جوابی کارروائی میں حملہ آور کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد اردن کے ساتھ مغربی کنارے کی ’کنگ حسین کراسنگ ‘ اسرائیل نے بند کر دی۔ نیتن یاہو نے اسے مشکل دن قرار دیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2024, 11:53 AM IST | Agency | Tel Aviv-Yafo
جوابی کارروائی میں حملہ آور کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد اردن کے ساتھ مغربی کنارے کی ’کنگ حسین کراسنگ ‘ اسرائیل نے بند کر دی۔ نیتن یاہو نے اسے مشکل دن قرار دیا۔
فلسطین حامی ۲؍ لاکھ سے زائد افراد نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ پولیس نے ۸؍ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ احتجاج کا آغاز وسطی لندن کی ریجنس اسٹریٹ سے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف ہوا جس کے بعد منتظمین اور برطانوی پولیس کے درمیان جلوس کے وقت اور راستے پر تنازع ہوا کیونکہ منتظمین نے وقت میں تبدیلی اور کچھ پابندیاں عائد کرنے کی سرکاری کوشش کی شکایت کی تھی۔ یہ احتجاج ’نسل کشی ختم کرو، اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کرو، مشرق وسطیٰ میں جنگ نہیں، اسلامو فوبیا ناقابل قبول‘ جیسے نعروں کے تحت کیا گیا۔
اس موقع پر مقررین نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول اور اسپتال مسلسل اسرائیلی حملوں کی زد میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں اسرائیل کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مظاہرہ ان احتجاجی مظاہروں کا حصہ ہے جس میں برطانیہ کو فلسطینیوں کے ساتھ عالمی یکجہتی کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آج جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ، آن لائن گیمنگ پر ٹیکس کے معاملے پرغور
مظاہرین نے فلسطینی پرچم کے علاوہ بینرس اٹھا رکھے تھے جن پر نسل کشی کی جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ لندن میں پہلی بار واضح نعرے لگائے گئے جس میں مسلمانوں کے خلاف افواہوں کے بعد انتہا پسند دائیں بازو کی طرف سے کئے گئے حالیہ فسادات کے بعد ملک میں بڑھتے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
دریں اثناء لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے خلاف ہزاروں لوگوں کے احتجاج کے دوران ۸؍ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ڈیلی میل کی خبر کے مطابق یہ مارچ کچھ دیر کیلئے اس وقت رک گیا جب حماس کی مذمت کے بینرس اٹھائے ہوئے کچھ لوگ اس میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔
لندن پولیس نے ٹویٹر پر کہا کہ ’’آج کے احتجاج کے دوران کل ۸؍ گرفتاریاں کی گئیں۔ ۶؍فلسطینی حامی مارچ میں شریک ہونے والے لوگ تھے۔ گرفتاریوں میں سے ۲؍ کا تعلق ان مظاہرین سے ہے جنہیں امن وامان میں خلل ڈالنے اور پولیس افسران پر حملہ کرنے کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔