اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی منظوری کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امداد میں اضافے، طبی سہولیات سے لیس اسپتالوں کے قیام اور مریضوں کے انخلاکے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 19, 2025, 5:04 PM IST | Gaza
اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی منظوری کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امداد میں اضافے، طبی سہولیات سے لیس اسپتالوں کے قیام اور مریضوں کے انخلاکے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ پٹی میں جنگ بندی کی منظوری کے بعد عالمی ادارہ صحت نے امداد میں اضافے، طبی سہولیات سے لیس اسپتالوں کے قیام اور مریضوں کو نکالنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے رک پیپر کو رن نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کے تحت غزہ تک امداد کی ترسیل کو یومیہ۶۰۰؍ کے قریب ٹرک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت اگلے دو مہینوں کے دوران غزہ میں تباہ حال صحت کے شعبے کی مدد کیلئے تیار شدہ اسپتالوں کی ایک غیر متعینہ تعداد کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ ۱۲؍ہزارسے زیادہ مریضوں کے طبی انخلاء میں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’فلسطین آزادی کے قریب ہے، اسرائیل ناکام ہوگیا‘‘
یاد رہے کہ یہ معاہدہ بدھ کو قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی کی کوششوں کے بعد طے پایا تھا۔ معاہدہ ۳؍ مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے دوران ۳۳؍ اسرائیلی قیدیوں، جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور بیمار شامل ہیں کا متعدد فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں غزہ پٹی سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلاء کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں تباہ شدہ فلسطینی علاقے غزہ سے اسرائیلی فوج کےمکمل انخلا اور امداد میں اضافہ شامل ہوگا۔ تیسرا مرحلہ غزہ کی تعمیر نو کی راہ ہموار کرتا ہے۔