سنگھرش سمیتی کے قانونی مشیر نے الزام لگایا کہ حکومت نے زمین دیتے وقت گرام پنچایت سے این او سی تک نہیں لی۔۷؍ اپریل کو بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 3:28 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
سنگھرش سمیتی کے قانونی مشیر نے الزام لگایا کہ حکومت نے زمین دیتے وقت گرام پنچایت سے این او سی تک نہیں لی۔۷؍ اپریل کو بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان
تھانے شہر کے کوڑاکرکٹ کے مسئلے کا حل نکالنے کیلئے حکومت نے بھیونڈی تعلقہ کے پڑگھا کے قریب آتکولی گاؤں میں ڈمپنگ گراؤنڈ قائم کیا ہے جہاں روزانہ ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ پھینکا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر مقامی افرادسخت ناراض ہیں اوروہ حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔
واضح ہو کہ تھانے میونسپل کارپوریشن کے شیل-ڈاےگھر علاقے میں موجود ڈمپنگ گراؤنڈ کی گنجائش ختم ہونے کے بعد حکومت نے بھیونڈی تعلقہ کے موضع آتکولی میں سروے نمبر۴،۵،۱۳؍ اور ۱۴؍ کی۳۴ء۷۲؍ ہیکٹر زمین مختص کی ہے۔ تاہم اس فیصلے میں مقامی لوگوں کی رائے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ روزانہ۱۰۰؍ سے زائد گاڑیوں کے ذریعے یہاں ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ڈالا جا رہا ہے جس کی بدبو سے آتکولی اور آس پاس گاؤں کے مکین تعفن کے باعث سانس لینے میں تکلیف کے مسائل کا شکار ہیں نیز اس صورتحال سے وہ پریشان ہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مراٹھواڑہ اور وِدربھ میں ذخائر آب میں کمی ، پانی کیلئے ہاہاکار
ڈمپنگ مخالف تحریک اور احتجاج کا اعلان
اس فیصلے کے خلاف مقامی شہریوں نے `ڈمپنگ مخالف سنگھرش سمیتی قائم کی ہے جس کے کنوینر رمیش شیلار نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ۷؍ اپریل کو تمام سیاسی جماعتوں اور مقامی افراد کے اشتراک سے زبردست احتجاج کیا جائے گا۔
ماحولیات اور حفظان صحت سے متعلق خدشات
آتکولی گاؤں بھادانے گرام پنچایت کی حدود میں آتا ہے جس کی آبادی تقریباً ۴؍ہزار ہےجبکہ آس پاس کے دیہاتوں کی مجموعی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے۔ اس علاقے میں کئی قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے گودام قائم ہیں جہاں روزگار کی تلاش میں ہزاروں افراد آتے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اس اقدام کے ذریعے لاکھوں افراد کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔
متضاد حکومتی پالیسی
یہ علاقہ سمردھی مہامارگ اور ممبئی-ودودرہ مہامارگ سے جڑا ہوا ہے۔ مہاراشٹر روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو یہاں ۳۲؍ دیہاتوں کی ترقی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ممبئی کرکٹ اسو سی ایشن اسی علاقے میں ایک بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کر رہی ہے جبکہ قریب ہی تھانے رورل پولیس ہیڈکوارٹرز بھی بنایا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈمپنگ گراؤنڈ سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر’پسے ڈیم‘ واقع ہے جو ممبئی کو پانی فراہم کرتا ہے۔
قانونی پہلو اور حکومتی غفلت
سنگھرش سمیتی کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ سندیپ جادھو نے الزام لگایا کہ حکومت نے یہ زمین تھانے میونسپل کارپوریشن کو دیتے وقت مقامی گرام پنچایت سے این او سی تک حاصل نہیں کی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی دباؤ میں لیا گیا اور کسی بھی قانونی ضابطے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ سے بھی اس منصوبے کی باضابطہ منظوری نہیں لی گئی۔
آگے کا لائحہ عمل
مقامی افراد کی جانب سے وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ، مقامی نمائندوں اور ضلع مجسٹریٹ کو تحریری شکایات بھیجی گئی ہیں۔ سنگھرش سمیتی کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوراً اس مسئلے پر غور نہ کیا تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔