اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہلاک ہونے سے قبل متعدد فلسطینی بچوں نے اپنی وصیتیں لکھی تھیںجس میں انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ صہیونی مظالم کے سبب جاں بحق ہونےو الے ۸۲۵؍ فلسطینی بچے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیںمناسکے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2025, 5:33 PM IST | Gaza
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہلاک ہونے سے قبل متعدد فلسطینی بچوں نے اپنی وصیتیں لکھی تھیںجس میں انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ صہیونی مظالم کے سبب جاں بحق ہونےو الے ۸۲۵؍ فلسطینی بچے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیںمناسکے۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو ۲؍سال سے زیادہ کا عرصہ مکمل ہوگیا ہے پھر بھی فلسطینی خطے پر اسرائیلی مظالم برقرار ہیں۔اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ کئی فلسطینی بچے ایسے ہیں جنہوں نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی موت کے خوف سے اپنی وصیتیں لکھی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: جمعۃ الوداع کے موقع پر ریاست بھر میں وقف ترمیمی بل کیخلاف پرامن احتجاج
عمرکی وصیت
غزہ کے دیگر بچوں کی طرح عمرالجماسی نے بھی اپنی موت سے پہلے اپنی وصیت لکھی تھی۔ عمرنے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ ’’میں عمر الجماسی ہوں۔ میں نے عبداالکریم النرین نامی ایک لڑکے سے ایک شیکل کا قرض لیا تھا۔
عبدالکریم ابونفیظ کی گلیوں میں رہتا ہے۔ مجھے آپ سب سے بہت محبت ہے اورمجھے امید ہے کہ آپ لوگوں دعائیں کرنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگناکبھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ عمر اور اس کی بہن لایان ۱۸؍ مارچ ۲۰۲۵ء کو اسرائیلی فضائی حملے کے سبب اپنے دادا کےساتھ جاں بحق ہوگئے تھے۔
راشا العریر
۱۰؍ سالہ راشا العریر ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۴ءکے حملے میں اپنے بھائی احمدسمیت جاں بحق ہوگئی تھی۔ راشا العریر نے بھی اپنی موت سے پہلے وصیت لکھی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ ’’پلیز! میرے لئے مت رویئے گاکیونکہ جب میں آپ کو روتا دیکھتی ہوں تومجھے خوف محسوس ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرے کپڑے انہیں دے دیئے جائیں گے جن کو ان کی ضرورت ہے۔ میرے سامان راہاف، سارہ، جودی، لانااور بتول کے درمیان تقسیم کردیجئے گا۔ میرا پاکٹ منی ۵۰؍ شیکل راہاف اوراحمد میں آدھا آدھا تقسیم کردیجئے گا۔‘‘ جون ۲۰۲۴ءکو اپنے گھر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں راشا اور احمد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس ضمن میں راشا کے چچا عاصم النبی نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’’اس دنیامیں جنگی جرائم ناقابل معافی ہوں گے لیکن یہاں غزہ میں نہیں ہے۔ یہ دسیوں ہزاروں فلسطینیوں کے ساتھ جاں بحق ہونے والے ۲ ؍متاثر ہ بچے تھے۔‘‘
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی بچے
اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ۳۰؍ بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے جس کے مطابق ہر ۴۵؍ گھنٹے میں ایک فلسطینی بچےکی موت ہوئی ہے۔اسرائیل کی نسل کشی کے جنگ کے سبب تقریباً ۱۷ ؍ ہزار ۴۰۰؍ بچے جاں بحق ہوئےہیں جن میں تقریباً ۸۲۵؍ نوزائیدہ بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں منائی۔