نمونے تھانے کی ایک لیباریٹری میں بھیجا تھا۔ وہاں سے آئی رپورٹ میں معلوم ہوا کہ شیگائوں میں’ تقسیم ہونے والے گیہوں میں، نمایاں طور پر زیادہ سیلینیم پایا گیا ہے۔ گیہورں کی مقامی اقسام کے مقابلے پنجاب سے آنے والے گیہوں میں  ۶۰۰؍ گنا زیادہ سیلینیم موجود ہے۔ 
 مزید تجزیے سے معلوم ہوا کہ سیلینیم کی مقدار کسی بیرونی آلودگی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود اناج میں موجود تھی۔ ڈاکٹر باوسکر کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے پایا کہ گیہوں کے تھیلے پنجاب اور ہریانہ سے آئے ہیں۔ حکومت کو چاہئےکہ راشن پرگیہوں تقسیم کرنے سے پہلے اس کے نمونے ضرور چیک کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK