یونیورسٹی کیمپس میں دونوں طلبہ تنظیموں کے ممبران کی ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بیان دیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: February 27, 2025, 11:01 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
یونیورسٹی کیمپس میں دونوں طلبہ تنظیموں کے ممبران کی ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بیان دیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔
بدھ کو مہا شیو راتری کے ہندو تہوار کے موقع پر دہلی کی ساؤتھ ایشین یونیورسٹی (ایس اے یو) کی کینٹین میں گوشت پیش کئے جانے پر دو طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ایک دوسرے پر تصادم کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ ایس ایف آئی نے دعویٰ کیا کہ اے بی وی پی ممبران نے اپنے "سخت اور غیر جمہوری مطالبے کی تعمیل" نہ کرنے والے طلبہ پر حملہ کیا۔ اے بی وی پی نے الزام لگایا کہ ایس ایف آئی کارکنان نے "طالب علموں کو زبردستی نان ویج کروا کر ان کا روزہ توڑنے کی کوشش" کی۔ یونیورسٹی کیمپس میں دونوں طلبہ تنظیموں کے ممبران کی ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
پوسٹ گریجویشن کے سال دوم کے ایک طالب علم نے انگریزی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ایک دن قبل، اے بی وی پی ممبران نے ہندو تہوار کے دن کینٹین میں صرف ویج کھانا پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔ طالب علم نے بتایا کہ یونیورسٹی میں دو میس ہیں۔ ایک میس میں مچھلی کا سالن پیش کیا گیا تو مبینہ طور پر اے بی وی پی سے وابستہ کچھ طلبہ وہاں پہنچے اور مچھلی کا سالن چھیننے اور ہٹانے کی کوشش کی۔ میس کمیٹی کی ایک خاتون طالبہ نے اعتراض کیا لیکن انہوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ایس ایف آئی نے الزام لگایا کہ جب طالبہ اور اس کی سہیلیوں نے ڈین آف اسٹوڈنٹس کے دفتر سے شکایت کی تو عہدیداروں نے حملہ کا شکار بنے طلبہ پر الزام لگاتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک :ہائی کورٹ کی منظوری کے بعد آلند درگاہ میں مہاشیوراتری پوجا کا انعقاد
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، یونیورسٹی انتظامیہ نے بیان دیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، اے بی وی پی کے ریاستی سیکریٹری سارتھک شرما نے کہا کہ طلبہ کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جب یونیورسٹی انتظامیہ نے خود میس میں ویج کھانے کا انتظام کیا تو زبردستی نان ویجیٹیرین کھانا پیش کرنے کی کوشش نہ صرف غیر حساس ہے بلکہ نظریاتی دہشت گردی بھی ہے۔"