• Sun, 23 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: ریوا کی عدالت میں لو جہاد کا الزام لگا کر ایک جوڑے پر وکلاء کا حملہ

Updated: February 22, 2025, 5:10 PM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش کے ریوا کی ضلع عدالت میں اپنی شادی رجسٹر کرانے گئے جوڑے پر وکلاء نے لو جہاد کا الزام لگا کر حملہ کر دیا۔ ایک مہینے میں بین المذاہب جوڑے پر یہ دوسرا حملہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پولیس کے مطابق ریوا کی ضلع عدالت میں مسلم مرد اور ہندو خاتون اپنی شادی رجسٹر کرنے آئے، تاہم خاتون نے برقع پہنا تھا۔جب ا س نے اپنا نام ظاہر کیا تو کچھ وکلاء نے مسلم شخص کا آدھارکارڈ دیکھنے کا مطالبہ کیا، تاکہ اس کے مذہب کی شناخت کی جا سکے۔جب انھیں معلوم ہوا کہ شخص مسلم ہے تو انہوں نے لو جہاد کا الزام لگا کر مسلم شخص پر حملہ کردیا۔جس کے بعد مزید وکلاء اس میں شامل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: سنبھل میں احتجاج کی سازش یو اے ای میں رچی گئی، پولیس جانچ میں دعویٰ

جب پولیس کو مطلع کیا گیا تو سول لائن ایس ایچ او کملیش ساہو تین اہلکاروں کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ انہوں نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’’ خاتون کا نام ہندو تھا، اور اس نے برقع پہنا تھا، اسلئے وکلاء ناراض ہو گئے۔ وہ ایک اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتی تھی،انہیں ماراپیٹا گیا، اور دھکے دئے گئے۔‘‘ پولیس نے مزید بتایا کہ’’ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، اور شادی کرنا چاہتے تھے۔مرد مزدوری کرتا ہے۔ اب تک ان کے والدین سامنے نہیں آئے ہیں۔ ہم انہیں بچانے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

پولیس دونوں کو بھیڑ سے بچا کر لے آئی،مسلم شخص کے کپڑے پھٹ چکے تھے، خاتون کو پولیس کی جیپ کے ذریعے قریب ترین محفوظ مقام پر لے جایا گیا۔پولیس نے نا معلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔دریں اثنا، ریوا بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے میں وکلا کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس ماہ اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بھوپال کی عدالت میں اپنی شادی رجسٹر کرانے گئے ایک بین المذاہب جوڑے پر دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے تشدد کیا تھا۔ انہوں نے مسلم شخص پر لو جہاد کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے زد و کوب کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK