Updated: April 04, 2025, 10:08 PM IST
| Gaza
اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی نے وہ صورتحال پیدا کر دی ہے جسے اب جدید تاریخ کا سب سے بڑا یتیموں کا بحران کہا جا رہا ہے۔۵؍ اپریل کو فلسطینی چائلڈ ڈے سے قبل جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،۵۰۰؍ دن سے زائد کی بمباری کے نتیجے میں تقریباً۳۰۳۸۴؍ فلسطینی بچے ایک یا دونوں والدین سے محروم ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی نے وہ صورتحال پیدا کر دی ہے جسے اب جدید تاریخ کا سب سے بڑا یتیموں کا بحران کہا جا رہا ہے۔۵؍ اپریل کو فلسطینی چائلڈ ڈے سے قبل جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،۵۰۰؍ دن سے زائد کی بمباری کے نتیجے میں تقریباً۳۰۳۸۴؍ فلسطینی بچے ایک یا دونوں والدین سے محروم ہو چکے ہیں۔ صرف اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک، تقریباً۱۷۰۰۰؍ بچوں نے اپنے والدین کھو دیے ہیں۔ گھر ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں اورخاندان تتر بتر ہو گئے ہیں، یہ بچے اب خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں کے کھنڈرات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ تو دیکھ بھال میسر ہے، نہ ہی تعاون اور نہ ہی تحفظ۔
یہ بھی پڑھئے: اطالوی اپوزیشن لیڈر کا اسرائیل پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی کا مطالبہ
غزہ میں بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے: تقریباً۱۸۰۰۰؍ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سیکڑوں نوزائیدہ اور شیر خوار بچے شامل ہیں۔ اس جنگ نے نہ صرف ان کے والدین کو چھین لیا ہے، بلکہ ان کا بچپن، ان کی سلامتی اور ان کا مستقبل بھی چھین لیا ہے۔