پرشانت کورٹکر نامی شخص نے چھترپتی شیواجی کا تذکرہ بھی توہین آمیز انداز میں کیا ، کہا ’’جتنے چاہے مراٹھا جمع کرلو آئندہ برہمنوں کے خلاف بولاتو گھر میں گھس کر ماریں گے‘‘
EPAPER
Updated: February 26, 2025, 12:31 PM IST | kolhapur
پرشانت کورٹکر نامی شخص نے چھترپتی شیواجی کا تذکرہ بھی توہین آمیز انداز میں کیا ، کہا ’’جتنے چاہے مراٹھا جمع کرلو آئندہ برہمنوں کے خلاف بولاتو گھر میں گھس کر ماریں گے‘‘
معروف تاریخ داں اور محقق اندر جیت ساونت کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ دھمکی دینے والے کا الزام ہے کہ اندر جیت ساونت برہمنوں کو بدنام کر ہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ فون کرنے والے نے برہمن کے طور پر دیویندر فرنویس کا بھی نام لیا ہے۔ دشنام طرازی کے دوران پرشانت کورٹکر نامی اس شخص نے چھترپتی شیواجی کا نام بھی توہین آمیز انداز میں لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کولہاپور کے ایس پی کو فون کیا ہے اور اندر جیت ساونت کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ اندر جیت ساونت مراٹھی کے ایک تاریخ داں اور محقق ہیں۔ وہ عام طور پر فلموں اور ڈراموں میں تاریخ کو غلط انداز میں پیش کئے جانے پر کھل کر بولتے ہیں۔ جب مہایوتی کی گزشتہ میعاد میں وزیر سدھیر منگنٹی وار نے لندن کے ایک میوزیم میں رکھے چھترپتی شیواجی کے استعمال کردہ شیر کے ناخن کو ہندوستان لانے کا دعویٰ کیا تھا تو یہ اندر جیت ساونت ہی تھے جنہوں نے خط لکھ کر میوزیم سے استفسار کیا تھا اور یہ حقیقت عوام کو بتائی تھی کہ میوزیم کے پاس چھترپتی شیواجی کا استعمال کردہ شیر کا کوئی ناخن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر دائیں بازو کے شرپسندوں کے نشانے پر رہتے ہیں ۔ حال میں ریلیز ہو ئی فلم ’چھاوا‘ کے پس منظر میں انہوں نے ٹیلی ویژن چینلوں پر کئی بار گفتگو کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ برہمنوں نے چھترپتی سمبھاجی کو بدنام کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔
منگل کو اندر جیت ساونت نے اپنے فیس بک پیج پر ایک آڈیو کلپ شیئر کی اور بتایا کہ انہیں پرشانت کورٹکر نامی ایک شخص نے فون کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ مگر میں اس طرح کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ فون کرنے والا شخص کہہ رہا ہے کہ ’’ تم برہمنوں کو بدنام کرنا چھوڑ دو، یہ بات یہ یاد رکھو کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس بھی برہمن ہیں، تم اس وقت ایک برہمن شخص کی حکومت میں کام کر رہے ہو۔‘‘ وہ شخص اندر جیت ساونت کو بولنے کا موقع نہیں دیتا اور کہتا چلا جاتا ہے کہ’’تمہیں تاریخ کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ چھترپتی شیواجی کے اشٹ پردھان ( ۸؍ وزراء) برہمن تھے۔ ‘‘ اس دوران وہ چھترپتی شیواجی کا تذکرہ توہین آمیز انداز میں کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے ’’ اگر بھالجی پنڈھارکر نہیں ہوتے تو تمہارے چھترپتی کو کوئی پہچانتا تک نہیں تھا۔ ‘‘ ایک اور جگہ وہ کہتا ہے ’’ باجی پربھو نے اپنی جان دے کر چھترپتی شیواجی کی جان بچائی تھی۔ تمہارے چھترپتی تو بھاگ گئے تھے۔ ‘‘ جب اندر جیت ساونت اسے سخت جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ گالی گلوج پر اتر آتا ہے۔ وہ کھل کر ماں بہن کی گالیاں دینے لگتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ تو کولہاپور میں کہیں بھی رہ، تیرے گھر میں گھس کر ماریں گے۔ جتنے چاہے اتنے مراٹھا جمع کر لینا ہم برہمنوں کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ‘‘ اس نے یہ بھی کہا کہ ’’ یہ میرا آخری فون ہے۔ اس کے بعد ایک لفظ بھی اگر برہمنوں کے تعلق سے کہا تو تیرے گھر میں گھس کر ماریں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ میںپی ایم سی ایچ کی صد سالہ تقریب
فرنویس کا کولہاپور کے ایس پی کو فون
اندر جیت ساونت کا شیئر کیا ہوا ویڈیو کلپ وائرل ہوا تو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے خود اس کا نوٹس لیا اور کولہاپور کے ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو فون لگایا۔ انہوں نے ایس پی کو حکم دیا کہ اندر جیت ساونت کو سیکوریٹی فراہم کی جائے اور دھمکی دینے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اسی دوران ناگپور کے رہنے والے پرشانت کورٹکر نامی شخص نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اندر جیت ساونت کو کسی طرح کی کوئی دھمکی دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ میرے نام کا کوئی غلط استعمال کر رہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی نے ایسی حرکت کی ہے۔ ‘‘ کورٹکر کا کہنا ہے کہ ’’ میں اندر جیت ساونت کو جانتا تک نہیں ہوں۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ پہلے مجھے فون کرکے تصدیق کرتے اسکے بعد فیس بک پوسٹ کرتے۔ ‘‘ یاد رہے کہ اندرجیت ساونت کو دھمکی دینے والے شخص نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’ میں پرشانت کورٹکر بول رہا ہوں، گوگل پر میرا نام سرچ کر لینا۔‘‘